ہندوستان کی مشہور خاتون مکے باز لولینا بورگوہین نے اپنی اکیڈمی پر توجہ دینے کیلئے باکسنگ سے ریٹائر ہونے کا ارادہ کیا تھا لیکن پیرس اولمپکس میں میڈل نہ جیت پانے کی وجہ سے انہوں نے یہ فیصلہ ملتوی کر دیا۔
EPAPER
Updated: September 01, 2025, 12:49 PM IST | Agency | New Delhi
ہندوستان کی مشہور خاتون مکے باز لولینا بورگوہین نے اپنی اکیڈمی پر توجہ دینے کیلئے باکسنگ سے ریٹائر ہونے کا ارادہ کیا تھا لیکن پیرس اولمپکس میں میڈل نہ جیت پانے کی وجہ سے انہوں نے یہ فیصلہ ملتوی کر دیا۔
ہندوستان کی مشہور خاتون مکے باز لولینا بورگوہین نے اپنی اکیڈمی پر توجہ دینے کیلئے باکسنگ سے ریٹائر ہونے کا ارادہ کیا تھا لیکن پیرس اولمپکس میں میڈل نہ جیت پانے کی وجہ سے انہوں نے یہ فیصلہ ملتوی کر دیا۔ آسام سے تعلق رکھنے والی یہ باکسر آئندہ عالمی چمپئن شپ کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر واپسی کرنے کیلئے تیار ہیں اور ان کا ہدف اولمپکس میں اپنا دوسرا میڈل جیتنا ہے۔
ٹوکیو اولمپکس میں کانسے کا تمغہ جیتنے والی لولینا گزشتہ سال اگست میں پیرس اولمپکس کے بعد سے کسی بھی بین الاقوامی مقابلے میں حصہ نہیں لیا ہے۔ رِنگ سے دور رہنے کے دوران انہوں نے اپنی اکیڈمی قائم کرنے پر توجہ مرکوز کی، جس کا افتتاح جون میں گوہاٹی میں ہوا۔
لولینا نے بتایا’’جب میں نے اپنی اکیڈمی شروع کرنے کے بارے میں سوچا، تو میں نے پیرس (اولمپکس) تک کھیلنے کا منصوبہ بنایا تھا اور اس کے بعد میں ریٹائر ہو سکتی تھی۔ لیکن پیرس میں نتائج وہ نہیں رہے جو میں نے سوچے تھے۔ اگر میں وہاں میڈل جیت جاتی تو کھیل کو الوداع کہہ سکتی تھی۔‘‘
فرانس کے دارالحکومت میں۲۷؍سالہ لولینا اپنا دوسرا اولمپک میڈل جیتنے کے بہت قریب پہنچ گئی تھیںلیکن خواتین کے مڈل ویٹ (۷۵؍ کلوگرام) کوارٹر فائنل میں انہیں چینی چمپئن لی کیان سے شکست ہو گئی۔جب لولینا سے پوچھا گیا کہ کیا ۲۰۲۸ء کا اولمپکس ان کا آخری ٹورنامنٹ ہو سکتا ہے تو انہوں نے کہا’’ہاں، یہ ممکن ہے۔ میں پیرس اولمپکس میں بھی گولڈ میڈل جیت سکتی تھی، کیونکہ پوڈیم تک پہنچنے والی تمام کھلاڑیوں کو میں پہلے ہرا چکی تھی۔ اس سے میرے کھیل کی سطح کا پتہ چلتا ہے۔ میں اولمپک میڈل جیت سکتی ہوں۔‘‘
لولینا ۴؍ستمبر سے لیورپول میں شروع ہونے والی عالمی چمپئن شپ میں حصہ لیں گی لیکن انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ اس مقابلے کے لئے ان کی تیاری محدود رہی ہے۔انہوں نے کہا’’میں ایک طویل وقفے کے بعد بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنے جا رہی ہوں۔ ‘‘