لکھنؤ اوربنگلور کو ہر میچ جیتنا لازمی، گجرات اور راجستھان کے پاس ۲۔۲؍موقع

Updated: May 23, 2022, 1:05 PM IST | Agency | Mumbai

آئی پی ایل :گجرات، راجستھان، لکھنؤ اور بنگلور کی ٹیمیں پلے آف میں پہنچ چکی ہیں۔ پلے آف میچ۲۴؍ مئی سے شروع ہونے والے ہیں اور خطاب کی جنگ مزید مشکل ہونے والی ہے

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

آئی پی ایل ۲۰۲۲ء اپنے آخری مرحلے میں پہنچ گیا ہے۔ لیگ مرحلے میں ایک میچ باقی رہتے  اس کے آف پوزیشن کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ گجرات، راجستھان، لکھنؤ اور بنگلور کی ٹیمیں پلے آف میں پہنچ چکی ہیں۔ پلے آف میچ ۲۴؍ مئی سے شروع ہو رہے ہیں اور خطاب کی جنگ مزید مشکل ہونے جا رہی ہے۔ گجرات اور راجستھان کو پورے سیزن میں اچھی کارکردگی پیش کرنے کا فائدہ ہوگا اور ان ٹیموں کے فائنل میں پہنچنے کے ۲؍ امکانات ہیں۔ اس کے ساتھ ہی آر سی بی اور لکھنؤ کو چمپئن بننے کےلئے لگاتار ۳؍ میچ جیتنے ہوں گے۔ خیال رہے کہ آئی پی ایل کے پلے آف کا شیڈول جاری ہوگیا ہے۔ کسی ٹیم کے لئے چمپئن بننے کا راستہ کتنا مشکل ہے۔
 گجرات کا آسان ترین راستہ
 چمپئن بننے کا راستہ گجرات کے لئے سب سے آسان ہے جس نے پورے ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ گجرات کو پہلے کوالیفائر میں راجستھان سے مقابلہ کرنا ہے۔ راجستھان کے خلاف گجرات کا ریکارڈ شاندار ہے۔ یہ دونوں ٹیمیں ایک بار آمنے سامنے ہو چکی ہیں اور گجرات نے یہ میچ۳۷؍ رن کے فرق سے جیتا تھا۔ گجرات کے پاس فائنل میں پہنچنے کے دو مواقع ہیں۔ اگر یہ ٹیم ۲؍ میں سے کوئی ایک میچ جیتتی ہے تو وہ فائنل میں جگہ بنا لے گی۔ راجستھان کے علاوہ گجرات کو لکھنؤ یا آر سی بی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان دونوں ٹیموں کے خلاف بھی گجرات کا ریکارڈ شاندارہے۔ گجرات نے لکھنؤ کے خلاف ۲؍ میچ کھیلے ہیں اور دونوں میچ ۵؍ وکٹ اور۶۲؍رن سے جیتے ہیں  تاہم آر سی بی کے خلاف گجرات کو کچھ پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان دونوں ٹیموں کے درمیان ۲؍ میچ بھی ہو چکے ہیں۔ گجرات نے پہلا میچ ۶؍ وکٹ سے جیتا تھا جبکہ دوسرا میچ آر سی بی نے ۸؍ وکٹ سے جیت لیا تھا۔ آر سی بی کے وراٹ کوہلی نے دونوں میچوں میں نصف سنچریاں اسکور کی ہیں۔ ایسے میں وہ پلے آف میں بھی بڑی اننگز کھیل کر گجرات کا چمپئن بننے کا خواب توڑ سکتے ہیں ۔
 راجستھان کیلئے بھی زیادہ مشکلات نہیں  
 راجستھان کی ٹیم کیلئے پلے آف کی راہ زیادہ مشکل نہیں ہے، جو اپنا آخری میچ جیت کر پوائنٹس ٹیبل پر دوسرے نمبر پر ہے۔ یہ ٹیم پہلے کوالیفائرمیں گجرات سے مقابلہ کرے گی۔ جیت براہ راست فائنل میں پہنچا دے گی جب کہ ہارنے والا آر سی بی یا لکھنؤکے خلاف کھیلے گا۔ گجرات کے خلاف راجستھان کا ریکارڈ اچھا نہیں ہے لیکن آر سی بی یا لکھنؤ کو ہرانا راجستھان کے لئے زیادہ مشکل نہیں ہوگا۔ اس سیزن میں آر سی بی اور راجستھان کے درمیان دو میچ ہوئے ہیں، پہلا میچ آر سی بی نے ۴؍ وکٹ سے جیتا تھا، لیکن دوسرا میچ راجستھان نے۲۹؍ رن سے جیتا تھا۔ لکھنؤ اور راجستھان نے آپس میں ۲؍ میچ کھیلے ہیں اور دونوں میچ راجستھان کے نام رہے ہیں۔ پہلے میچ میں راجستھان نے ۳؍ رن سے اور دوسرے میچ میں۲۴؍ رن سے کامیابی حاصل کی تھی۔ راجستھان کے پاس بھی فائنل میں پہنچنے کے ۲؍ مواقع ہیں اور یہ ٹیم آسانی سے فائنل میں جگہ بنا سکتی ہے۔
لکھنؤ سپرجائنٹس کی راہ مشکل
 لکھنؤ کی ٹیم نے پورے سیزن میں اچھا کھیل دکھایا تھا لیکن اب اس ٹیم کا راستہ مشکل ہو گیا ہے۔ لکھنؤ کو چمپئن بننے کے لئے لگاتار ۳؍ میچ میں کامیابی حاصل کرنی ہوگی۔ پہلے اسے آر سی بی کو ہراناہے اور پھر راجستھان اور گجرات کو بھی ہرانا ہے۔ گجرات اور راجستھان کے خلاف لکھنؤ کا ریکارڈ اچھا نہیں ہے۔ یہ ٹیم گجرات اور راجستھان کے خلاف دونوں میچ ہار چکی ہے۔ ساتھ ہی اس سیزن میں آر سی بی کے خلاف میچ کھیلا اور اسے۱۸؍ رن سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
 چمپئن بننے کے لئے لکھنؤکو وہ کچھ کرنا ہوگا جو اس نے آج تک نہیں کیا۔ لکھنؤ کو آر سی بی، راجستھان اور گجرات کی ٹیموں کو ہرانا ہوگا جبکہ یہ ٹیم اب تک ایسا نہیں کر پائی ہے۔ تاہم لکھنؤ کیلئے یہ راحت کی بات ہے کہ اس سیزن میں اس ٹیم نے دو بار لگاتار ۳؍ یا اس سے زیادہ میچ جیتے ہیں۔
 آر سی بی کا سفر بہت مشکل  
 لکھنؤ سپرجائنٹس کی طرح آر سی بی کیلئے چمپئن بننے کا راستہ آسان نہیں ہے۔ اس ٹیم کو بھی خطاب جیتنے کیلئے لگاتار ۳؍ میچ جیتنے ہوں گے۔ پہلے میچ میں آر سی بی کو لکھنؤ کو ہرانا ہوگا۔ دونوں ٹیمیں ایک بار آمنے سامنے آ چکی ہیں اور یہ میچ آر سی بی نے جیتا تھا۔ ایسے میں پہلا میچ آر سی بی کیلئے آسان ہو سکتا ہے لیکن پہلے میچ میں راجستھان کو شکست دینے والی آر سی بی کو دوسرے میچ میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ یہاں آر سی بی مشکل میں پڑ سکتا ہے۔ آر سی بی کا ریکارڈ گجرات کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے، پہلے میچ میں ہارنے والی آر سی بی نے دوسرا میچ جیتا تھا۔ ایسے میں پلے آف میں جانے کا راستہ آر سی بی کیلئے بھی آسان نہیں ہوگا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK