Updated: April 03, 2026, 12:00 PM IST
| Paris
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوجی کارروائی کے ذریعے کھولنا غیر حقیقی ہے اور یہ صرف ایران سے مشاورت کے ذریعے ممکن ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی نیٹو اتحادیوں پر تنقید اور تبصروں کے جواب میں امن کے قیام پر زور دیا۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون۔ تصویر: آئی این این
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو زبردستی کھولنے کیلئے فوجی کارروائی کرنا غیر حقیقی ہوگا، اس کے بعد کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکی اتحادیوں کو اس کی بحالی کیلئے کام کرنے کی چیلنج دی تھی۔ میکرون نے جمعرات کو جنوبی کوریا کے دورے کے دوران صحافیوں سے کہا’’کچھ لوگ آبنائے ہرمز کو فوجی کارروائی کے ذریعے آزاد کرنے کے خیال کی حمایت کرتے ہیں، ایک موقف جو بعض اوقات امریکہ کی جانب سے ظاہر کیا جاتا ہے، حالانکہ یہ مختلف رہا ہےیہ کبھی بھی ہمارا اختیار نہیں رہا کیونکہ یہ غیر حقیقی ہے۔ اس میں بہت وقت لگے گا، اور اس سے اسٹریٹ سے گزرنے والے تمام لوگوں کو ’گارڈینز آف دی ریولوشن‘ کے خطرات کے علاوہ بیلسٹک میزائلوں کے خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایران کا ٹرمپ کی ’پتھر کے زمانے‘ کی دھمکی پر دوٹوک جواب، امریکہ کو خبردار کیا
میکرون نے کہا کہ انہوں نے یورپی اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایک اتحاد بنایا ہے تاکہ میزائل حملوں کے ختم ہونے کے بعد ہرمز کے ذریعے آزادانہ گزر کو یقینی بنایا جا سکے، اور یہ صرف ایران سے بات چیت کے ذریعے ممکن ہے۔انہوں نے مزید کہا ’’ہم شروع سے یہی کہتے آئے ہیں کہ یہ اسٹریٹ دوبارہ کھلنا چاہئے کیونکہ یہ توانائی کے بہاؤ، کھاد اور بین الاقوامی تجارت کیلئے اسٹریٹجک ہے، لیکن یہ صرف ایران سے مشاورت کے ذریعے ممکن ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ جنگ کے درپے، پزشکیان امن کے خواہاں
’ہم امن چاہتے ہیں‘
ٹرمپ کے نیٹو اتحادیوں پر تنقید اور اتحاد سے امریکی انخلا کی دھمکی کے بارے میں پوچھے جانے پر، میکرون نے کہا:’’میں اس کارروائی پر مسلسل تبصرہ نہیں کرنا چاہتا جو امریکیوں نے خود اسرائیل کے ساتھ فیصلہ کی ہے۔ وہ اس بات پر افسوس کر سکتے ہیں کہ انہیں مدد نہیں ملی، لیکن یہ ہماری کارروائی نہیں ہے۔ ہم جلد از جلد امن چاہتے ہیں۔‘‘میکرون نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے ان اور ان کی اہلیہ بریجٹ کا مذاق اڑانا ’ناشائستہ اور اس لمحے کے مطابق نہیں‘ تھا۔انہو ں نے کہا’’میں جواب نہیں دوں گا،یہ جواب دینے کے قابل نہیں ہے۔‘‘