Updated: September 22, 2026, 7:08 PM IST
| London
انگلینڈ کے تیز گیندباز مارک ووڈ نے طویل عرصے سے انجریز سے دوچار رہنے کے بعد ۳۶؍ سال کی عمر میں بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بین الاقوامی کریئر کے ۱۴۶؍ میچوں میں مجموعی طور پر ۲۵۳؍ وکٹیں حاصل کیں، جن میں ۳۸؍ ٹیسٹ میچوں میں ۷۹ء۳۰؍ کی اوسط سے حاصل کی گئی ۱۱۹؍ وکٹیں بھی شامل ہیں۔
مارک ووڈ۔ تصویر:آئی این این
انگلینڈ کے تیز گیندباز مارک ووڈ نے طویل عرصے سے انجریز سے دوچار رہنے کے بعد ۳۶؍ سال کی عمر میں بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بین الاقوامی کریئر کے ۱۴۶؍ میچوں میں مجموعی طور پر ۲۵۳؍ وکٹیں حاصل کیں، جن میں ۳۸؍ ٹیسٹ میچوں میں ۷۹ء۳۰؍ کی اوسط سے حاصل کی گئی ۱۱۹؍ وکٹیں بھی شامل ہیں۔ ووڈ انگلینڈ کے تیز ترین گیندبازوں میں شمار ہوتے ہیں اور ۲۰۱۵ء کی ایشیز،۲۰۱۹ء کے ون ڈے ورلڈ کپ اور ۲۰۲۲ء کے ٹی-۲۰؍ ورلڈ کپ جیتنے والی انگلینڈ کی ٹیم کے اہم رکن رہے ہیں۔
۲۰۲۵ء کی چیمپئنز ٹرافی میں گھٹنے کی انجری کے بعد ووڈ نے صرف ایک میچ کھیلا، جو گزشتہ آسٹریلوی دورے پر ایشیز سیریز کا پہلا ٹیسٹ تھا۔ میدان سے دور رہنے کے دوران انہوں نے کمنٹری اور براڈکاسٹنگ میں بھی اپنی شناخت بنائی۔ ووڈ نے منگل کی صبح ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا اور اس کے فوراً بعد اپنے گھریلو میدان ڈرہم (ریورسائیڈ) میں انگلینڈ اور سری لنکا کے درمیان ون ڈے میچ کی نشریات سے وابستہ ہوگئے۔
یہ بھی پڑھئے:ایشین گیمز:ہندوستانی مردوں کی بیڈمنٹن ٹیم نے تمغہ پکا کیا، خواتین ٹیم کوارٹر فائنل میں باہر
ووڈ ڈرہم کے لیے ٹی ۲۰؍ بلاسٹ اور دنیا بھر کی ٹی۲۰؍ لیگز میں کھیلنا جاری رکھیں گے۔ اس کے ساتھ وہ میڈیا میں بھی کام کریں گے۔ انہوں نے لیول۳؍ کوچنگ کورس بھی مکمل کرلیا ہے۔ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے ۲۶۔۲۰۲۵ء کے لیے جاری مرکزی معاہدوں کی فہرست میں ووڈ کو ۳۰؍ستمبر ۲۰۲۶ء تک کا ایک سالہ معاہدہ دیا تھا۔
اسکائی اسپورٹس سے بات کرتے ہوئے ووڈ نے بتایا کہ مسلسل انجریز سے دوچار رہنے کے باعث وہ ذہنی اور جسمانی طور پر تھک چکے تھے۔ انہوں نے کہاکہ پرتھ میں نومبر میں کھیلے گئے اپنے آخری میچ کے بعد کافی وقت گزر چکا ہے۔ تقریباً ڈیڑھ سال تک انجریز سے لڑتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ اب میں دوبارہ اسی رفتار اور معیار کے ساتھ گیندبازی نہیں کرپاؤں گا۔ میرا معاہدہ ستمبر میں ختم ہورہا ہے اور مجھے لگا کہ دستبردار ہونے کا یہی صحیح وقت ہے۔ میں کبھی انگلینڈ کو چھوڑنا نہیں چاہتا تھا، لیکن نئے نوجوان گیندباز بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ اب ان کھلاڑیوں پر توجہ ہونی چاہیے جنہیں نئے معاہدے ملنے ہیں۔ اب میں اپنی زندگی کے اگلے مرحلے پر توجہ دے سکتا ہوں۔ ووڈ نے ۲۰۱۵ء میں بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھا اور اپنی تیز رفتار گیندبازی اور میدان پر خوش مزاج انداز کی وجہ سے جلد ہی شائقین کے پسندیدہ بن گئے۔ اسی سال ٹرینٹ برج ٹیسٹ میں ناتھن لیون کو آؤٹ کرکے انہوں نے انگلینڈ کی ایشز فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے بعد وہ ایون مورگن کی قیادت والی محدود اوورز کی ٹیم کے اہم کھلاڑی بن گئے۔
مسلسل انجریز نے ان کے کریئر کی رفتار کو متاثر کیا، لیکن ۲۰۱۹ء میں رَن اَپ طویل کرنے کے بعد انہوں نے شاندار واپسی کی۔ سینٹ لوشیا میں ویسٹ انڈیز کے خلاف انہوں نے انگلینڈ کی ٹیسٹ تاریخ کے تیز ترین اسپیلز میں سے ایک کرتے ہوئے اننگز میں پہلی مرتبہ پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ اسی سال گھریلو میدان پر انگلینڈ کو ون ڈے ورلڈ کپ جتانے میں بھی ان کا اہم کردار رہا، جہاں انہوں نے فائنل میں راس ٹیلر کی اہم وکٹ سمیت مجموعی طور پر ۱۸؍وکٹ حاصل کئے۔
یہ بھی پڑھئے:’’Fauzi‘ ‘کی ریلیز میں تاخیر، کیا سندیپ ریڈی وانگا کی ’’اسپرٹ‘‘بھی مؤخرہوگی؟
ووڈ نے ۲۰۔۲۰۱۹ء کے جنوبی افریقہ کے دورے پر بھی شاندار گیندبازی کی اور ۲۲۔۲۰۲ءء کی ایشیز سیریز میں ۱۷؍ وکٹیں لے کر انگلینڈ کے سب سے کامیاب گیندباز رہے۔ ۲۰۲۲ء کے ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ میں انہوں نے چار میچوں میں نو وکٹیں حاصل کیں، جبکہ ۲۰۲۳ء کی ایشیزسیریز کے ہیڈنگلے ٹیسٹ میں میچ جیتنے والی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انگلینڈ کو سیریز میں واپسی دلائی۔
انگلینڈ کے کرکٹ ڈائریکٹر روب کی نے ۲۰۲۳ء کے اواخر میں ووڈ کو فرنچائز لیگز میں جانے سے روکنے کے لیے تین سالہ مرکزی معاہدہ دیا تھا، جو اس وقت ایک اہم فیصلہ تھا۔ تاہم انجریز کے باعث وہ اس دوران صرف سات ٹیسٹ میچ کھیل سکے اور ۱۵؍ وکٹیں حاصل کیں۔۲۰۲۵ء کی چیمپئنز ٹرافی میں افغانستان کے خلاف درد کے باوجود گیندبازی کرنے کے بعد انہیں گھٹنے کی سرجری کرانی پڑی۔ انگلینڈ کی طبی ٹیم نے ایشز کے لیے انہیں فٹ رکھنے کی پوری کوشش کی، لیکن ووڈ نے بعد میں اعتراف کیا کہ وہ پہلے ٹیسٹ کے لیے مکمل طور پر فٹ نہیں تھے۔ پرتھ میں بغیر کوئی وکٹ لیے۱۱؍ اوورز کرانے کے بعد ان کا گھٹنا دوبارہ جواب دے گیا اور وہیں ان کا بین الاقوامی کریئر بھی رک گیا۔