Inquilab Logo Happiest Places to Work

میرا روڈ: بی ایل او سے رابطہ نہ ہوپانے اور غلط نمبر کی شکایت

Updated: April 06, 2026, 11:31 AM IST | Shahab Ansari | Mira road

ایسی مثالیں بھی ہیں جن میں ’ایپ‘ پر درج بی ایل او کے نام اور رابطہ نمبر غلط درج ہیں ا ور ایسا بھی ہے کہ کہیں نمبر ہے لیکن وہ بی ایل او نہیں ہے۔

A program was organized at Mira Road to provide guidance on SIR. Photo: INN
میرا روڈ میں ایس آئی آر کے سلسلے میں رہنمائی کیلئے پروگرام منعقد کیاگیا۔ تصویر: آئی این این

’اسپیشل انٹینسیو ریویژن‘ (ایس آئی آر)کے تحت ووٹر لسٹ میں ناموں کی میپنگ کیلئے عوام کی بڑی تعداد متحرک ہوگئی ہے تو اب بھی ایک طبقہ ایسا ہے جس نے اس تعلق سے اب تک کوئی اقدام نہیں کیا ہے اور ’بی ایل او‘ (بوتھ لیول آفیسر) کے گھروں پر آنے کا انتظار کررہا ہے۔ البتہ ممبئی سمیت میرا بھائندر کے اکثر و بیشتر علاقوں میں اب تک حالات ایسے ہیں کہ بی ایل او مطلوبہ تعداد سے بہت کم ہیں۔ ایسے میں کئی مقامات پر ایسے واقعات بھی دیکھنے کو ملے ہیں جن میں ’ایپ‘ پر درج بی ایل او کے نام اور رابطہ کے نمبر غلط درج تھے اور رائے دہندگان نے بھاگ دوڑ کرکے صحیح نام معلوم کئے اور پھر اپنے اور اہل خانہ کی میپنگ کروائی۔ 
میرا روڈکے نیا نگر میں لکشمی پارک کمپلیکس میں رہنے والے نوید انجم شیخ نے بتایا کہ جماعت اسلامی کی مقامی یونٹ کی پیشگی مہم کی وجہ سے انہوں نے رمضان سے قبل ہی ایس آئی آر کی تیاری شروع کردی تھی۔ انہوں  نے ایپ ڈائون لوڈ کرکے جب اپنے بی ایل او کا نمبر نکال کر اس پر رابطہ قائم کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ مذکورہ شخص بی ایل او ہے ہی نہیں۔ اس کے بعد وہ کیمپا آفس کے قریب واقع تحصیلدار کے دفتر پر گئے جہاں ذمہ دار افسر نے خودمذکورہ نمبر پر رابطہ قائم کیا اور پھر اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ نمبر غلط ہے۔ 
اس وقت انجم شیخ کو بتایا گیا کہ بی ایل او کے غلط نمبروں کے تعلق سے میٹنگ بلائی گئی ہے اور پھر چند روز میں انہیں نئے افسران کے نمبر دیئے گئے۔ تاہم نئی بی ایل او ایک خاتون تھیں جنہیں اس کام کی تربیت نہیں دی گئی تھی، اس لئے وہ میپنگ نہیں کرپارہی تھیں۔ چونکہ انجم شیخ پیشے سے آئی ٹی کے شعبہ کے ماہر ہیں اس لئے انہوں نے بی ایل او کو میپنگ کرکے بتایا اور پھر ان کے کمپلیکس کی جس کے وہ سیکریٹری بھی ہیں، ۶؍ عمارتوں کے مکینوں کے نام کی میپنگ کی گئی۔ 

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: کوئلہ اور لکڑی مہنگی، کیروسین کی قلت سے خواتین پریشان

انہوں نے بتایا کہ ایسا ہی معاملہ گوریگائوں کے موتی لال نگر میں پیش آیا جہاں ان کے چند قریبی رشتہ داروں کو بی ایل او کا غلط نمبر موصول ہوا تھا۔ البتہ یہاں کے ذمہ دار ڈی آر او نے ان کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے نئے بی ایل او کا نمبر دیا ہے۔ 
میرا روڈ کے حیدری چوک پر رہائش پذیر ایڈوکیٹ عبد العزیر انتورکر نے انقلاب کو بتایا کہ انہوں نے ایپ ڈائون لوڈ کرکے اپنے بی ایل او کو ۲۵؍ مارچ کو ہی اپنی اور اپنے اہل خانہ کی تفصیلات مہیا کردی تھیں لیکن اب تک وہ کسی ایک کی بھی میپنگ نہیں کرسکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں ۲۵؍ مارچ سے وقفہ وقفہ سے بی ایل او سے رابطہ کرتا رہتا ہوں اور اب تک انہوں نے تعاون کیا ہے لیکن میپنگ نہیں کرسکے ہیں۔ ‘‘
ایڈوکیٹ عبدالعزیز کے مطابق ’’بالآخر اب جاکر بی ایل او نے ان سے کہا کہ ہے جب ’اینومیریشن‘ فارم بھرا جائے گا تب ہماری تفصیلات درج کرلی جائیں گی لیکن میرا سوال یہ ہے کہ پیشگی تیاری کرکے لگاتار میپنگ کرانے کی کوشش کرنے کا یہ نتیجہ برآمد نہیں ہونا چاہئے۔ یہ پیشگی کارروائی اس لئے کی جارہی ہے کہ جب ایس آئی آر شروع ہو تب بھاگ دوڑ کی نوبت نہ آئے یا دیگر ثبوت فراہم کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ ‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چونکہ اب تک انہیں تسلی دی جارہی تھی کہ میپنگ ہوجائے گی اس لئے وہ انتظار کررہے تھے لیکن اب جب ان سے کہہ دیا گیا ہے کہ میپنگ نہیں  ہوسکتی تو اب وہ سینئر افسران سے رابطہ قائم کریں گے۔ 
میرا روڈ کی میونسپل کارپوریٹر ثنا دیشمکھ سے گفتگو کرنے پر انہوں نے کہا کہ ’’میرا روڈ میں مطلوبہ تعداد سے بہت کم بی ایل او موجود ہیں اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ آشا سیویکائوں کو عدالت نے سہولت دی ہے کہ انہیں ایس آئی آر کی ڈیوٹی کیلئے مجبور نہیں کیا جاسکتا تو ایک بڑی تعداد نے اس کام سے انکار کردیا ہے۔ بہت سے اساتذہ نے پرنسپل سے تحریری اجازت حاصل کرکے اپنے آپ کو اس ڈیوٹی مستثنیٰ کروالیا ہے تو کئی افسران سبکدوش ہوگئے ہیں۔ اس کے باوجود ان تمام افراد کے نام بی ایل او کی فہرست میں نظر آتے ہیں اور رابطہ قائم کرنے پر یا تو فون کا جواب نہیں ملتا یا بتایا جاتا ہے کہ وہ بی ایل او نہیں ہیں جس کی وجہ سے لوگ سمجھ رہے ہیں کہ غلط نمبر فراہم کئے گئے ہیں۔ تاہم ان شکایتوں کی وجہ سے نئے بی ایل او کا انتخاب شروع ہوچکا ہے جس سے حالات کچھ سدھر رہے ہیں لیکن میرا بھائندر میں یہ مسئلہ دیگر مقامات سے زیادہ سنجیدہ ہے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK