کانگریس ورکنگ کمیٹی کا مطالبہ، پارٹی کے جارحانہ تیور، جمہوریت کو بچانے کیلئےدودوہاتھ کو تیار۔ اس دوران آج نئی دہلی میں انڈیا اتحاد کی اہم میٹنگ۔
EPAPER
Updated: September 30, 2026, 8:59 AM IST | Agency | New Delhi
کانگریس ورکنگ کمیٹی کا مطالبہ، پارٹی کے جارحانہ تیور، جمہوریت کو بچانے کیلئےدودوہاتھ کو تیار۔ اس دوران آج نئی دہلی میں انڈیا اتحاد کی اہم میٹنگ۔
ایس آئی آر کے عمل میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے من مانے فیصلے کے خلاف ملک گیر احتجاج اور مظاہروں کے درمیان کانگریس ورکنگ کمیٹی نےمنگل اپنے ایک اہم اجلاس میںوزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے استعفیٰ کا پُر زور مطالبہ کیا۔ پارٹی نے کہا کہ ان دونوں کی ایماء پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ذریعے ووٹ چوری کے انکشافات کے بعد انہیں عہدے پر برقرار رہنے کا کوئی اخلاقی حق حاصل نہیں ہے۔ پارٹی نےگیانیش کمار کی برطرفی،ایس آئی آر کے عمل کو معطل کرنے اور ووٹر لسٹ سے اب تک حذف کئے گئے ۱۳؍ کروڑ ۳۰؍ لاکھ ناموں کودوبارہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔
میٹنگ میں کون کون تھا ؟
سی ڈبلیو سی کا اجلاس کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئر پرسن سونیا گا ندھی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی، جنرل سیکریٹری (تنظیم) کے سی وینوگوپال اور دیگر اہم لیڈروں نے شرکت کی۔سی ڈبلیو سی کی قرارداد میں ہندوستان کے انتخابی عمل کو’منظم طریقے سے کمزور کرنے‘ پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فوری استعفیٰ،خصوصی نظر ثانی مہم کی معطلی اورحذف کئے گئے ناموں کو دوبارہ بحال کرنے کے مطالبہ کا اعادہ کیا گیا۔
قرار داد میں کیا ہے؟
قرارداد میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیاکے کام کاج سے متعلق حالیہ رپورٹس نے ووٹ چوری کے بارے میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی کہی گئی باتوں کی تصدیق نے لیکشن کمیشن کی آزادی اور ساکھ پر سنگین سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔اجلاس میں اس بات کا نوٹس لیاگیاکہ انتخابی عمل کے بارے میں خدشات ان رپورٹس سے مزید بڑھ گئے ہیں جن کے مطابق الیکشن کمیشن محض ’ون مین شو‘بن کر رہ گیا ہے جہاں چیف الیکشن کمشنر دیگر الیکشن کمشنروں کے ساتھ مناسب مشاورت کے بغیر فیصلے کر رہے ہیں۔ اس میں ان رپورٹس کا حوالہ دیا گیا کہ دو الیکشن کمشنروں نےایس آئی آر کے عمل کے دوران فارم ۶؍ میں غیر مجاز اورغیر قانونی تبدیلیوں کے حوالے سے گزشتہ ۱۰؍ماہ کے اندر ۱۴؍ مرتبہ اعتراضات کئے تھے ۔
ایس آئی آر کی آئینی حیثیت پر سوال
اجلاس میں ایس آئی آر کی آئینی حیثیت پر بھی سوال اٹھایاگیا اور کہا گیا کہ اس عمل کے نتیجے میں ووٹرلسٹ سے پہلے ہی۱۳؍کروڑ ۳۰؍ لاکھ نام خارج کئے جا چکے ہیں۔ اس میں دلیل دی گئی کہ ایسا عمل جس میں ووٹ دینے کی اہلیت ثابت کرنے کا بوجھ شہریوں پر ڈالا جائے اور جو’جلدبازی‘ میں اور مناسب اقدامات کے بغیر کیا جائے، اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو ووٹ کے حق سے محروم کیا جا سکتا ہے۔ یہ آئین کے آرٹیکل ۱۴؍کے تحت مساوات کی ضمانت اور آرٹیکل ۳۲۶؍ کے تحت عالمگیر بالغ حق رائے دہی کی خلاف ورزی ہے۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ’مشکوک آئینی حیثیت والے کسی عمل کو یہ فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں کون ووٹ دے سکتا ہے اورکون نہیں۔سی ڈبلیو سی نے مزید کہاکہ کانگریس نے پارٹی صدر کھرگے کی رہنمائی اور راہل گاندھی کی قیادت میں اس مسئلے کو مختلف پلیٹ فارمس پر اٹھایا ہے۔
آج انڈیا اتحاد کی اہم میٹنگ ،مشترکہ حکمت عملی پر غور ہو گا
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی ’’من مانی‘‘ سے متعلق سنسنی خیز انکشافات نے اپوزیشن پارٹیوں کو متحد کردیا ہے۔ بدھ کودہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں ’انڈیا اتحاد‘ کی میٹنگ ہونے جا رہی ہے جس میں الیکشن کمیشن اور ایس آئی آر کے حوالے سے خدشات سمیت دیگر مسائل پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ ایس آئی آر پر الیکشن کمیشن کے اندر اختلافات کے بعد اپوزیشن کے درمیان رابطہ اور تال میل میں اضافہ ہوا ہے۔ حالانکہ اکھلیش یادو خوداور عام آدمی پارٹی اس میں شرکت نہیں کریں گے لیکن انڈیا اتحاد کی دیگر تمام پارٹیاں اس میٹنگ میں شامل ہونے والی ہیں۔ممتا اور ابھیشیک بنرجی بھی شریک ہوسکتے ہیں۔