Updated: January 15, 2026, 3:04 PM IST
|
Inquilab News Network
| Mumbai
ہندی فلم انڈسٹری میں کچھ نام ایسے ہیں جو صرف اداکار نہیں ہوتےبلکہ ایک روایت، ایک وراثت اپنے ساتھ لے کر آتے ہیں۔ نیل نتن مکیش بھی انہی میں سے ایک ہیں۔
نیل نتن مکیش کا انداز دوسروں سے جدا ہے۔ تصویر: آئی این این
ہندی فلم انڈسٹری میں کچھ نام ایسے ہیں جو صرف اداکار نہیں ہوتےبلکہ ایک روایت، ایک وراثت اپنے ساتھ لے کر آتے ہیں۔ نیل نتن مکیش بھی انہی میں سے ایک ہیں۔ وہ صرف ایک اداکار نہیں، بلکہ عظیم گلوکار مکیش کے پوتے اورگلوکارنتن مکیش کے صاحبزادے ہیں۔ایسی شاندار فنی وراثت کے ساتھ فلمی دنیا میں قدم رکھنا جتنا باعثِ فخر ہوتاہے، اتنا ہی مشکل بھی کیونکہ یہاں ہر قدم پر موازنہ ہوتا ہے، اور ہر ناکامی زیادہ نمایاں دکھائی دیتی ہے۔
نیل نتن مکیش کی پیدائش۱۵؍ جنوری ۱۹۸۲ءکوممبئی میں ہوئی۔ بچپن سے ہی ان کا اٹھنا بیٹھنا فلمی شخصیات، موسیقی اور اسٹیج کے ماحول میںرہا۔ دادا مکیش کی آواز، جو آج بھی کروڑوں دلوں پر راج کرتی ہے، ان کے گھر کی دیواروں میں بسی ہوئی تھی۔ والد نتن مکیش نے بھی گلوکاری کے میدان میں ایک باوقار مقام حاصل کیا۔نیل نے اپنی تعلیم ممبئی ہی میں مکمل کی، مگر بچپن میں ہی کیمرے سے رشتہ جوڑ لیا تھا۔وہ بطور چائلڈ آرٹسٹ کئی فلموں میں نظر آئے،جن میں وجے (۱۹۸۸ء)اور جاگرتی شامل ہیں۔ مگر اس وقت کسی نے نہیں سوچا تھا کہ یہی بچہ آگے چل کر ہیرو کے روپ میں ایک مختلف راستہ اختیار کرے گا۔نیل نتن مکیش نےبطور مرکزی اداکار۲۰۰۷ءمیں فلم ’جانی غدار‘ سے شروعات کی، جس کی ہدایت کاری سری رام راگھون نےکی تھی۔ یہ کوئی عام لانچ فلم نہیں تھی،نہ رنگین گانے، نہ رومانوی ہیرو کا محفوظ خول۔ نیل نے ایک منفی اور پیچیدہ کردار کا انتخاب کیا، جو خودکشی جیسا فیصلہ تھا، مگر اسی نے انہیں الگ پہچان دی۔
’جانی غدار‘ میں نیل کی اداکاری کو ناقدین نے سراہا۔ ان کی سرد آنکھیں، محدود مکالمے اور اندرونی کشمکش نےثابت کیا کہ وہ صرف وراثت کے سہارے نہیں آئے۔نیل نتن مکیش کا فلمی کریئر سیدھی لکیر نہیں، بلکہ اتار چڑھاؤ سے بھرا ہوا راستہ ہے۔ان کی نمایاں فلموں میںجانی غدار(۲۰۰۷ء) نیویارک (۲۰۰۹ء)، جیل (۲۰۰۹ء)، ۷؍ خون معاف(۲۰۱۱ء)، ساہو(۲۰۱۹ء) تیلگو/ہندی) شامل ہیں۔
فلم ’نیویارک‘ میں ان کا کردار خاصا مضبوط تھا اور فلم کی کامیابی نے انہیں مین اسٹریم میں جگہ دی۔ مگر اس کے بعد آئی فلمیں باکس آفس پر وہ اثر نہ دکھا سکیں جس کی ان سے امید تھی۔
نیل نتن مکیش نے۲۰۱۷ءمیں رُکمنی ساہا سے شادی کی، جو ایک کاروباری خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کی ایک بیٹی بھی ہے۔ نیل اپنی ذاتی زندگی کو میڈیا کی چکاچوند سے دور رکھتے ہیںایک پرانی تہذیب کا یہ بھی ایک حسن ہے، جہاں گھر کو نمائش نہیں بنایا جاتا۔
نیل کا مسئلہ یہ رہا کہ وہ اسٹار بننے کے فارمولے پر کبھی مکمل طور پر نہیں چلے۔ وہ نہ مکمل رومانٹک ہیرو بنے، نہ مکمل ولن، اور یہی بیچ کا راستہ کبھی کبھی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
حالیہ برسوں میں نیل نتن مکیش نےجنوبی ہند کی فلموں میں کام کیا،منفی کرداروں کو دوبارہ آزمایا،او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کی جانب بھی قدم بڑھایا لیکن انہیں وہ کامیابی دور ہی نظر آتی ہے جس کے وہ خواہاں اورحقدار ہیں۔آج کا زمانہ کرداروں کا ہے، صرف اسٹارڈم کا نہیں۔ ایسے میں نیل جیسے اداکار، جن کے پاس تجربہ، ضبط اور اسکرین پر وقار ہے، ایک بار پھر مضبوط واپسی کر سکتے ہیںبشرطیکہ وہ اسکرپٹ کا انتخاب نہایت ہی سوچ سمجھ کر کریں۔