• Tue, 27 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیتا جی کے خاندان کا پربھاس کی فلم’’فوجی‘‘ کا ٹیزر ہٹانے کا مطالبہ

Updated: October 27, 2026, 6:08 PM IST | Mumbai

ہندوستانی اداکار پربھاس کی آنے والی تاریخی پس منظر پر مبنی ایکشن فلم فوزی ریلیز سے پہلے ہی تنازع کا شکار ہوگئی ہے۔ آزادیٔ ہند کے عظیم رہنما نیتا جی سبھاش چندر بوس کے پڑپوتے چندر کمار بوس نے فلم کے ٹیزر میں تاریخی واقعات کی ڈرامائی پیش کش پر سخت اعتراض کرتے ہوئے اسے فوری طور پر ہٹانے، نیا ٹیزر جاری کرنے اور ہدایت کار سے عوامی معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Fauji.Photo:INN
فوجی۔ تصویر:آئی این این

 ہندوستانی اداکار پربھاس کی آنے والی تاریخی پس منظر پر مبنی ایکشن فلم فوزی ریلیز سے پہلے ہی تنازع کا شکار ہوگئی ہے۔ آزادیٔ ہند کے عظیم رہنما نیتا جی سبھاش چندر بوس کے پڑپوتے چندر کمار بوس نے فلم کے ٹیزر میں تاریخی واقعات کی ڈرامائی پیش کش پر سخت اعتراض کرتے ہوئے اسے فوری طور پر ہٹانے، نیا ٹیزر جاری کرنے اور ہدایت کار سے عوامی معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تاریخی شخصیات اور آزادی کی جدوجہد سے متعلق واقعات کو افسانوی کہانی کے ساتھ اس انداز میں پیش نہیں کیا جانا چاہیے کہ اصل تاریخ کے بارے میں غلط فہمی پیدا ہو۔ چندر کمار بوس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ’’تاریخ کے ساتھ افسانہ ملانا جرم ہے۔‘‘ ان کے اس بیان کے بعد فلم کے ٹیزر اور تاریخی شخصیات کی پیش کش پر سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی ہے۔ 


فلم ’’فوجی‘‘ کا ٹیزر ۲۳؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو پربھاس کی ۴۷؍ ویں سالگرہ کے موقع پر جاری کیا گیا تھا۔ تقریباً دو منٹ ۳۱؍ سیکنڈ کے اس ٹیزر میں پربھاس ایک باغی ہندوستانی سپاہی اور جاسوس کے کردار میں نظر آتے ہیں، جو برطانوی اقتدار کے خلاف سرگرم ہے۔ فلم کی کہانی ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کے پس منظر میں پیش کی گئی ہے۔تنازع ٹیزر کے اس منظر سے شروع ہوا جس میں دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی کے دارالحکومت برلن میں نیتا جی سبھاش چندر بوس اور جرمن آمر ایڈولف ہٹلر کے درمیان ملاقات دکھائی گئی ہے۔ اس منظر میں نیتا جی پربھاس کے افسانوی کردار کا ذکر کرتے ہوئے اسے ایک ماہر ہندوستانی جاسوس اور حکمت عملی کے ماہر کے طور پر پیش کرتے ہیں، جس نے برطانوی خفیہ اداروں کے لیے مشکلات پیدا کیں۔


ٹیزر میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ پربھاس کے کردار نے بھگود گیتا سے متاثر ایک خفیہ رمز تیار کیا، جسے جرمنی کے معروف خفیہ رمز انیگما سے بھی زیادہ پیچیدہ بتایا گیا ہے۔ نیتا جی کے خاندان اور بعض ناظرین کا اعتراض ہے کہ اس طرح ایک حقیقی تاریخی شخصیت کو فرضی کردار کی اہمیت بڑھانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ نیتا جی کے پڑپوتے چندر کمار بوس کا کہنا ہے کہ فلم سازوں کو ہندوستان کی آزادی کی تحریک اور اس کے لیڈروں پر فلمیں بنانے کی مکمل آزادی حاصل ہے، لیکن اس آزادی کے ساتھ تاریخی حقائق کی درست نمائندگی کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:تھیری ہنری پر الامین جمال کی بے عزتی کا الزام

انہوں نے ہدایت کار ہنو راگھوپوڈی اور فلم کی تیاری سے وابستہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ متنازع ٹیزر کو واپس لیں اور ایسا نیا ٹیزر جاری کریں جس میں تاریخی واقعات کو مسخ نہ کیا گیا ہو۔ انہوں نے اداکار پربھاس کو بھی اپنی تشویش سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس معاملے پر توجہ دینی چاہیے۔چندر کمار بوس کے مطابق، قومی لیڈروں اور آزادی کے مجاہدین سے متعلق حقائق کو تبدیل کرکے پیش کرنا مناسب نہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ فلموں میں تخلیقی آزادی کے باوجود ایسی احتیاط ضروری ہے جس سے نئی نسل کو ملک کی تاریخ کے بارے میں غلط پیغام نہ ملے۔ اس تنازع کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ نیتا جی سبھاش چندر بوس اور ایڈولف ہٹلر کی ملاقات تاریخی طور پر درج ہے۔ دونوں کی ملاقات ۲۹؍ مئی۱۹۴۲ء کو برلن میں ہوئی تھی۔ اس دور میں نیتا جی ہندوستان کو برطانوی اقتدار سے آزاد کرانے کے لیے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تاہم، فلم ’’فوجی‘‘ کے ٹیزر میں دکھائی گئی گفتگو اور پربھاس کے جاسوس کردار سے متعلق تفصیلات فلم کی افسانوی کہانی کا حصہ ہیں۔ اعتراض بنیادی طور پر اس بات پر ہے کہ ایک حقیقی تاریخی ملاقات کو کس انداز میں پیش کیا گیا اور اس کے ذریعے ایک فرضی کردار کی بہادری اور اہمیت کو کس طرح اجاگر کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے:’’جیلر ۲‘‘: رجنی کانت نے اپنی ہی فلم کو پیچھے چھوڑدیا

چندر کمار بوس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نیتا جی کے سیاسی مقاصد اور نظریات کو درست تاریخی تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق، نیتا جی ہندوستان کی آزادی کے لیے جرمنی سے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، اس لیے اس ملاقات کو محض ایک فرضی جاسوس کی تعریف کے منظر کے طور پر پیش کرنا تاریخی حساسیت کا معاملہ ہے۔ فلم کے ٹیزر پر اعتراضات سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر دو مختلف آرا دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ ایک طبقے کا کہنا ہے کہ آزادی کی تحریک کے اہم رہنماؤں کی پیش کش میں تاریخی حقائق کا احترام ضروری ہے، جبکہ پربھاس کے بعض مداحوں کا مؤقف ہے کہ فوزی ایک افسانوی فلم ہے اور اس میں ڈرامائی عناصر شامل کرنا فلم سازی کا حصہ ہے۔ ناقدین کا سوال یہ ہے کہ جب کسی فرضی کہانی میں حقیقی تاریخی شخصیات کو شامل کیا جائے تو فلم سازوں کو واضح کرنا چاہیے کہ کون سے واقعات مستند ہیں اور کون سے تخلیقی طور پر شامل کیے گئے ہیں۔ اس تنازع نے تاریخی فلموں میں تخلیقی آزادی اور حقائق کی درست نمائندگی کے درمیان توازن پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK