Updated: October 02, 2026, 11:03 AM IST
| Dubai
دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کے دوران ہائی جیکنگ کا خدشہ پیدا ہونے اور طیارے کے سعودی عرب کے شہر تبوک میں اترنے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے سکیوریٹی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ واقعے کے وقت اور نیتن یاہو کے حالیہ بیانات کو بنیاد بناتے ہوئے اسرائیلی اپوزیشن لیڈران نے ان پر اسے انتخابی فائدے کیلئے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
نیتن یاہو۔ تصویر: آئی این این
دبئی سے تل ابیب جانے والے فلائی دبئی کے ایک مسافر طیارے نے اردن کی فضائی حدود میں پرواز کے دوران پہلے عمومی ہنگامی کوڈ ’’۷۷۰۰‘‘ اور کچھ ہی دیر بعد ہائی جیکنگ کا کوڈ ’’۷۵۰۰‘‘ بھیجا، جس کے بعد اسرائیل میں ۱۱؍ ستمبر ۲۰۰۱ء جیسے ایک نئے خوف و ہراس کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ طیارے میں تقریباً ۱۷۴؍ مسافر سوار تھے، جن میں لگ بھگ ۱۰۰؍ اسرائیلی شہری شامل تھے۔ طیارہ کچھ دیر اردن کے اوپر چکر لگاتا رہا، جس کے بعد اسے سعودی عرب کی جانب موڑ دیا گیا اور شمال مغربی سعودی عرب کے شہر تبوک میں اتارا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: مکہ: مسجد الحرام میں خودکش بمبار کی افواہ، سیکوریٹی حکام نے تردید کیا
اسرائیلی میڈیا میں متضاد دعوے
اس واقعے کے بارے میں اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں متضاد اطلاعات سامنے آئیں۔ بعض نیوز چینلوں نے دعویٰ کیا کہ معاون پائلٹ نے طیارے کو گرانے کی کوشش کی، جبکہ دیگر ذرائع نے رپورٹ کیا کہ روسی کپتان اور یوکرینی معاون پائلٹ کے درمیان لڑائی ہوگئی تھی، جس کے بعد ہنگامی سگنل جاری کیا گیا۔ اسرائیلی چینل ۱۲؍ سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ تل ابیب اس واقعے کو دہشت گردانہ حملے کے طور پر دیکھ رہا ہے اور دعویٰ کیا کہ ’’ایک بڑے سانحے کو بال بال ٹال دیا گیا۔‘‘ بعض رپورٹس میں کہا گیا کہ معاون پائلٹ، جسے عمانی شہری بتایا گیا، نے کپتان پر چاقو سے حملہ کیا، جس کے بعد کیبن عملے کے ارکان اور بعض مسافروں نے کاک پٹ کا دروازہ توڑ کر مداخلت کی۔ تاہم بعد میں اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ یہ واقعہ طیارہ ہائی جیک کرنے کی کوشش نہیں تھا۔
نیتن یاہو کی سیکوریٹی کابینہ کا اجلاس، اپوزیشن کا انتخابی حربے کا الزام
واقعے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے سیکوریٹی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا۔ اس واقعے کا وقت بھی توجہ کا مرکز بنا کیونکہ یہ نیتن یاہو کے متحدہ عرب امارات کے دورے کے بعد پیش آیا اور ایک روز قبل انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل کو بیرونی حملے کی تیاریوں کا سامنا ہے۔ ۲۷؍ اکتوبر کو پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں، ایسے میں اسرائیلی اپوزیشن رہنماؤں نے ان واقعات کو سیاسی حکمت عملی قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ نیتن یاہو انتخابات میں شکست سے بچنے کیلئے سیاسی ماحول کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: زیادہ اسکرین ٹائم کے سبب بچوں کی نشوونما متاثر: تحقیق
قطر کے وزیر اعظم: نیتن یاہو جنگی مجرم ہیں
ایک الگ پیش رفت میں قطر کے وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے برطانوی صحافی پیئرز مورگن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو ’’جنگی مجرم‘‘ قرار دیا۔ آل ثانی نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے دوران قطر نے ایک ایسا معاہدہ پیش کیا تھا جس کے تحت تمام شہری یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہوسکتی تھی اور حماس بھی اس معاہدے کو قبول کرنے پر آمادہ ہوگئی تھی، تاہم نیتن یاہو نے اس پیشکش کو مسترد کردیا۔