اوساکا یو ایس اوپن چمپئن

Updated: September 14, 2020, 10:55 AM IST | Agency | New York

خواتین کےسنگلز کے فائنل میں جاپان کی ٹینس کھلاڑی نے بیلاروس کی وکٹوریا ازارینکا کو ۳؍سیٹوں میں شکست دی۔ دوسری بار یو ایس اوپن کے خطاب پر قبضہ کیا۔ کریئر میں تیسرا گرینڈ سلیم اپنے نام کیا

Picture. Picture:INN
نو می اوساکا۔ تصویر: آئی این این

 جاپان کی چوتھی سیڈ اور سابق نمبروَن نومی اوساکا نے سنیچر کی رات ۳؍سیٹوں میں ایک سیٹ سے پیچھے ہونے کے بعد بیلاروس کی  وکٹوریا ازارینکا کو۶۔۱، ۳۔۶، ۳۔۶؍ سے شکست دے کر زبردست مقابلہ کیا اور یو ایس اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کا اعزاز دوسری بار جیت لیا۔ اوساکا نے اپنا تیسرا گرینڈ سلیم خطاب  جیت لیا ہے جبکہ ازارینکا کا پہلی بار یو ایس اوپن ٹائٹل جیتنے کا خواب ایک بار پھر ٹوٹ گیا۔ جاپان کی عالمی نمبر ۹؍نومی اوساکا نے فائنل میں بیلاروس کی وکٹوریا ازارینکا کو۶۔۱، ۳۔۶، ۳۔۶؍سے شکست دی۔ اوساکا نے ۳؍برسوں میں دوسری بار یو ایس اوپن جیتا ہے۔ وہ ۲۶؍سال میں پہلا سیٹ ہارنے کے بعد فائنل جیتنے والی پہلی کھلاڑی ہیں۔ اس سے پہلے ۱۹۹۴ءمیں اسپین کی  ارانتا سانچیز وکاریو نے اسٹیفی گراف سے پہلا سیٹ ہارنے کے بعد فائنل جیتا تھا۔اوساکا کو ۳۰؍ ملین انعام کی رقم (تقریباً۲۲ء۵۴؍ کروڑ روپے) ملی۔ تاہم پچھلے سال کے مقابلے میں اس میں۸ء۵۰؍لاکھ ڈالر (تقریباً ۶؍ کروڑ ۳۶؍لاکھ روپے) کٹوتی کی گئی۔ اوساکا پہلا سیٹ ۱۔۶؍ سے ہاریں لیکن پھر اگلے ۲؍ سیٹ جیت کر مقابلے میں واپسی کی ۔  ۲۲؍ سالہ اوساکا کایہ تیسرا گرینڈ سلیم ٹائٹل ہے۔اس سے قبل اوساکا نے۲۰۱۸ء میں یو ایس اوپن جیتا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے ۶؍ بار کی فاتح سیرینا ولیمز کو شکست دی۔ ایک سال بعد انہوں نے آسٹریلیائی اوپن خطاب  جیتا۔ اوساکا نے سیمی فائنل میں جینیفر بریڈی کو۶۔۷، ۶۔۳، ۳۔۶؍سے شکست دی۔ازارینکا ۷؍سال بعد گرینڈ سلیم کے فائنل میں پہنچیں۔ انہیں تیسرا ٹائٹل جیتنے کا موقع ملا۔ وہ ۲۰۱۲ء اور ۲۰۱۳ءمیں لگاتار دو سال آسٹریلین اوپن  چمپئن رہی ہیں۔ بیلاروس کی  کھلاڑی نے گزشتہ ماہ  ویسٹرن اور سدرن اوپن کا ٹائٹل جیتا تھا۔ ان کا فائنل اوساکا ہی سے ہوا تھا لیکن ہیمسٹرنگ انجری کی وجہ سے جاپانی اسٹار فائنل سے دستبردار ہوگئیں اور ازارینکا کو  چمپئن  قرار دے دیا گیا۔ اوساکا نے کہا کہ میں نے ہمیشہ میچ پوائنٹس کے بعد ہر ایک کو اہلکاروں سے جھگڑا کرتے دیکھا ہے۔ ایسی صورتحال میں مجھے لگتا ہے کہ آپ خود کو چوٹ پہنچا سکتے ہیں۔ لہٰذا میں چاہتی تھی کہ میں میچ کو بحفاظت ختم کروں۔
 ازارینکا نے کہا کہ میں مایوس نہیں ہوں۔ تاہم ہار جانے کا دکھ ہے۔ میں قریب ہونے کے باوجود نہیں جیت سکی۔ میں اس کے بارے میں زیادہ نہیں سوچ رہی ہوں؟ میں جیتی یا ہاری ، لیکن میں زیادہ بدلنے والی نہیں ہوں۔ یہ صرف ایک تجربہ تھا۔ میں نے دو ہفتوں میں کمال کیا۔ میں نے بہت لطف اٹھایا۔اوساکا نے میچ میں ۶؍ ایس لگائے جبکہ ازارینکا نے ۲؍ ایس لگائے۔ جاپانی کھلاڑی نے۳۴؍ونر لگائے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK