فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء میں دفاعی چیمپئن ارجنٹائنا کے خلاف ایک آن لائن مہم نے زور پکڑ لیا ہے، جس میں ۶۰؍ لاکھ سے زائد افراد نے مبینہ ریفری جانبداری کے باعث ٹیم کو ٹورنامنٹ سے باہر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
EPAPER
Updated: July 15, 2026, 8:05 PM IST | New York
فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء میں دفاعی چیمپئن ارجنٹائنا کے خلاف ایک آن لائن مہم نے زور پکڑ لیا ہے، جس میں ۶۰؍ لاکھ سے زائد افراد نے مبینہ ریفری جانبداری کے باعث ٹیم کو ٹورنامنٹ سے باہر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء میں دفاعی چیمپئن ارجنٹائنا کے خلاف ایک آن لائن مہم نے زور پکڑ لیا ہے، جس میں ۶۰؍ لاکھ سے زائد افراد نے مبینہ ریفری جانبداری کے باعث ٹیم کو ٹورنامنٹ سے باہر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ argentinaout.com پر شروع کی گئی اس آن لائن درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ فیفا اور میچ آفیشلز ارجنٹائنا اور اس کے کپتان لیونل میسی کے حق میں جانبداری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:فیفا ورلڈکپ :میسی کی جیت کے امکانات کیوں مضبوط سمجھے جا رہے ہیں؟
درخواست میں کہا گیا’’یہ واضح ہے کہ فیفا اور ریفریز لیونل میسی اور ارجنٹائنا کے حق میں جھکاؤ رکھتے ہیں۔ اگر فاتح پہلے ہی طے ہو چکا ہے تو باقی ٹیمیں مقابلہ کیوں کریں؟ ارجنٹائنا کو ورلڈ کپ سے باہر کیا جائے تاکہ تمام ٹیموں کو منصفانہ موقع مل سکے۔ یہ تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب ارجنٹائنا نے مصر کے خلاف کوارٹر فائنل سے قبل ہونے والے میچ میں شاندار واپسی کرتے ہوئے آخری ۱۳؍ منٹ میں تین گول کر کے کامیابی حاصل کی۔ اس میچ میں لیونل میسی نے پہلے ہاف میں ایک پنالٹی بھی ضائع کی تھی۔
مصر نے اس شکست کے بعد شدید احتجاج کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کا ایک گول وی اے آر کے ذریعے منسوخ کیا گیاجبکہ ارجنٹائنا کے فیصلہ کن گول سے قبل مبینہ فاؤل کو نظر انداز کر دیا گیا۔ مصری حکام کا مؤقف تھا کہ اس موقع پر بھی وی اے آر کے ذریعے جائزہ لیا جانا چاہیے تھا۔
مصر کے ہیڈ کوچ حسام حسن نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا’’میں نتائج کی پروا کیے بغیر سچ کہوں گا۔ یہ میچ واضح طور پر فکس محسوس ہوا۔ اگر فیفا ارجنٹائنا کو ہی جتانا چاہتی ہے تو پھر باقی ٹیموں کو ورلڈ کپ میں کیوں بلایا جاتا ہے؟ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ فیفا لیونل میسی کو ٹورنامنٹ میں برقرار رکھنا چاہتی ہے اور فیئر پلے کے دعوے کے باوجود میدان میں انصاف نظر نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھئے:کیکو شاردا کا انکشاف: کپل شرما شو کا۷۰؍ فیصد حصہ اسکرپٹڈ ہوتا ہے
دوسری جانب ارجنٹائنا کے کوچ لیونل اسکالونی نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھاکہ وی اے آر اور جدید ٹیکنالوجی کے دور میں کسی ایک ٹیم کے حق میں جانبداری کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ انہوں نے کہاکہ ’’۱۹۸۶ءکے ورلڈ کپ میں بھی لوگوں نے ارجنٹائنا پر ایسے ہی الزامات لگائے تھے۔ یہ ہمارے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ کچھ لوگ ارجنٹائنا کی کامیابی برداشت نہیں کر پاتے، لیکن ایسی باتیں ہماری ٹیم کو مزید بہتر کھیلنے کی ترغیب دیتی ہیں۔اسکالونی نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں ہر فیصلہ وی اے آر کے ذریعے باریک بینی سے دیکھا جاتا ہے، اس لیے کسی ٹیم کو جان بوجھ کر فائدہ پہنچانا ممکن نہیں۔ ارجنٹائنا اب ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے سیمی فائنل میں انگلینڈ کا سامنا کرے گا۔