Inquilab Logo Happiest Places to Work

پالانٹیر کے سی ای او الیکس کارپ کا انتباہ: اے آئی امیروں کوزیادہ امیر بنا سکتی ہے

Updated: July 15, 2026, 8:05 PM IST | New Delhi

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی پالانٹیر (Palantir) کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر الیکس کارپ نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی مستقبل میں امیر اور غریب کے درمیان معاشی فرق کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔

 Alex Karp.Photo:INN
الیکس کارپ۔ تصویر:آئی این این

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی  پالانٹیر (Palantir)  کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر الیکس کارپ  نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی مستقبل میں امیر اور غریب کے درمیان معاشی فرق کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق، اگرچہ اے آئی عام لوگوں کی زندگی بہتر بنا سکتی ہے، لیکن اس سے حاصل ہونے والا سب سے بڑا مالی فائدہ ان چند افراد کو ہوگا جو اس ٹیکنالوجی کو تیار اور کنٹرول کر رہے ہیں۔
ایک انٹرویو میں الیکس کارپ نے کہا کہ اے آئی کے باعث پیدا ہونے والی دولت کی غیر مساوی تقسیم  اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ  بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا ’’اگرچہ اے آئی عام انسان کے معیارِ زندگی کو بہتر بنائے گی، لیکن اس شعبے سے وابستہ لوگ اپنی موجودہ دولت سے ۱۰؍ یا ۱۰۰؍ گنا زیادہ امیر ہو سکتے ہیں۔‘‘
 چند افراد کے لیے ناقابلِ تصور دولت
کارپ کے مطابق، ماضی کی صنعتی اور تکنیکی انقلابات کے مقابلے میں اے آئی کی بدولت پیدا ہونے والی دولت کی تقسیم بالکل مختلف ہو سکتی ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ ’’پہلے نچلے طبقے کی آمدنی شاید دوگنی ہو جاتی تھی جبکہ اوپر والے لوگ پانچ گنا زیادہ امیر ہو جاتے تھے، لیکن ۴۰؍ سال پہلے ارب پتی ہونا بہت غیر معمولی بات تھی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اے آئی اس صورتحال کو یکسر بدل سکتی ہے۔ اب ایسا انقلاب آ رہا ہے جس میں ممکن ہے کہ میری اپنی دولت بھی ۲۰؍ گنا بڑھ جائے۔ کارپ کے مطابق  اے آئی عام لوگوں کی معاشی ترقی اور بالائی طبقے کی دولت کے درمیان مکمل علیحدگی  پیدا کر سکتی ہے، جہاں چند افراد ناقابلِ تصور دولت کے مالک بن جائیں گے جبکہ عام لوگوں کو نسبتاً محدود فائدہ ملے گا۔

یہ بھی پڑھئے:فیفا ورلڈکپ :میسی کی جیت کے امکانات کیوں مضبوط سمجھے جا رہے ہیں؟


روزگار کے حوالے سے بھی تشویش
الیکس کارپ نے کہا کہ عوام صرف دولت کی بڑھتی ہوئی خلیج سے ہی پریشان نہیں، بلکہ انہیں یہ خدشہ بھی لاحق ہے کہ اے آئی ان کی ملازمتوں اور روزگار کو متاثر کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ ’’خود اے آئی کمپنیاں چلانے والے رہنما لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ مستقبل میں ان کی زندگی مشکل ہو سکتی ہے  جبکہ دوسری جانب وہ خود تیزی سے دولت مند ہوتے جا رہے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:کیکو شاردا کا انکشاف: کپل شرما شو کا۷۰؍ فیصد حصہ اسکرپٹڈ ہوتا ہے


ان کے مطابق یہی صورتحال عوام میں بے چینی اور عدم اعتماد کو بڑھا رہی ہے کیونکہ ایک طرف اے آئی کے فوائد کے دعوے کیے جا رہے ہیں اور دوسری طرف اسی ٹیکنالوجی سے روزگار ختم ہونے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اے آئی کی ترقی کے ساتھ دولت اور مواقع کی منصفانہ تقسیم کو یقینی نہ بنایا گیا تو مستقبل میں معاشی عدم مساوات مزید بڑھ سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK