پاکستان کی قومی سلیکشن کمیٹی کے رکن مصباح الحق نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کی پیشکش کی ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے ٹیسٹ ٹیم اور ٹیم مینجمنٹ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے۔
EPAPER
Updated: September 01, 2026, 7:02 PM IST | Karachi
پاکستان کی قومی سلیکشن کمیٹی کے رکن مصباح الحق نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کی پیشکش کی ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے ٹیسٹ ٹیم اور ٹیم مینجمنٹ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے۔
پاکستان کی قومی سلیکشن کمیٹی کے رکن مصباح الحق نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کی پیشکش کی ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے ٹیسٹ ٹیم اور ٹیم مینجمنٹ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے۔اطلاعات کے مطابق پی سی بی نے ابھی تک مصباح الحق کا استعفیٰ قبول نہیں کیا ہے۔ انہوں نے لاہور کی نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں بیٹنگ کنسلٹنٹ کے عہدے سے بھی الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’پشپا ۲‘‘ میں خاتون کا کردار ادا کرنا میری زندگی کا سب سے ’الفا‘ کام تھا: اللو ارجن
لارڈز ٹیسٹ میں ۱۹۴؍ رنز کی شکست کے بعد پاکستان تین میچوں کی سیریز میں ۰۔۲؍ سے پیچھے ہے۔ اس کے بعد پی سی بی نے سات کھلاڑیوں کو ٹیسٹ ٹیم سے باہر کر دیا، جبکہ نو ستمبر سے ایجبسٹن میں شروع ہونے والے تیسرے ٹیسٹ سے قبل سرفراز احمد کو ہیڈ کوچ اور عمر گل کو بولنگ کوچ کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے:یو ایس اوپن میں واپسی کرتے ہوئے الکاراز نے سفیولین کو آسانی سے ہرایا
محمد رضوان، امام الحق، سلمان علی آغا، علی عثمان، عامر جمال، اویس جعفر اور خرم شہزاد کو ٹیم سے باہر کیا گیا ہے، جبکہ پانچ ایسے کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے جنہوں نے ابھی بین الاقوامی کرکٹ میں ڈیبیو نہیں کیا۔ ان میں عرفات منہاس، محمد عمران جونیئر، سعد بیگ، محمد عمران اور رضا اللہ شامل ہیں۔ صائم ایوب اور عبداللہ فضل بھی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔ محدود اوورز کی ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اور بولنگ کوچ ایشلے نوفکے کو اب ٹیسٹ ٹیم کی ذمہ داریاں بھی سونپی گئی ہیں۔
مصباح الحق ۲۰۱۷ء میں پاکستان کے کامیاب ترین ٹیسٹ کپتان کے طور پر ریٹائرڈ ہونے کے بعد سے پی سی بی میں مختلف ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔ مارچ ۲۰۲۶ءمیں انہیں چار رکنی قومی سلیکشن کمیٹی میں شامل کیا گیا تھا۔