• Tue, 01 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اساتذہ بھرتی بدعنوانی کے سبب ملازمت کھونے والی ممتا بنرجی کی بھتیجی کی خودکشی

Updated: September 01, 2026, 7:16 PM IST | Kolkata

مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتابنرجی کی بھتیجی، جنہوں نے اساتذہ بھرتی بدعنوانی کے سبب ملازمت کھودی تھی، خود کشی کرلی، بنگال میں تقریباً۲۶۰۰۰؍ تدریسی اور غیر تدریسی عملے کو اس لیے نکال دیا گیا تھا کیونکہ انہیں غیر قانونی طور پر سفارش اور مبینہ رقوم کے تبادلے کے ذریعے ملازمت دی گئی تھی۔

Mamata Banerjee (left), Bristi Mukharjee (right). Photo: X
ممتا بنرجی (بائیں)، برسٹی مکھرجی (دائیں)۔ تصویر: ایکس

بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی ایک بھتیجی نے منگل کو بیربھوم کے رام پور ہٹ کے ایک گاؤں میں مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔۲۸؍ سالہ برسٹی مکھرجی نے مارچ۲۰۲۳ء میں بول پور کے اپر پرائمری اسکول سے بطور غیر تدریسی عملہ اپنی نوکری کھو دی تھی۔ واضح رہے کہ تقریباً۲۶۰۰۰؍ تدریسی اور غیر تدریسی عملے کو اس لیے برخاست کیا گیا تھا کیونکہ انہیں غیر قانونی طریقے سے سفارش اور مبینہ رقوم کے تبادلے کے ذریعے ملازمت دی گئی تھی۔یہ تقرریاں کلکتہ ہائی کورٹ اور بعد میں سپریم کورٹ نے منسوخ کر دی تھیں۔مرحومہ کا تعلق بیربھوم کے رام پور ہٹ کے کسومبا گاؤں سے تھا، ان کے والد نہار مکھرجی ممتا بنرجی کے ماموں زاد بھائی اور مقامی ترنمول کانگریس کے لیڈرہیں۔

یہ بھی پڑھئے: نیٹ امتحان کے تعلق سےغلط دعویٰ پیش کرنے والی طالبہ پر جرمانہ

ذرائع کے مطابق برسٹی عدالتی فیصلے کے بعد سے افسردہ تھیں۔ان کا نام ان امیدواروں کی فہرست میں۶۰۸؍ویں نمبر پر تھا جنہوں نے ہائی کورٹ کے حکم کے بعد نوکریاں کھو دیں، جسے بعد میں سپریم کورٹ نے برقرار رکھا۔خاندان کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے صحت کی وجوہات کی بنا پر ایک دن کام کرنے کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔مغربی بنگال اسکول سروس کمیشن کے ذریعے۲۰۱۶ء میں منعقد کردہ ریاستی سطح کے انتخاباتی ٹیسٹ میں نوکری کے بدلے رقم کا اسکینڈل ممتا کی۱۵؍ سالہ حکمرانی کے دوران بدعنوانی کے بڑے مقدمات میں سے ایک تھا۔اس وقت کے بنگال کے تعلیم وزیر پارتھا چٹرجی، اس وقت کی حکمران جماعت کے ایم ایل اے اور اسکول سروس کمیشن اور تعلیمی بورڈ کے سینئر افسران کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان کے خلاف چالان نامہ میں نام درج کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: تیز طرار آئی اے ایس افسر دیویا متل نے محض ۱۳؍ سال میں استعفیٰ کیوں دیا؟

بعد ازاں سپریم کورٹ نے پہلے۳۱؍ دسمبر کی آخری تاریخ مقرر کی تھی تاکہ مستحق تدریسی اور غیر تدریسی عملے کو جگہ دی جا سکے جنہوں نےغیر منصفانہ ذرائع کے بغیر نوکریاں حاصل کی تھیں۔ پیر کو سپریم کورٹ نے یہ آخری تاریخ۳۱؍ مئی تک بڑھا دی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK