کانگریس نے معیشت کے سلسلے میں مودی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ حکومت مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کے اعداد و شمار کا جشن منا رہی ہے لیکن اگر معیشت اتنی مضبوط ہے تو اس کا اثر عام لوگوں کی زندگی میں کیوں دکھائی نہیں دے رہا ہے۔
EPAPER
Updated: September 01, 2026, 7:03 PM IST | New Delhi
کانگریس نے معیشت کے سلسلے میں مودی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ حکومت مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کے اعداد و شمار کا جشن منا رہی ہے لیکن اگر معیشت اتنی مضبوط ہے تو اس کا اثر عام لوگوں کی زندگی میں کیوں دکھائی نہیں دے رہا ہے۔
کانگریس نے معیشت کے سلسلے میں مودی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ حکومت مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کے اعداد و شمار کا جشن منا رہی ہے لیکن اگر معیشت اتنی مضبوط ہے تو اس کا اثر عام لوگوں کی زندگی میں کیوں دکھائی نہیں دے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’پشپا ۲‘‘ میں خاتون کا کردار ادا کرنا میری زندگی کا سب سے ’الفا‘ کام تھا: اللو ارجن
کانگریس کے میڈیا پینلسٹ سلمان سوز نے پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ اگر معیشت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے تو خاندانوں کو اپنے اخراجات کے لیے قرض کیوں لینا پڑ رہا ہے، گزشتہ ایک دہائی میں دیہی مزدوری مہنگائی کے مقابلے میں معمولی طور پر ہی کیوں بڑھی ہے اور نجی سرمایہ کاری مستحکم کیوں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام صرف اعداد و شمار پر یقین نہیں کرتے، بلکہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ معیشت کی مبینہ مضبوطی کا فائدہ زمین پر کیوں نہیں دکھائی دے رہا ہے۔
سوز نے سوال کیا کہ ملک میں جی ڈی پی کے حصے کے طور پر خالص براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) صفر کیوں ہے اور نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح ۱۶؍ فیصد کیوں برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ۲۰۲۶ءمیں اب تک ہندوستانی ایکویٹی مارکیٹ سے تقریباً ۲۵۰؍ لاکھ کروڑ روپے نکالے جا چکے ہیں۔ انہوں نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے سوال کیا کہ اگر ملک کی معیشت اتنی اچھی رفتار سے بڑھ رہی ہے تو سرمایہ کار یہاں سے اپنا پیسہ کیوں نکال رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ اگر معیشت اتنی مضبوط ہے تو برآمدات میں اس کا حصہ پہلے کے مقابلے اتنا کم کیوں ہے۔
کانگریسی لیڈر نے کہا کہ جب ڈالر کے مقابلے روپیہ تقریباً ۵۸؍روپے تھا، تب مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما کہتے تھے کہ روپیہ وینٹی لیٹر پر ہے، لیکن آج روپیہ تقریباً ۹۵؍ روپے تک پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے لوگوں کو صرف اقتصادی اعداد و شمار سے مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اگر معیشت اتنی مضبوط ہے تو اس کا اثر زمین پر کیوں نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ ملک میں ابھی بھی بہت سے مسائل ہیں اور مستقبل میں مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں لیکن حکومت اس سے بے خبر ہے اور صرف اعداد و شمار کو بیچنے میں لگی ہے۔ کانگریس کی رائے ہے کہ مودی کو زمینی حقیقت سمجھ کر عوام سے ان کا حال جاننا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے:یو ایس اوپن میں واپسی کرتے ہوئے الکاراز نے سفیولین کو آسانی سے ہرایا
اس دوران، کانگریس کے شعبہء مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے کہا کہ جی ڈی پی کے اعداد و شمار محض `اسٹیٹیکل جمناسٹکس ہے اور حکومت بار بار طریقہ کار بدل کر جی ڈی پی کے اعداد و شمار کو اپنے حساب سے طے کر رہی ہے اور ملک کی خراب اقتصادی حقیقت کو چھپا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نامینل اور حقیقی جی ڈی پی کے درمیان کا فرق مہنگائی کو ظاہر کرتا ہے اور حکومت کے مطابق یہ فرق صرف ۳ء۲؍ فیصد ہے، جبکہ اس سہ ماہی میں تھوک قیمتوں کے اشاریے (ڈبلیو پی آئی) پر مبنی مہنگائی نو فیصد سے زیادہ رہی ہے۔ انہوں نے اسے واضح تضاد قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ صورتحال مودی حکومت نے حساب کے طریقہ کار میں تبدیلی کر کے پیدا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میک ان انڈیا نے بہت کم حاصل کیا ہے لیکن مودی حکومت کی اہم فیک ان انڈیا اسکیم بے روک ٹوک جاری ہے۔