پوپ لیو چہار دہم نے معصوم جانوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئےکہا کہ میں جنگ کی حمایت نہیں کر سکتا،ساتھ ہی نے ایران کی صورتحال کو’’پیچیدہ‘‘ قرار دیا، اور خبردار کیا کہ غیر یقینی صورتحال عالمی معیشت پر بوجھ ڈال رہی ہے ۔
EPAPER
Updated: April 25, 2026, 2:05 PM IST | Vatican City
پوپ لیو چہار دہم نے معصوم جانوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئےکہا کہ میں جنگ کی حمایت نہیں کر سکتا،ساتھ ہی نے ایران کی صورتحال کو’’پیچیدہ‘‘ قرار دیا، اور خبردار کیا کہ غیر یقینی صورتحال عالمی معیشت پر بوجھ ڈال رہی ہے ۔
ویٹیکن نیوز کے مطابق پوپ لیو چہار دہم نے معصوم جانوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئےکہا کہ میں جنگ کی حمایت نہیں کر سکتا،ساتھ ہی نے ایران کی صورتحال کو’’پیچیدہ‘‘ قرار دیا، اور خبردار کیا کہ غیر یقینی صورتحال عالمی معیشت پر بوجھ ڈال رہی ہے جس کے سبب عام شہری متاثر ہورہے ہیں۔پوپ نے خبردار کیا کہ دنیا بھر میں تنازعات معصوم لوگوں کی جان لے رہے ہیں، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔بعد ازاںانہوں نے افریقہ کے چار ممالک کے دورے سے واپسی کی پرواز پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’ایک پادری ہونے کے ناطے، میں جنگ کے حق میں نہیں ہو سکتا۔ اور میں سب کی حوصلہ افزائی کرنا چاہوں گا کہ وہ ایسے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کریں جو امن کے کلچر سے آئیں، نفرت اور تقسیم سے نہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی ناقابل برداشت بد زبانی
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے، پوپ لیو نے کہا کہ شہری تشدد کا سب سے زیادہ نشانہ بن رہے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’مسئلہ یہ نہیں ہے کہ حکومت میں تبدیلی آئے یا نہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ بغیر اتنی زیادہ معصوم لوگوں کی جانوں کے ہم ان اقدار کو کیسے فروغ دیں جن پر ہم یقین رکھتے ہیں ۔‘‘پوپ نےایرانی حکمرانوں کے تعلق سے غیر یقینی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے ایران کی صورتحال کوپیچیدہ قرار دیا اور خبردار کیا کہ غیر یقینی صورتحال اور کشیدگی، عالمی معیشت کو بھی متاثر کر رہی ہےجس کے سبب عام لوگ متاثر ہورہے ہیں۔ مزید براں انہوں نے امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کے تعلق سے جاری پس و پیش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم نہیں جانتے کہ معاملات کس طرف بڑھ رہے ہیں۔‘‘تاہم پوپ لیو نے تنازعات میں ملوث تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ بات چیت اور سفارت کاری کو ترجیح دیں، اس کے علاوہ انہوں نے مزید کشیدگی سے بچنے اور بین الاقوامی قانون کا احترام کرنے کے لیے نئی کوششوں کا مطالبہ کیا۔