Inquilab Logo Happiest Places to Work

آر ایس ایس کا سب کچھ عوام پر ظاہر ہے: بھاگوت

Updated: June 16, 2026, 3:33 PM IST | Agency | Mumbai

کانگریس لیڈرپریانک کھرگے نےمطالبہ کیا ہےکہ آر ایس ایس کا رجسٹریشن اور آمدنی کی تفصیل ضروری ہے۔

Mohan Bhagwat.Photo:INN
موہن بھاگوت۔ تصویر:آئی این این
آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کرناٹک حکومت کے اس مطالبے کو مسترد کردیا ہے کہ آر ایس ایس کا رجسٹریشن ہونا چاہئے۔ بھاگوت کا کہنا تھا کہ یہ سب سیاست ہے اور اس کا مقصد عوام کے ذہنوں میں شک و شبہ پیدا کرنا ہے۔
اُن کے بقول آر ایس ایس خفیہ طور پر کام کرنے والی تنظیم نہیں ہے، اس کی شاکھائیں ہیں، شاکھاؤں میں میٹنگیں ہوتی ہیں، کھلی جگہوں پر میٹنگیں کی جاتی ہیں اور لوگ جانتے ہیں کہ اس سے کون لوگ وابستہ ہیں، اس لئے، آر ایس ایس کے رجسٹریشن کے مطالبے پر دھیان دینے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے یہ بات کیرالا میں ہوئے ایک تبادلۂ خیال کے دوران کہی۔
بھاگوت نے یہ بھی کہا کہ آر ایس ایس ایسی شعبدہ بازیوں سے خوب واقف ہے، اس تنظیم پر دو مرتبہ پابندی عائد کی گئی جو بعد میں عدالت کی مداخلت اور ستیہ گرہ کی وجہ سے واپس لی گئی، اس کا معنی یہ ہے کہ آر ایس ایس منظور شدہ ہے۔ آر ایس ایس چیف کے مطابق  ’’کتنی غیر رجسٹر شدہ چیزیں ہورہی ہیں اور جاری رہتی ہیں، خود ہندو دھرم بھی رجسٹرڈ نہیں ہے۔ رجسٹریشن اُن اداروں کا ہوتا ہے جو حکومت سے فنڈ لیتے ہیں۔‘‘ بقول بھاگوت آر ایس ایس کے قیام سے آج تک کے ۱۰۰؍ برس میں کبھی کسی نے نہیں کہا کہ آر ایس ایس کا رجسٹریشن ہونا چاہئے۔ حکومت کے پاس آر ایس ایس کا آئین تحریری شکل میں موجود ہے۔ 
 
 
 
یاد رہنا چاہئے کہ موہن بھاگوت کا یہ بیان اُس مطالبے کے پیش نظر ہے جو کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھرگے نے کیا ہے۔ اُنہوں نے بھاگوت کو ایک خط لکھا اور یہ وضاحت طلب کی کہ وہ اپنی تنظیم کی قانونی حیثیت اور حاصل ہونے والے عطیات، رقومات اور آمدنی کے ذرائع کی وضاحت کریں۔ پریانک کھرگے نے اپنے خط میں یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ اپنی تنظیم کی جانب سے بااختیار (آتھورائزڈ) عہدیداروں کو مامور کریں تاکہ وہ وضاحت کرسکیں کہ آر ایس ایس کن قانونی بنیادوں پر قائم ہے اور کام کرتی ہے۔ 
پریانک کھرگے نے موہن بھاگوت سے آٹھ باتیں منظر عام پر لانے کیلئے کہا ہے: (۱) آر ایس ایس کی قانونی حیثیت (۲)  اس کے عہدیداروں اور با اختیار نمائندوں کی تفصیل (۳) آمدنی کے ذرائع (۴) اخراجات (۵) اثاثہ جات (۶) کیا ٹیکسوں کی ادائیگی ہوتی ہے؟ (۷) رجسٹریشن کے بغیر اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی قانونی بنیادیں اور (۸) وہ قانونی نیز آئینی فریم ورک جس کے تحت عوامی جوابدہی کے بغیر سرگرمیاں جاری رہتی ہیں نیز اس کے پاس عوامی تقریبات منعقد کرنے کا کیا جواز ہے (کیا اس کیلئے اجازت لی جاتی ہے؟)
 
 
 
اس میں شک نہیں کہ خط لکھ کر پریانک کھرگے نے جہاں مذکورہ سوالات کئے وہیں بھاگوت کو آر ایس ایس کے ۱۰۰؍ سال مکمل ہونے پر مبارکباد بھی پیش کی۔ تاہم اُن کے سوالات کافی تیکھے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ جب شہریوں کو، مزدوروں کو، غیر سرکاری تنظیموں کو، ٹرسٹ اور مندروں کو اور کمپنیوں کو رجسٹر کرنا پڑتا ہے اور وہ قانون کے دائرہ میں رہتے ہیں تو آر ایس ایس کیوں مستثنیٰ رہے۔ اپنے قیام کے سو سال پورے ہونے پر ضروری ہے کہ آر ایس ایس آئین کی ذمہ دارانہ  پاسداری کرے ، خود کو رجسٹر کرے، آمدنی کا حساب ظاہر کرے، ٹیکس ادا کرے اور شفافیت کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے۔ پریانک کھرگے، جو کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے کے فرزند ہیں، نے بھاگوت کو لکھے گئے خط کو یہ کہتے ہوئے ’’ایکس‘‘ پر بھی پوسٹ کیا ہے کہ میرا خط پہنچنے میں دیر لگ سکتی ہے اس لئے مَیں نے چاہا کہ وہ آپ تک (ایکس کے ذریعہ) جلدی پہنچ جائے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK