پرکاش پڈوکون کا گوپی چند کو جواب:بنگلور میں پریکٹس کا فیصلہ سائنا کا تھا

Updated: January 15, 2020, 9:40 am IST | Agency | New Delhi

منگل کو پرکاش پڈوکون بیڈمنٹن اکیڈمی نے واضح کیا کہ ریو اولمپکس سے پہلے حیدرآباد میں گوپی چند اکیڈمی چھوڑنے اور بنگلور میں ومل کمار کی رہنمائی میں مشق کرنے والی سائنا نہوال کاذاتی فیصلہ تھا اور اس میں اکیڈمی کا کوئی رول نہیں تھا۔

پرکاش پڈوکون کا گوپی چند کو جواب:بنگلور میں پریکٹس کا فیصلہ سائنا کا تھا
گوپی چند ۔ تصویر : آئی این این

منگل کو پرکاش پڈوکون بیڈمنٹن اکیڈمی نے واضح کیا کہ ریو اولمپکس سے پہلے حیدرآباد میں گوپی چند اکیڈمی چھوڑنے اور بنگلور میں ومل کمار کی رہنمائی میں مشق کرنے والی سائنا نہوال کا ذاتی فیصلہ  تھا اور اس میں اکیڈمی کا کوئی رول  نہیں تھا۔ 
 گوپی چند نے آنے والی کتاب `’ڈریمز آف اے بلین: انڈیا اینڈ اولمپک گیمز ‘کے باب ’بیٹررائیولری‘ میں لکھا ہے کہ ۲۰۱۴ء میں عالمی چمپئن شپ کے بعد ومل کمار کی رہنمائی میں سائنا کے بنگلور میں پڈوکون اکیڈمی میں پریکٹس کرنے سے وہ کافی مایوس ہوئے تھے۔ 
 گوپی چند نے یہ بھی کہا کہ انہیں برا لگاتھا کہ پڈوکون ، ومل اور اولمپک گولڈ کویسٹ کے عہدیدار ویرن راسکنہا نے سائنا کو حیدرآباد چھوڑنے کی ترغیب دی تھی۔ پڈوکون اکیڈمی نے ایک بیان میں کہا’’بنگلور میں پی پی بی اے پر مشق کرنے کے سائنا کے فیصلے میں پی پی بی اے کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ اکیڈمی نے مزید کہا  کہ ومل کمار نے سائنا نہوال کی کارکردگی کو بہتر کرتے ہوئے انہیں عالمی نمبروَن کھلاڑی بنایا۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستانی شٹلر نے ورلڈ چمپئن شپ اور آل انگلینڈ چمپئن شپ میں نقرئی تمغہ جیتا تھا۔ 
 گوپی چند نے کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ انہیں حیرت ہے کہ پڈوکون نے ان کے بارے میں کبھی مثبت نہیں کہا۔  اس الزام کے تعلق سے  پی پی بی اے نے لکھا’’پی پی بی اے نے بطور کھلاڑی اور کوچ کی حیثیت سے ہندوستانی بیڈمنٹن میں پلیلا گوپی چند کے تعاون کو سراہا۔ ہم نے عالمی سطح پر ان کے کھلاڑیوں کی کامیابی کو سراہا ہے اور ان کے ساتھ ہمیشہ اچھے تعلقات رہے ہیں۔ ‘‘گوپی چند نے خود پڈوکون کی رہنمائی میں پریکٹس کی اور۲۰۰۱ء  میں آل انگلینڈ جیتنے کے بعد کوچ گنگولی پرساد کے ساتھ وابستہ ہوگئے۔ پڈوکون اکیڈمی نے کہا’’پی پی بی اے گزشتہ ۲۵؍برسوں سے کھلاڑیوں کو تربیت دے رہی ہے۔ ہمارے بہت سے کھلاڑی اپنے کریئر کے مختلف مراحل پر اکیڈمی چھوڑ چکے ہیں۔ ہمیں ان کی ترقی میں کبھی رکاوٹ نہیں بننا چاہئے اور یہ اکیڈمی کی پالیسی ہوگی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK