Inquilab Logo Happiest Places to Work

ونچت بہوجن اگھاڑی کا ۲؍ مارچ کو سی ایس ایم ٹی کے باہر احتجاج کرنے کا اعلان

Updated: March 01, 2026, 1:59 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

سوال کیا کہ ایپسٹین اور نریندر مودی کے درمیان کیا تعلقات ہیں؟جگہ جگہ ہورڈنگز لگائی گئیں۔ ۳۶؍تنظیموں نے بھی اس احتجاج میںشرکت کی یقین دہانی کروائی۔

Prakash Ambedkar. Photo: INN
پرکاش امبیڈکر۔ تصویر: آئی این این

’’مدرا مودی سے مجرا مودی تک‘‘عنوان پرونچت بہوجن اگھاڑی کے سربراہ ایڈوکیٹ پرکاش امبیڈکر کی جانب سے اس پر کئی سوالات قائم کئے گئے ہیں۔ ان کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی خط میں لکھا گیا ہےکہ ایپسٹین اور نریندر مودی کے درمیان کیا تعلقات اورکس طرح کے معاملات ہیں۔اس پرونچت بہوجن اگھاڑی نے ۲؍ مارچ کوسی ایس ایم ٹی ریلوے اسٹیشن کے باہر صدائے احتجاج بلند کرنے کا اعلان کیاہے۔احتجاج کے لئے جگہ جگہ ہورڈنگز لگائی گئی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: حافظ مولانا رزین اشرف نے ۴۵؍سال تک تراویح پڑھائی

پرکاش امبیڈکرنےلکھا کہ ’’وزیر اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کے دورے میں ایپسٹین سے ڈانسنگ کا مشورہ کیوں لیا؟ملک کے وزیراعظم کو ایک سفاک قاتل سے ذاتی تعلق کی ضرورت کیوں پڑی؟ جب پوری دنیا میں وزیر اعظم نریندر مودی کا نام ایپسٹین فائل سے جوڑا جا رہا ہے، نریندر مودی کیوں خاموش ہیں؟ کیا ایپسٹین کے نجی جزیرے پر جاری خونریز سرگرمیوں میں نریندر مودی کا نام بھی شامل ہے؟ کیا وہ اس دباؤ میں خاموش ہیں؟نریندر مودی نے امریکہ کے ساتھ ہندوستان کے خسارے میں جانے والے اقتصادی معاہدے پر دستخط کیوں کئے؟امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ یہ حکم کیسے جاری کر سکتے ہیں کہ امریکہ روس سے تیل کی خریداری پر ہندوستان کی نگرانی کرے گا؟ ٹرمپ ہندوستان کی جانب سے فیصلے کیسے کر سکتے ہیں؟مودی جی کیا آپ نے اپنا ملک امریکہ کے پاس گروی رکھا ہے؟ہندوستان فرانس سے۱۱۴؍ رافیل لڑاکا طیارے خریدنے جا رہا ہے لیکن رافیل کا سورس کوڈ ہندوستان کو کیوں نہیں دیا جائے گا؟ مودی جی آپ نے ہندوستان کے لئے آخر کیا کرنے کا فیصلہ کیا ہے؟اگر نریندر مودی ان تمام سوالوں کا جواب نہیں دے سکتے تو انہیں ملک کی شبیہ کو داغدارکئے بغیر وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہئے۔‘‘مکتوب میںیہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’ایپسٹین فائل دنیا کی تاریخ میں انسانیت کو شرما دینے والا سفاکانہ واقعہ ہے۔ ۳۰؍ جنوری ۲۰۲۶ء کو امریکی محکمہ انصاف نے ایپسٹین فائل سے کچھ دستاویزات جاری کی ہیں۔ اس میں ۲۰۱۷ء کی ایک ای میل میں وزیر اعظم نریندر مودی کا ذکر ہے، اس ای میل میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ ہندوستانی وزیر اعظم امریکہ کے مفادات کے لئے مشورہ مانگ رہے تھے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK