Updated: February 03, 2026, 4:46 PM IST
| New Delhi
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کو سابق فوجی سربراہ کی غیر مطبوعہ کتاب کا حوالہ دینے سے روک دیاگیا،حکومت کی تساہلی کو بے نقاب کرنا چاہتے تھے، امیت شاہ سے راج ناتھ
سنگھ تک بی جےپی کا ہر لیڈر سراپا احتجاج نظر آیا، اسپیکر نے بھی ضوابط کا حوالہ دیکر حکمراں محاذ کی تائید کی،کانگریس نے آواز دبانے اور حقائق کو چھپانے کا الزام عائد کیا
راہل گاندھی لوک سبھا سے باہر نکلنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے۔ ( پی ٹی آئی)
لوک سبھا میں صدر جمہوریہ کے خطاب پر تحریک شکریہ کے دوران پیر کو اس وقت حکمراں محاذ نے ہنگامی برپا کردیا جب ۲۰۲۰ء میں چینی دراندازی پر راہل گاندھی نے سابق فوجی سربراہ جنرل نرونے کی غیر مطبوعہ کتاب کا ایک حصہ پڑھ کر سنانے کی کوشش کی ۔ کانگریس لیڈر پون کھیڑا کی ایک پوسٹ کے مطابق اس کتاب میں سابق فوجی سربراہ نے صاف طور پر لکھا ہے کہ جب چینی ٹینک ہندوستانی حدود میں داخل ہوئے تو انہوں نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ سے رابطہ کیا کہ کیا کارروائی کی جائے مگر انہیں فوری جوابی کارروائی نہیں کرنے دی گئی اور ’’اوپر سے ہدایت‘‘ ملنے کا انتظار کرنے کیلئے کہاگیا ۔پون کھیڑا کے مطابق نرونے نے لکھا ہے کہ اس میں ۲؍ گھنٹے کا طویل عرصہ گزر گیا اور اس کے بعد یہ جواب ملا کہ ’’جوٹھیک لگے کریں۔‘‘ بہرحال راہل گاندھی ایسے مفہوم والا کوئی متن لوک سبھا میں نہیں پڑھ سکے کیوں کہ جنرل نرونے کی غیر مطبوعہ کتاب کا حوالہ دینے کی نہ صر ف وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے بلکہ وزیر داخلہ امیت شاہ تک نے کھڑے ہوکر مخالفت کی۔اس کی وجہ سے کم وبیش آدھا گھنٹہ ہنگامہ برپا رہاہے اور کارروائی کم از کم ۲؍ بار ملتوی کی گئی ۔
حکومت ڈرتی ہے کہ سچ سامنے نہ آجائے: راہل
راہل گاندھی نے بعد میں پارلیمنٹ احاطہ میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتےہوئے کہاکہ حکومت جنرل نرونے کی کتاب میں موجود حقائق سے خوفزدہ ہے،اسے یہ ڈر ہے کہ اگر یہ کتاب شائع ہوگئی تو وزیر اعظم مودی اور وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے بارے میں سچائی سامنے آجائےگی۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ جنرل نرونے اپنی کتاب میں وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے بارے میں واضح طورپر لکھا ہے اور وہ اسی حصے کا حوالہ دے رہے تھےمگر انہیں بولنے نہیں دیا گیا۔
’’جب چین آرہاتھا تو ۵۶؍ انچ کا سینہ کہاتھا؟‘‘
انہوںنے وزیراعظم پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ جب چین ہماری طرف آرہاتھا تو اس وقت ۵۶؍انچ کے سینہ کو کیا ہوا تھا؟راہل گاندھی نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ میں محض دوتین لائن بولنا چاہتے ہیں لیکن اجازت نہیں دی جارہی ہے۔انہوں نے ملک کی سلامتی کے معاملہ کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ایسی حقیقت بیان کرنے جارہے تھے جو وزیر دفاع اور وزیر اعظم مودی کیلئے پریشان کن ہے۔کانگریس لیڈر نے مزید کہا کہ ہندوستان اورچین کی سرحد پر جو کچھ ہوا،اس کے بارے میں فوج کا ہرجوان جانتا ہے لیکن مودی حکومت سچائی کو ملک کے عوام سے چھپانا چاہتی ہے۔کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی نے بھی میڈیا کے اس سوال کو مسترد کردیا کہ یہ راہل گاندھی کے ذریعہ فوج کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔انہوںنے کہا کہ راہل گاندھی محض جنرل نروانے کی کتاب کا ایک حصہ پڑھ رہے تھے اور اس میں بدنام کرنے جیسی کوئی بات نہیں۔
کانگریس نے اقتباس کو عام کردیا
دوسری طرف کانگریس نے جنرل نرونے کی کتاب ’فور اسٹارآف ڈیسٹنی‘ کا وہ اقتباس عام کردیا ہے جس کو راہل گاندھی پارلیمنٹ میں پڑھنا چاہتے تھے۔ جنرل نرونے لکھا ہےکہ ’’ہندوستانی فوج کی شمالی کمان کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل یوگیش جوشی کو۳۱؍اگست ۲۰۲۰ء کو چین کے چار ٹینکوں کے ہندوستان کی طرف بڑھنے کی خبر موصول ہوئی ۔واقعہ رات ۸؍ بج کر ۱۵؍منٹ کا تھا۔‘‘جنرل نروانے صورتحال کی سنگینی کوسمجھتے ہوئے اطلاع ملتے ہی ہندوستان کی سیاسی اور فوجی قیادت کوفون کرنا شروع کیا تاکہ ہدایت لیں کہ کیا جوابی کارروائی کرنی ہے۔ان کے مطابق انہوں نے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال ، چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے رابطہ کیا۔
جنرل نرونے نے لکھا ہے کہ تمام لیڈروں سےان کا ایک ہی سوال تھا کہ ان کیلئے کیا احکامات ہیں۔اس میں مزید لکھاگیاہے کہ صورتحال تیزی سے بگڑ رہی تھی اور وضاحت کی ضرورت تھی،لیکن سیاسی اور فوجی قیادت کی طرف سے کوئی واضح ہدایات نہیں مل رہی تھی۔کتاب میں مزید لکھاگیا ہےکہ کئی بار کی کال کے بعد رات میں ۱۰؍بجے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اور اجیت ڈوبھال کوپھر سے کال کیاگیا۔ انہیں بتایا گیا کہ چینی ٹینک رک نہیں رہے ہیں۔جنرل نرونے کے مطابق چین کی سرحد پاکستان کی سرحد کے برعکس ہے جہاں ڈویژنل اور کور کمانڈرز کو اوپر سے کسی سے مشورہ کئے بغیر روزانہ سیکڑوں راؤنڈ فائر کا اختیار ہے، لیکن یہ چین تھا۔ یہاں چیزیں مختلف تھیں۔ چینی فوج کے خلاف کی توپ چلانے سے جنگ بہت نازک صورت حال میں بدل سکتی تھی۔انہوںنے فیصلے میں جمود کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ صورتحال میں بری طرح پھنس چکے تھےکیونکہ انہیں واضح احکامات نہیں مل رہے تھے۔آخر کار راجناتھ سنگھ نے رات میں ساڑھے ۱۰؍بجے وزیر اعظم مودی کا پیغام دیا کہ ’’ جو ٹھیک لگے کریں۔‘‘ انہوں نے لکھا ہےکہ وزیر اعظم مودی کو سب کچھ بتایا گیاتھا لیکن انہوںنے خود کوئی فیصلہ کرنےسے انکار کردیا۔اس کا مطلب یہ تھا کہ پوری ذمہ داری ان پر تھوپ دی گئی تھی۔