Updated: October 14, 2026, 1:26 PM IST
|
Siraj Sheikh
| Ratnagiri
خاندان کو انتظامیہ سے شکایت، حادثے کے ۴۸؍ گھنٹے بعد بھی کوئی تعاون نہیں مل سکا، تین بچوں کی جولاشیں نکالیں گئیں، اس میں بھی مقامی تیراکوں کا تعاون رہا، اہل خانہ پریشان۔
بچی کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے مقامی افراد۔ تصویر: آئی این این
مہاراشٹر کے رتناگیری ضلع کے راجاپور تعلقہ کےنا نا ر کھاڑی میں بچوں کے ڈوبنےکا حادثہ انتہائی دردناک ہے۔ اس افسوسناک واقعہ میں بھاٹکر خاندان کے چار بچے ڈوب کر جاں بحق ہو گئے۔اس حادثے میں مقامی نوجوانوں کے تعاون سے تین بچوں کی لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں اور ان کی تدفین بھی ہو چکی ہے، لیکن ۱۵؍ سالہ ماہرہ بھاٹکرکا ابھی تک کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے۔
مقامی سطح پر اور لواحقین کی جانب سے اس طرح کی شکایتیں مل رہی ہیں کہ اس معاملے میں انتظامیہ کی جانب سےمناسب تعاون نہیں مل رہا ہے جس کی وجہ سےبچی کی تلاش میں تاخیر ہو رہی ہے۔اس معاملے میں مقامی لوگ اپنے طور پر کھاڑی میں سرچ آپریشن کر رہے ہیں۔اس ضمن میں جنید بھاٹکر کے چچا زاد بھائی مبین بھاٹکرنے کہا کہ’’ اس دردناک حادثے کو۴۸؍ گھنٹے ہو چکے ہیں، اس کے باوجود ہمیں انتظامیہ کی جانب سے کوئی تعاون نہیں مل رہا ہے۔ ہماری بھتیجی ماہر ہ جو دسویں جماعت کی طالبہ تھی، اب تک اس کا کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے۔ کھاڑی سے تین بچوں کی جو لاشیں نکالی گئیں، وہ بھی مقامی افراد کی مدد سے نکالی گئیں۔ یہاں کے مقامی تیراکوں نے اپنی جان کی پروا کئے بغیر تینوں بچوں کو ڈھونڈ نکالا۔‘‘
انہوں نے انتظامیہ سے سوال کیا کہ کیا ہمارے یہاں عام آدمی کے جان کی کوئی پروا نہیں ہے؟اگر اس طرح کے حادثے میں کسی ایم ایل اے، وزیر یا کسی افسر کی بیٹی شکار ہو تی تو کیا اُس وقت بھی انتظامیہ کا یہی رویہ رہتا؟انہوں نے کہا کہ اب ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کے معاملات میں اکثر انتظامیہ اور پولیس کریڈٹ لیتی ہے۔اس بار بھی پولیس آئی، کاغذی کارروائی کی، لاشوں کا پوسٹ مارٹم کیا اور لاشیں ہمارے حوالے کرکے چلی گئی۔مبین بھاٹکر نے کہا کہ ہم اور ہمارے گاؤں کے لوگ بھوکے پیاسے رہ کر رات دن بچی کی تلاش کر رہے ہیں لیکن یہاں تحصیلدار، پرانت افسر، گرام سیوک اور تلاٹھی اب تک نہیں آئے۔
اس حادثے میںجاں بحق ہونے والے بچوں میں محمد جنید بھاٹکر (۶؍سال)، جویریہ جنید بھاٹکر (۹؍سال)، بشریٰ جنید بھاٹکر (۱۱؍ سال) اور ماہرہ جنید بھاٹکر (۱۵؍ سال) شامل ہیں۔ ایک بچی کو مقامی لوگوں نے بروقت کارروائی کر کے زندہ بچانے میں کامیابی حاصل کرلی تھی۔