Updated: September 11, 2026, 1:07 PM IST
| New Delhi
اوپن اے آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے ایک غیر جاری کردہ داخلی ماڈل نے ۹۰؍ سال سے حل طلب نیویئر اسٹوکس ملینیم پرائز مسئلے کا حل پیش کردیا ہے۔ تاہم ۱۰؍ لاکھ ڈالر کے نیویئر اسٹوکس ملینیم پرائز مسئلے کے مبینہ حل میں ہندوستانی سائنسدانوں نِشانت سنگھ اور ایس سری دھر کے ۲۰۱۷ء میں شائع ہونے والے تحقیقی مقالے کو بطور حوالہ شامل کیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں سائنس دان ابتدا میں اپنے اس کام کو الگ سے شائع کرنے کا ارادہ بھی نہیں رکھتے تھے، تاہم بعد میں ایک معروف ماہرِ فلکیات کے اصرار پر یہ تحقیق شائع ہوئی اور اب اوپن اے آئی کی اہم ریاضیاتی تحقیق میں اس کا حوالہ دیا گیا ہے۔
اوپن اے آئی۔ تصویر: آئی این این
۸؍ ستمبر کو اوپن اے آئی نے اعلان کیا کہ اس کے ایک غیر جاری کردہ داخلی ماڈل نے ۹۰؍ سال پرانے اور اب تک حل نہ ہونے والے نیویئر اسٹوکس ملینیم پرائز (Navier-Stokes Millennium Prize Problem) مسئلے کا حل پیش کیا ہے۔ اس مسئلے کے حل پر کلی میتھمیٹکس انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے ۱۰؍ لاکھ ڈالر کا انعام مقرر ہے۔ اوپن اے آئی کا ۱۶۶؍ صفحات پر مشتمل تحقیقی مقالہ صرف ۲۲؍ حوالہ جات پر مشتمل ہے، جن میں سے ایک ۲۰۱۷ء میں ہندوستانی سائنس دانوں نِشانت سنگھ اور ایس سری دھر کی جانب سے پیش کیا گیا ثبوت بھی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں سائنس دانوں نے ابتدا میں اپنے ثبوت کو شائع نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ نِشانت سنگھ نے دی انڈین ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’میں پی ایچ ڈی کا طالب علم تھا اور سری دھر میرے گائیڈ ٹیچر تھے۔ وہ تو اسے الگ مقالے کے طور پر شائع بھی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ اسے کسی دوسرے مقالے میں صرف ایک پیراگراف کے طور پر شامل کردیا جائے۔ ہم دونوں تحقیق کو ضرورت سے زیادہ شائع کرنے کے رجحان کے خلاف ہیں، کیونکہ ہمارا خیال ہے کہ اس سے مجموعی طور پر سائنس کا معیار متاثر ہوتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: حکومت ہند کے حکم کے باوجود میٹا بچوں کیساتھ زیادتی والے اشتہار چلا رہا ہے: رپورٹ
سنگھ اس وقت انٹر یونیورسٹی سینٹر فار ایسٹرونومی اینڈ ایسٹرو فزکس (IUCAA) میں ایسوسی ایٹ پروفیسر آف ایسٹرو فزکس ہیں، جبکہ سری دھر بنگلورو کے رمن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں پروفیسر ایمیریٹس ہیں۔ تاہم امریکن آسٹرونومیکل سوسائٹی کے ایڈیٹر اِن چیف ایتھن وشنیاک نے ۲۰۱۰ء میں بنگلورو میں ایک عشائیے کے دوران سنگھ کو اپنا نتیجہ شائع کرنے پر آمادہ کیا۔ سنگھ کے مطابق، ’’وشنیاک نے مجھ سے کہا کہ یہ ایک عین حل ہے، آپ کو اسے ضرور شائع کرنا چاہئے۔ ایسے عین حل بہت زیادہ نہیں ہیں۔‘‘ مقالے کی اشاعت کی پہلی کوشش ناکام ہوگئی، کیونکہ چار ریفریز میں سے ایک نے مقالے کو مسترد کردیا۔ بالآخر ۲۰۱۷ء میں یہ تحقیق دعوت پر دی یورپی فزیکل جرنل پلس میں شائع ہوئی۔ مقالے کا عنوان تھا: ’’Plane shearing waves of arbitrary form: Exact solutions of the Navier-Stokes equations‘‘۔
نیویئر اسٹوکس مسئلہ کیا ہے؟
نیویئر اسٹوکس مساوات سیال مادوں کے بہاؤ سے متعلق جزوی تفاضلی مساوات کا ایک مجموعہ ہیں۔ ان کا استعمال ہوائی جہازوں کے ڈیزائن، موسم کی پیش گوئی، خون کی گردش کی ماڈلنگ، پائپ لائنوں اور قدرتی بہاؤ سے متعلق دیگر شعبوں میں کیا جاتا ہے۔ ان وسیع تر مساوات کے اندر ایک مخصوص مسئلہ ’’وجود اور ہمواری‘‘ (existence and smoothness) کے مسئلے کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ان سات ملینیم پرائز مسائل میں شامل ہے جن کا اعلان کیمبرج کے کلی میتھمیٹکس انسٹی ٹیوٹ نے ۲۰۰۰ء میں کیا تھا۔ ان ساتوں مسائل میں سے ہر ایک کے حل پر ۱۰؍ لاکھ ڈالر کا انعام مقرر ہے۔
اگر اوپن اے آئی کا دعویٰ درست ثابت ہوجاتا ہے تو یہ دوسرا ملینیم پرائز مسئلہ ہوگا جو حل ہوا ہے۔ اس سے قبل گریگوری پیریل مین نے ۲۰۰۳ء میں پوانکارے قیاس کو حل کیا تھا۔ اس وقت ریاضی دان اوپن اے آئی کے نتائج کی تصدیق کے لیے تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحقیق کے حوالے سے سنگھ نے بتایا کہ وہ فلکی طبیعیات میں سیال مادوں کے بہاؤ میں دلچسپی رکھتے تھے، جنہیں بھی نیویئر اسٹوکس جیسی مساوات کے ذریعے بیان کیا جاتا ہے۔ انہوں نے ۲۰۱۷ء کے اپنے مقالے میں ایسے ہی ایک عین اور ہموار بہاؤ کا حل پیش کیا تھا۔ تاہم ان کے مطابق اوپن اے آئی نے اس مسئلے کا کہیں زیادہ جامع تجزیہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مشرقی وسطیٰ میں غیرمعمولی کشیدگی
اوپن اے آئی کے حل پر ردِعمل
بہت سے دیگر سائنس دانوں کی طرح سنگھ بھی اس طریقے کے حامی نہیں ہیں جس کے ذریعے یہ مسئلہ حل کیا گیا۔ انہوں نے کہا، ’’یہ افسوس ناک ہے کہ ایک مشین اس مسئلے کو حل کرنے میں کامیاب ہوگئی، جبکہ صدیوں سے بہت سے سائنس دان اسے حل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ جب کوئی انسان کوشش کرتا ہے اور ناکام ہوجاتا ہے تو ان میں سے ہر کوشش ہمیں کچھ منفرد سکھاتی ہے۔ لیکن اگر اچانک کوئی آپ کو ایک تیار حل دے دے تو مجھے نہیں معلوم کہ یہ کتنا مفید ثابت ہوتا ہے۔‘‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے حاصل ہونے والے اس حل سے عملی سائنس کو کیا فائدہ ہوسکتا ہے تو سنگھ نے کہا کہ وہ اس حوالے سے زیادہ پُرامید نہیں ہیں۔ تاہم، ان کے مطابق ایک پُرامید شخص یہ مؤقف اختیار کرسکتا ہے کہ اس حل کو استعمال کرتے ہوئے موسم کی زیادہ درست پیش گوئی کے لیے بہتر سائنسی ماڈلز اور آلات تیار کیے جاسکتے ہیں۔ سنگھ نے قدرے طنزیہ انداز میں کہا کہ اس طرح کی دلیل کسی مارکیٹنگ ایجنٹ کی جانب سے بھی دی جاسکتی ہے، یعنی کسی نئی ٹیکنالوجی کے ممکنہ فوائد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاسکتا ہے۔
یو سی ایل اے کے پروفیسر اور دنیا کے معروف ترین ریاضی دانوں میں شمار ہونے والے ٹیرنس تاؤ نے بھی ماسٹوڈون پر ایک پوسٹ میں کہا کہ طاقتور مسئلہ حل کرنے والے ٹولز کا بلاامتیاز استعمال فوری طور پر درپیش مسائل حل کرنے کا قلیل مدتی ہدف حاصل کرسکتا ہے، لیکن اس کی قیمت مستقبل میں ہونے والی پیش رفت کیلئے درکار ماحول کو برقرار رکھنے یا پہلے سے حاصل شدہ پیش رفت کو سمجھنے کی صلاحیت کی صورت میں ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ اوپن اے آئی کے اعلان نے ایک اور وجہ سے بھی خاصا تنازع پیدا کیا ہے۔ کمپنی نے تسلیم کیا ہے کہ اس نے اس مسئلے پر کام اس وقت شروع کیا جب اسے یہ افواہیں سننے کو ملیں کہ اس کی حریف مصنوعی ذہانت کمپنی اینتھروپک نے یہ مسئلہ حل کرلیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کانگریس کا بی جےپی کی ’سی ٹیم‘ پر۱۰؍ ہزار کروڑ کی ٹیکس چوری کا الزام
ریاضی دان لیونٹ آلپوگے، جو اینتھروپک کے ملازم ہیں، اور ٹرسٹن بک ماسٹر نے بتایا کہ وہ بھی اوپن اے آئی کے کوڈیکس کا استعمال کرتے ہوئے اس مسئلے کے ایک حصے پر کام کر رہے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ اوپن اے آئی نے اپنے ماڈل کی تربیت کے لیے ان کے ڈیٹا سے فائدہ اٹھایا ہو۔ اوپن اے آئی نے اس امکان کی تردید نہیں کی۔ کمپنی نے ایک بیان میں کہا، ’’اگرچہ اس کا امکان کم ہے، لیکن ہم اس امکان کو مکمل طور پر خارج نہیں کرسکتے کہ ہماری مصنوعات کے استعمال سے حاصل ہونے والے شناخت سے پاک ڈیٹا نے ہمارے ماڈلز کو بہتر بنانے میں مدد کی ہو۔‘‘