کمپنی نے اےآئی، ڈیٹا سائنس، آٹومیشن، اور ڈیجیٹل تبدیلی جیسے شعبوں میں نئے ٹیلنٹ کو شامل کرنے پر توجہ دی۔
EPAPER
Updated: June 01, 2026, 1:03 PM IST | Mumbai
کمپنی نے اےآئی، ڈیٹا سائنس، آٹومیشن، اور ڈیجیٹل تبدیلی جیسے شعبوں میں نئے ٹیلنٹ کو شامل کرنے پر توجہ دی۔
ریلائنس گروپ نے مالی سال۲۶ءمیں ایک لاکھ سے زیادہ نئی بھرتیاں کی ہیں۔ کمپنی کی تازہ ترین سالانہ رپورٹ کے مطابق ۳۱؍ مارچ ۲۰۲۶ءتک ریلائنس کے ملازمین کی کل تعداد بڑھ کر۴؍ لاکھ ۱۹؍ ہزارسے زائد ہوگئی ہے۔ اس مدت کے دوران کمپنی نے مصنوعی ذہانت( اےآئی)، ڈیٹا سائنس، آٹومیشن، اور ڈیجیٹل تبدیلی جیسے شعبوں میں نئے ٹیلنٹ کو شامل کرنے پر توجہ دی۔ ریلائنس کے مطابق یہ بھرتیاں کمپنی کی اس تبدیلی کو ظاہر کرتی ہے، جس کے تحت وہ خود کو اے آئی فرسٹ اور ڈیپ ٹیک کمپنی کے طور پر آگے بڑھا رہی ہے۔
روزگار کے محاذ پر کمپنی کی اگلی بڑی امید اس کے سبز توانائی کے کاروبار میں ہے۔ دھیروبھائی امبانی گرین اینرجی گیگا کمپلیکس جو جام نگر میں تعمیر کیا جا رہا ہے اس میں معیشت میں ۲؍ لاکھ سے زیادہ گرین ملازمتیں پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ کمپنی کے مطابق، صاف توانائی کی طرف یہ تبدیلی گروپ کے لئے روزگار کا اگلا بڑا انجن بن سکتا ہے۔ کمپنی صرف ملازمتیں پیدا کرنے تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اپنے ملازمین میں نمایاں سرمایہ کاری بھی کرتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ریلائنس نے مالی سال میں ملازمین پر۳۰؍ ہزار کروڑ روپے خرچ کئے ہیں جو پچھلے مالی سال کے ۲۸؍ ہزار کروڑ روپے سے۶؍ فیصد زیادہ ہے۔ اس عرصے کے دوران کمپنی کو مسلسل چھٹے سال بھی ’’کام کرنے کے لئے بہترین جگہ‘‘ کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ ریلائنس کو برینڈن ہال گروپ ایچ سی ایم ایکسیلنس ایوارڈ اور گریٹ منیجر انسٹی ٹیوٹ کے ذریعہ ہندوستان کی اعلیٰ قیادت کی فیکٹریوں میں بھی تسلیم کیا گیا تھا۔
ریلائنس نے خواتین کی شرکت کے محاذ پر بھی پیش رفت کی ہے۔ اس مالی سال میں خواتین نے گروپ کے اندر ۱۴؍ فیصد قیادت کی پوزیشن حاصل کیں جبکہ براہ راست متعلقہ ملازمتوں میں ان کا حصہ۳۰؍ فیصد تھا۔ جیو نے اے آئی پر مبنی بھرتی پلیٹ فارم بھی تیار کیا جو ۱۱؍ زبانوں میں کام کرتا ہے، جس کا مقصد بھرتی کے عمل کو مزید منصفانہ بنانا ہے۔ کمپنی کے گریجویٹ انجینئر ٹرینی پروگرام نے۵۳؍ ہزاررجسٹریشن حاصل کیں، جس سے اس کی رسائی دور دراز علاقوں میں بھی ہوئی۔