Inquilab Logo Happiest Places to Work

عدالت نے نیٹ پیپر لیک ملزم کو دوبارہ امتحان کی اجازت دی، این ٹی اے نے نتیجہ روکا

Updated: July 17, 2026, 10:07 PM IST | New Delhi

عدالت نے نیٹ پیپر لیک کے ملزم کو۲۱؍ جون کا دوبارہ امتحان دینے کی اجازت دی، لیکن این ٹی اے نے اس کا نتیجہ روک لیا،اس سے قبل ۳؍ مئی کے امتحان میں۲۲؍ لاکھ ۷۰؍ ہزار سے زائد امیدواروں نے شرکت کی تھی۔

Netpaper leak accused Yash Yadav (circled). Photo: X
نیٹ پیپر لیک کا ملزم یش یادو(دائرے میں)۔ تصویر: ایکس

نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) نے طبی داخلہ امتحان (نیٹ-یوجی) کے سوالیہ پیپر کے لیک کے ملزم یش یادو کا نتیجہ روک کر رکھ دیا ہے۔یش یادو نے۳؍ مئی کو امتحان دیا تھا، لیکن۱۳؍ مئی کو گڑگاؤں میں سی بی آئی نے اسے گرفتار کر لیا۔جبکہ ۱۶؍ جون کو دہلی کی ایک عدالت نےاسے جون کو  یہ کہتے ہوئے کہ اسے اس  موقع محروم نہیں کیا جا سکتا، دوبارہ امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دی۔واضح رہے کہ این ٹی اے، جو یہ مقابلہ جاتی امتحان منعقد کرواتی ہے، نے۱۲؍ مئی کو اعلان کیا تھا کہ۳؍ مئی کو ہونے والا نیٹ-یوجی۲۰۲۶ء امتحان پرچہ لیک کی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا ہے۔اس کے بعد یش یادو کو۱۳؍ مئی کو گرفتار کیا گیا۔ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی)، جو اس کیس کی تحقیقات کر رہی ہے، کا الزام ہے کہ یادو نے محفوظ پیغام رسانی ایپ ٹیلیگرام کے ذریعے لیک شدہ سوالیہ پیپرز کی پی ڈی ایف فائلیں حاصل کیں اور انہیں۱۰؍ لاکھ روپے میں فروخت کیا۔

یہ بھی پڑھئے: نیٹ یوجی ۲۰۲۶ء: نتائج جاری، ۲۱ء۱۱؍ لاکھ امیدوار میڈیکل داخلوں کیلئے اہل قرار

بعد ازاں تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ یادو، جس نے خود۳؍ مئی کا امتحان دیا تھا، "لیک" شدہ پیپر کی تقسیم میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔۳؍ مئی کے امتحان میں۲۲؍ لاکھ ۷۰؍ ہزار سے زائد امیدواروں نے شرکت کی تھی۔۱۶؍ جون کو دہلی کی عدالت نے یادو کو۲۱؍ جون کے دوبارہ امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ اس کے خلاف الزامات انہیں امتحان دینے کے حق سے محروم کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتے۔روز ایونیو کورٹ کے اسپیشل جج ڈاکٹر وشال گوگنے نے اپنے۱۶؍ جون کے حکم میں کہا، ’’اگرچہ درخواست گزار (یادو) پر اس امتحان کے خفیہ سوالات کی غیر قانونی تقسیم اور تجارت کے سنگین الزامات ہیں جس میں وہ اب دوبارہ بیٹھنا چاہتا ہے، لیکن ایک طالب علم کے حقوق کو ضمانت کو سزا میں تبدیل کرکے اسے امتحان میں بیٹھنے کے موقع سے محروم کرکے ختم نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
عدالت نے مزید کہا، ’’یہ اس وقت اور بھی زیادہ درست ہے جب کسی بھی امتحان میں کسی طالب علم کی اہلیت، امیدواری اور انتخاب متعلقہ حکام / امتحان منعقد کرنے والے ادارے کے مناسب احکامات کے تابع ہوتی ہے۔ اس نقطہ نظر سے، عدالت درخواست گزار کو امتحان دینے کا مستحق قرار دیتی ہے۔‘‘  

یہ بھی پڑھئے: ای ۲۰؍ پیٹرول: کنزیومر کورٹ نے ماروتی سوزوکی کو گاہک کو نئی گاڑی دینے کا حکم دیا

ذہن نشین رہے کہ بیس سالہ یادو گڑگاؤں کا رہائشی اور دہرادون کی اتراکھنڈ آیوروید یونیورسٹی کاطالب علم ہے۔ اس نے نیٹ کے دوبارہ امتحان اور اپنی بہن کی شادی کا حوالہ دیتے ہوئے عبوری ضمانت کی درخواست کی تھی۔اگرچہ عدالت نے یادو کو دوبارہ امتحان دینے کی اجازت دی، لیکن اسےعبوری ضمانت نہیں دی۔ عدالت نے کہا، ’’تحقیقات کے ابتدائی مرحلے، جمع کیے جانے والے مواد اور شواہد کی وسیع رینج، اور دیگر مشتبہ افراد کے ابھی زیرِ تفتیش ہونے کے پیش نظر، عدالت اس طرح کی شرکت کی سہولت کے لیے عبوری ضمانت دینے کی طرف مائل نہیں ہے۔‘‘بعد ازاں یادو نے۲۱؍ جون کا امتحان دیا اور اگلے روز عدالتی حراست میں ہی اپنی بہن کی شادی میں شریک ہوا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK