میرے کریئرکو پروان چڑھانےمیں محمد ذیشان اورمسعود امینی کااہم رول رہا :رِنکو سنگھ

Updated: May 17, 2022, 1:14 PM IST | Agency | Mumbai

کولکاتا کے بلے باز نے کہا: ذیشان بھیا نےمجھے مالی طور پر سب سے زیادہ مدد کی ہے۔وہ مجھے کپڑے ، جوتے اور کرکٹ کی کٹس خرید کر بھی دیتے تھے

Rinku Singh.Picture:INN
رِنکو سنگھ ۔ تصویر: آئی این این

): زیرو سے ہیرو بننے کااحساس  اسی شخص کوہوسکتاہے جو اس سفر سے گزرا ہے۔ آئی پی ایل ۱۵؍ جاری ہے اور اس میں بھی اترپردیش کا ایک کرکٹر ہے جو اس سفر سے گزرا ہے لیکن وہ اپنی کامیابی کا کریڈٹ اپنی محنت کے ساتھ ساتھ اپنے دوست محمد ذیشان اور کوچ مسعود امینی کو دیتاہے۔ ہم بات کررہے ہیں کولکاتا نائٹ رائیڈرس (کے کے آر)کے رِنکو سنگھ کی جنہوں نے اس آئی پی ایل میں اپنا پہلامین آف دی میچ حاصل کیا تھااور وہ علی گڑھ سے آئی پی ایل کھیلنے والے پہلے کرکٹر بھی ہیں۔
 ایک انٹرویو کے دوران رِنکو سنگھ نے بتایا’’محمد ذیشان بھیا(بھائی ) نے میرے کرکٹ کریئر کو پروان چڑھانے میں بہت مدد کی ہے۔ بھیا نےمجھے مالی طور پر سب سے زیادہ مدد کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ مجھے کپڑے ، جوتے اور کرکٹ کی کٹس خرید کر بھی دیا کرتے تھے۔ ‘‘علی گڑھ کے کرکٹر نے مزید بتایا ’’۱۱۔۲۰۱۰ء میں میں نے انڈر ۱۶؍ ٹرائلس دیا تھا لیکن اس وقت میں پہلے راؤنڈ میں ہی بار ہوجاتا تھا تب محمد ذیشان بھیا نے مجھے پورا سپورٹ کیا اور ۲۰۱۲ء میں میں نے انڈر ۱۶؍ میچ کھیلا ۔ اس میچ میں میںنے ۱۵۴؍رن بنائے تھے او ر وہ میری سب سے یادگار اننگز تھی۔ اگر محمد ذیشان بھیا میرا سپورٹ نہیں کرتے تھے تو میں کرکٹ میں آگے نہیں بڑھ پاتا تھا۔‘‘
 رِنکو سنگھ نے بتایا’’انٹر اسکول میچوں کے دوران کرکٹرس کو خود کے جیب سے پیسے نکالنے ہوتے تھےاور اس وقت گھر سے پیسے نہیں ملتے تھے۔ خیر میں اچھا کھیلتا تھا اس لئے کوچیز میری سفارش کیا کرتےتھے کہ مجھے ٹیم میں رکھیں۔ اس معاملے میں میرے کوچ مسعود امینی نے مجھے بہت سپورٹ کیا۔ وہ مجھے کرکٹ کی باریکی بتانے کے ساتھ ہی مختلف ٹیم میں میرے انتخاب کیلئے سفارش کیا کرتے تھے۔ ان کی بدولت میں نے انٹر اسکول اور کالج سطح پر اچھا کرکٹ کھیلا ہے۔ ‘‘ کریئر میں ترقی کیلئے رِنکو سنگھ کی  ۵؍افراد نے بہت مدد کی ہے لیکن علی گڑھ کا یہ کھلاڑی سب سے زیادہ کریڈٹ محمد ذیشان کو دیتاہے۔ 
 رِنکو سنگھ تعلیم میں اچھے نہیں تھے لیکن ان کے پاس کرکٹ کی صلاحیت تھی جس کی وجہ سے وہ آج آئی پی ایل میں شاہ رخ خان کی ٹیم کولکاتا نائٹ رائیڈرس کی جانب سے کھیل رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کے والد رکشا پر ہوٹلس میں سلنڈر پہنچایا کرتے تھے۔ رِنکو سنگھ سمیت وہ ۵؍  بھائی ہیں اور وہ اپنے والدکا کاروبار میں ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔ رِنکو سنگھ کرکٹ کیلئے اتنے جذباتی تھے کہ وہ سرکاری میدان پر مشق کیا کرتے تھے۔ کولکاتا ٹیم کے کھلاڑی نے بتایاکہ ان کو پریکٹس کی معقول سہولت نہیں تھی اور قرض میں ڈوبے ہونے کی وجہ سے وہ اکیڈمی میں شمولیت اختیار نہیں کرسکتے تھے اس لئے سرکاری میدان پر ہی مشق کیا کرتے تھے۔ایک کارڈ بناکر اس میدان پر کرکٹ کھیلنے کی اجازت مل جاتی تھی۔ جب رِنکو سنگھ نے کرکٹ کھیلنا شروع نہیں کیا تھا تو ان پر ملازمت کا دباؤ زیادہ تھا ۔ اس وقت ان کے ایک بھائی نے انہیں  ملازمت پر لگوا دیا لیکن یہ کام انہیں پسند نہیں آیا ۔ اس کے بارے میں رِنکو سنگھ نے بتایا’’مجھے صفائی ملازم کے کام پر لگوا گیا تھا جو کہ میں پسند نہیں کرتا تھا۔ مجھے وہاں مشورہ دیا جاتا تھا کہ میں صبح پوچھا لگا دیا کروں ،کون مجھے دیکھنے والا ہے۔ لیکن میں اس کام کوپسند نہیں کرتا تھا اور میری پوری توجہ کرکٹ پر تھی اور میں نے وہ کام چھوڑ کرکرکٹ پر فوکس کرنا شروع کردیا۔ ‘‘
 رِنکو کے والد کرکٹ کو پسند نہیں کرتے تھے اور یہ پانچوں بھائی کرکٹ کھیلنے کیلئے کانپور تک کا سفر کیا کرتے تھے۔ ان کے والد باقاعدہ انہیں  پیٹنے کیلئے گھر کے باہر ڈنڈا لے کر بیٹھے رہتے تھے۔ تاہم اب  ان کے والدکاذہن تبدیل ہوچکا ہے اور آئی پی ایل میں کولکاتا نائٹ رائیڈرس میں خطیر رقم پر شامل ہونے کے بعد ان کے والد رِنکو سنگھ کی تعریف کرتے ہیں۔ رِنکو سنگھ کا معیار زندگی بھی بہتر ہوگیا ہے اور ان کے چھوٹے بڑے سبھی قرض اتر گئے ہیں۔ رِنکو سنگھ کی زندگی کرکٹ اور انہیں مدد کرنے والے محمد ذیشان اورکوچ مسعود امینی نے بدل دی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK