• Fri, 13 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

روہت شرما نے۲۰۲۷ء میں ورلڈ کپ جیتنے کو اپنا ہدف قراردیا

Updated: February 13, 2026, 12:29 PM IST | New Delhi

اسٹار بلے باز نے کہا کہ وہ یکروزہ ورلڈ کپ جیتنا چاہتے ہیں، ٹرافی اٹھانا چاہتے ہیں، یہ ان کا سب سے بڑا خواب ہے۔

Rohit Sharma. Photo: INN
روہت شرما۔ تصویر: آئی این این۔

ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان روہت شرما نے اپنے ون ڈے مستقبل کے بارے میں جاری قیاس آرائیوں کو ختم کردیا ہے۔ انہوں نے۲۰۲۷ء ون ڈے ورلڈ کپ میں شرکت کے حوالے سے اہم بیان دیا ہے۔ ٹی ۲۰؍ اور ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہونے کے بعد، روہت اب بین الاقوامی سطح پر صرف ون ڈے فارمیٹ میں کھیلتے ہیں ۔ جب ۲۰۲۷ء کا ورلڈ کپ جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا میں شروع ہوگا تو روہت کی عمر۴۰؍سال ہوگی۔ تاہم، روہت نے واضح کیا ہے کہ ان کا ہدف ٹیم کے ساتھ ورلڈ کپ ٹرافی اٹھانا ہے اور وہ فٹ رہنے کے لیے سخت محنت کرنے کو تیار ہیں۔ 
آئی سی سی کے ایک ایونٹ کے دوران روہت نے کہا’’میں یقینی طور پر وہاں جا کر اپنے ملک کے لیے ورلڈ کپ جیتنا چاہتا ہوں۔ یہ وہ چیز ہے جس کا میں نے ہمیشہ خواب دیکھا ہے۔ میں ۵۰؍ اوور کا ورلڈ کپ دیکھ کر بڑا ہوا ہوں۔ اس وقت، کوئی ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ یا آئی پی ایل نہیں تھا۔ یہ کرکٹ کا عروج تھا، جو ہر چار سال بعد منعقد ہوتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: پی ایس ایل کے پہلے آکشن میں نسیم اور فہیم کو ملی ریکارڈ فیس

روہت نے کہا کہ میں نے بچپن سے ہی ۵۰؍اوور کے ورلڈ کپ کا خواب دیکھا ہے۔ اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے روہت شرما نے کہا کہ وہ اس ایک ٹرافی کا بے صبری سے انتظار اور بے تاب تھے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے وہ ٹرافی چاہئے اس لیے میں اپنی بہترین صلاحیت کے مطابق محنت کروں گا اور اسے حاصل کروں گا۔ 
۳۸؍ سالہ روہت شرما نے۲۰۲۴ء میں ہندوستان کے ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ جیتنے کے بعد اس فارمیٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی۔ انہوں نے گزشتہ سال مئی میں ٹیسٹ کرکٹ سے بھی ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔ 
روہت اور وراٹ گریڈ بی میں ہیں 
واضح رہےکہ بی سی سی آئی نے کھلاڑیوں کے سالانہ سینٹرل کنٹریکٹ کی نئی فہرست جاری کر دی ہے۔ ایک بڑی تبدیلی میں اے پلس کیٹیگری کو ختم کردیاگیا ہے جس میں شامل کھلاڑیوں کو ۷؍ کروڑ  سالانہ تنخواہ ملتی تھی۔ روہت شرما اور وراٹ کوہلی کو اب گریڈ بی میں رکھا گیا ہے۔ بورڈ نے مجموعی طور پر۳۰؍ مرد اور۲۱؍ خواتین کرکٹرز کو کنٹریکٹ دیا ہے، جنہیں اے، بی، اور سی گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ نئے معاہدے کا فیصلہ گزشتہ سیزن میں کھلاڑیوں کی کارکردگی اور کھیلے گئے میچوں کی تعداد کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK