• Fri, 13 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۷۵؍ لاکھ صارفین کو مفت راشن کی فہرست سے نکال دیا گیا

Updated: February 13, 2026, 1:02 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

مرکزی حکومت کی نشاندہی پر آمدنی معلوم کرنے کی خصوصی مہم کے بعد کارروائی کی گئی۔

The campaign was launched for those receiving free ration and other government facilities. Photo: INN
مفت راشن اور دیگر سرکاری سہولیات حاصل کرنے والوں کے تعلق سے مہم چلائی گئی تھی۔ تصویر: آئی این این

انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ اور آدھار جیسے مختلف ذرائع سے تفصیلات حاصل کرنے کے بعد مرکزی حکومت کے ذریعہ فراہم کی گئی تفصیلات کی بنیاد پر ریاستی حکومت کے ’فوڈ اینڈ سول سپلائی ڈپارٹمنٹ‘ نے ۷۵؍ لاکھ صارفین کے نام مفت راشن پانے والوں کی فہرست سے نکال دیئے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ممبئی میں ملک کے پہلے’’میوزیکل روڈ‘‘ کا ڈرائیور لطف رہے ہیں

افسران کے مطابق متعلقہ محکمے کی جانب سے گھر گھر جاکر مفت راشن پانے والوں کی موجودہ مالی حالت کی تفصیلات حاصل کرنے کی خصوصی مہم انجام دی گئی تھی۔ مفت راشن اور دیگر سرکاری سہولیات حاصل کرنے والوں کے تعلق سے مرکز کی جانب سے فراہم کئے گئے اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ مہم چلائی گئی تھی۔ مرکز نےریاست مہاراشٹر میں ایک کروڑ ۷۸؍ لاکھ افراد کے تعلق سے شبہ ظاہر کیا ہے کہ یہ مفت سرکاری راشن حاصل کرتے ہیں لیکن ان کی آمدنی کے تعلق سے قوی شبہ ہے کہ یہ مفت راشن پانے والوں کے زمرے میں نہیں آتے۔ مرکز کی اس رپورٹ کی وجہ سے صارفین کی تصدیق کی خصوصی مہم چلائی گئی تھی جس کا مقصد یہ تھا کہ راشن پر جو سرکاری رعایت دی جاتی ہے، وہ صرف مستحق صارفین کو  حاصل ہو۔

یہ بھی پڑھئے: ممبئی میں ملک کے پہلے کلائمیٹ ویک کے انعقادکی تیاری

مرکزی حکومت نے ۸؍ مختلف سرکاری محکموں سے صارفین کی تفصیلات حاصل کی تھیں جن میں انکم ٹیکس، ٹرانسپورٹ اور ’یو آئی ڈی اے آئی (یونک آئیڈینٹی فکیشن اتھاریٹی آف انڈیا)‘ محکموں اور پردھان منتری کسان سمّان ندھی (پی ایم-کسان) جیسی اسکیموں سے فائدہ اٹھانے والے لوگ شامل ہیں۔

حالانکہ تفصیلات کے ساتھ فہرست فراہم کرنے کے بعد مرکز نے رعایت جاری رکھنے کے تعلق سے جانچ اور حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار ریاست پر چھوڑ دیا تھا۔ تاہم اس بنیاد پر ریاست کے ’فوڈ اینڈ سول سپلائی ڈپارٹمنٹ‘ نے گزشتہ سال جولائی میں صارفین کے تعلق سے تصدیق کی کارروائی شروع کی تھی۔ اس میں گھر گھر جاکر یہ معلوم کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ متعلقہ صارفین کی آمدنی کیا ہے اور وہ مفت راشن پانے کے اہل ہیں یا نہیں۔ اس تصدیق کے بعد ۷۵؍ لاکھ راشن کارڈ ہولڈروں کو نااہل قرار دیا جاچکا ہے۔اس دوران باقی رہ گئے افراد کی تصدیق کی کارروائی اب بھی جاری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی میں موبائل دکان میں بڑی چوری بے نقاب

واضح رہے کہ مہاراشٹر میں کُل ۶؍ کروڑ ۸۰؍ لاکھ راشن کارڈوں پر ہر مہینے فی فرد ۵؍ کلو راشن مفت دیا جاتا ہے۔ ان میں پیلے اور نارنگی رنگ کے راشن کارڈ پر یہ سہولت دی جاتی ہے۔ پیلا راشن کارڈ سالانہ ۱۵؍ ہزار روپے آمدنی والوں کو اور نارنگی راشن کارڈ ان افراد کو دیا جاتا ہے جن کی آمدنی سالانہ ایک لاکھ روپے سے زیادہ نہیں ہوتی۔ اس مہم میں ان افراد کے نام بھی نکال دیئے گئے ہیں جن کا انتقال ہوچکا ہے یا پھر وہ کسی دیگر مقام پر منتقل ہوچکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK