اپوزیشن سخت برہم، ابتدائی تعلیم کو سنگھی ذہنیت سے آلودہ کرنے کا الزام لگایا۔
EPAPER
Updated: August 21, 2026, 10:51 AM IST | Agency | New Delhi
اپوزیشن سخت برہم، ابتدائی تعلیم کو سنگھی ذہنیت سے آلودہ کرنے کا الزام لگایا۔
اس انکشاف کے بعد کہ ۱۱؍ویں اور ۱۲؍ ویں کی پولیٹیکل سائنس کی کتابوں کی تیاری کیلئے این سی ای آر ٹی نے جو ۲۰؍ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے اس میں ۴؍ اراکین آر ایس ایس کے ہیں، اپوزیشن کی کئی پارٹیوں اور طلبہ تنظیموں نے جمعرات کو سخت تشویش کا اظہار کیا۔ اپوزیشن نے برہمی کااظہار کیا کہ اسکولی تعلیم حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ ابتدائی تعلیم کو سنگھی ذہنیت سے آلودہ کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے این سی ای آر ٹی پر نصابی کتابوں کا ’سنگھی کرن‘ کرنے کا الزام عائد کیا اور طنزیہ انداز میں کہا کہ اب این سی ای آر ٹی کا مطلب ’ناگپور کوٹیری فار ایجوکیشنل ری رائٹنگ اینڈ ٹربل میکنگ‘ رہ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کانگو میں ایبولا کے مریضوں کی تعداد ۵؍ہزارسے متجاوز
راشٹریہ جنتا دل کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے بھی آر ایس ایس سے وابستہ افراد کو ٹیم میں شامل کرنے پر سوال اٹھایا۔ نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) اور بائیں بازو سے وابستہ آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (اے آئی ایس اے) نے بھی ٹیم کی تشکیل پر سخت اعتراض کیا۔ نئی ٹیم کو نصاب میں ’ثقافتی جڑوں‘، ’ہندوستانی علمی نظام‘ اور شمولیت جیسے پہلوؤں کو شامل کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ٹیم میں کم از کم ۴؍’’ماہرین تعلیم‘‘ آر ایس ایس اور اس سے وابستہ تنظیموں کے رکن ہیں۔