معروف اداکارہ سائی پلوی اپنی آنے والی فلم’ ’رامائن‘‘ میں سیتا کا اہم کردار ادا کرنے کے لیے خصوصی تیاری کر رہی ہیں۔ اس کردار کو بہتر انداز میں سمجھنے اور اس کی روحانی گہرائی کو محسوس کرنے کے لیے اداکارہ نے میڈیٹیشن کا سہارا لیا۔
EPAPER
Updated: November 01, 2026, 8:06 PM IST | Mumbai
معروف اداکارہ سائی پلوی اپنی آنے والی فلم’ ’رامائن‘‘ میں سیتا کا اہم کردار ادا کرنے کے لیے خصوصی تیاری کر رہی ہیں۔ اس کردار کو بہتر انداز میں سمجھنے اور اس کی روحانی گہرائی کو محسوس کرنے کے لیے اداکارہ نے میڈیٹیشن کا سہارا لیا۔
معروف اداکارہ سائی پلوی اپنی آنے والی فلم’ ’رامائن‘‘ میں سیتا کا اہم کردار ادا کرنے کے لیے خصوصی تیاری کر رہی ہیں۔ اس کردار کو بہتر انداز میں سمجھنے اور اس کی روحانی گہرائی کو محسوس کرنے کے لیے اداکارہ نے میڈیٹیشن کا سہارا لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سیتا کا کردار صرف ایک افسانوی یا مذہبی شخصیت کو پردۂ سیمیں پر پیش کرنے تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا تجربہ ہے جس نے انہیں زندگی، صبر، خود اعتمادی اور اندرونی مضبوطی کے بارے میں بہت کچھ سکھایا ہے۔
سائی پلوی کے مطابق، کسی بھی کردار کو حقیقت کے قریب پیش کرنے کے لیے صرف ظاہری حلیے اور مکالموں پر توجہ دینا کافی نہیں ہوتا، بلکہ اس کردار کی سوچ، جذبات اور زندگی کے تجربات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے مراقبے اور خود احتسابی کے ذریعے اپنے اندر سکون پیدا کرنے اور سیتا کے کردار کی شخصیت کو گہرائی سے سمجھنے کی کوشش کی۔
اداکارہ نے بتایا کہ سیتا کا کردار ادا کرنا ان کے لیے ایک خاص اور ذمہ داری سے بھرپور تجربہ ہے۔ اس کردار کی شخصیت میں موجود وقار، صبر، تحمل اور جذباتی مضبوطی کو سمجھنے کے لیے انہوں نے اپنے ذہن کو پرسکون رکھنے اور اندرونی طور پر خود کو تیار کرنے پر توجہ دی۔ میڈیٹیشن نے انہیں اپنے خیالات اور جذبات پر غور کرنے کا موقع دیا، جس سے کردار کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد ملی۔ان کے مطابق، سیتا کی شخصیت میں ایک ایسی مضبوطی موجود ہے جو مشکل حالات میں بھی انسان کو اپنے اصولوں اور وقار پر قائم رہنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ یہی خوبی اس کردار کو ان کے لیے خاص بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:زمان، منہاس اور بیگ کی شاندار کارکردگی کی بدولت پاکستان نے سہ فریقی سیریز جیتی
سائی پلوی نے اس کردار سے ملنے والی اہم سیکھ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سیتا کی زندگی انسان کو صبر، خود اعتمادی اور اندرونی طاقت کی اہمیت سمجھاتی ہے۔ ان کے کردار میں مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود اپنی شناخت اور وقار برقرار رکھنے کا پہلو نمایاں ہے۔ اداکارہ کے لیے یہ کردار محض ایک فلمی ذمہ داری نہیں، بلکہ خود کو ایک نئے زاویے سے سمجھنے کا موقع بھی ہے۔ سیتا کی شخصیت سے انہیں یہ احساس ہوا کہ حقیقی طاقت ہمیشہ ظاہری اظہار میں نہیں ہوتی، بلکہ کئی مرتبہ خاموشی، تحمل اور اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہنے میں بھی غیر معمولی قوت پوشیدہ ہوتی ہے۔
سائی پلوی نے حال ہی میں امیتابھ بچن کے مقبول کوئز شو ’’کون بنے گا کروڑ پتی‘‘ میں شرکت کے دوران فلم اور اپنے کردار سے متعلق تجربات شیئر کیے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا کہ سیتا کا کردار ان کے لیے عام فلمی کرداروں جیسا نہیں تھا، بلکہ وہ اسے ایک بڑی ذمہ داری اور اعزاز سمجھتی ہیں۔ ان کی خواہش تھی کہ اس کردار کو پوری عزت، عقیدت اور وقار کے ساتھ پردے پر پیش کیا جائے۔
اداکارہ نے کہا کہ انہوں نے اس کردار کے لیے خدا سے دعا کی کہ اسے ادا کرنے کے دوران انہیں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑے، وہ آسان ہو جائیں۔ ان کے مطابق، یہ فلم صرف ایک تفریحی پیشکش نہیں بلکہ ایسا کام ہے جسے آنے والی نسلیں بھی دیکھیں گی، اس لیے اس میں سیتا کے کردار کی عظمت اور وقار برقرار رہنا ضروری ہے۔
سائی پلوی نے میڈیٹیشن سے حاصل ہونے والے فائدے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ میڈیٹیشن نہیں کرتیں تو ان کے ذہن میں خیالات کی بھیڑ بڑھ جاتی ہے۔ اسی لیے سیتا کا کردار ادا کرتے ہوئے بھی وہ زیادہ تر وقت میڈیٹیشن کی مشق کرتی تھیں۔ اس عمل سے انہیں اپنے خیالات کو پرسکون رکھنے اور دباؤ کی صورت حال میں خود کو سنبھالنے میں مدد ملی۔اداکارہ کے مطابق، اس کردار سے انہیں زندگی کا ایک اہم سبق ملا کہ جب بھی انسان کسی پریشان کن یا دباؤ والے حالات سے دوچار ہو تو اسے فوراً ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے پہلے اس صورت حال کا مشاہدہ کرنا اور اسے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ جب بھی انہیں کسی مشکل یا تناؤ کا سامنا ہوتا تو وہ خود سے سوال کرتیں کہ اگر سیتا ایسی صورت حال میں ہوتیں تو کس طرح ردعمل ظاہر کرتیں۔ سائی پلوی کا کہنا تھا کہ سیتا کے کردار سے ملنے والی یہی سب سے بڑی سیکھ ہے کہ مشکل وقت میں جذبات کے زیر اثر فوری فیصلہ کرنے کے بجائے تحمل، سمجھ داری اور سکون سے حالات کا سامنا کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے:پرکاش راج کے سیاسی مؤقف سے خاندان بھی پریشان رہا، اہلیہ پونی ورما کا انکشاف
اداکارہ نے اس سے قبل بھی اپنے مختلف بیانات میں سیتا کا کردار ملنے کو ایک اعزاز اور برکت قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، اس نوعیت کے کردار کو ادا کرنا کسی فنکار کے لیے آسان نہیں ہوتا، کیونکہ اس کے ساتھ ناظرین کی عقیدت اور جذبات بھی وابستہ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس کردار کی تیاری میں صرف اداکاری پر توجہ دینے کے بجائے ذہنی اور روحانی طور پر خود کو تیار کرنے کی کوشش کی۔ سائی پلوی نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اس کردار کو اپنی صلاحیتوں کے ذریعے کوئی نئی شکل دینے کے بجائے خود کو اس کے تجربے سے سیکھنے کے لیے تیار رکھنا چاہتی تھیں۔ ان کے نزدیک سیتا کا کردار ادا کرنا صرف یہ سوچنے کا موقع نہیں تھا کہ وہ اس کردار میں کیا پیش کر سکتی ہیں، بلکہ یہ جاننے کا بھی تجربہ تھا کہ اس کردار سے انہیں زندگی کے بارے میں کیا سیکھنے کو مل سکتا ہے۔
واضح رہے کہ ہدایت کار نتیش تیواری کی فلم’ ’رامائن‘‘ میں رنبیر کپور بھگوان رام کا کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ سائی پلوی سیتا کے روپ میں نظر آئیں گی۔ روی دوبے لکشمن اور یش راون کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ فلم کو ہندوستانی سنیما کے بڑے اور اہم منصوبوں میں شمار کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے اس کے کرداروں اور فنکاروں کی تیاری سے متعلق معلومات مسلسل توجہ حاصل کر رہی ہیں۔سائی پلوی کے حالیہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے سیتا کے کردار کو صرف ایک اداکاری کے چیلنج کے طور پر نہیں لیا، بلکہ اس کے ذریعے صبر، تحمل، ذہنی سکون اور مشکل حالات میں وقار برقرار رکھنے جیسے اصولوں کو بھی سمجھنے کی کوشش کی ہے۔