• Sun, 01 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پرکاش راج کے سیاسی مؤقف سے خاندان بھی پریشان رہا، اہلیہ پونی ورما کا انکشاف

Updated: November 01, 2026, 4:03 PM IST | Mumbai

اداکار پرکاش راج اپنے بے باک سیاسی بیانات اور سماجی مسائل پر کھل کر اظہارِ خیال کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں، لیکن ان کے اس رویے کے پیچھے خاندان کی تشویش اور کئی ذاتی تجربات بھی شامل رہے ہیں۔ ان کی اہلیہ پونی ورما نے ایک انٹرویو میں شوہر کی جدوجہد، طلبہ کے احتجاج میں شرکت اور گھر میں مختلف مذہبی عقائد کے احترام سے متعلق کئی باتیں بتائی ہیں۔

Prakash Raj and his wife Pony Verma. Photo: INN
پرکاش راج اور ان کی بیوی پونی ورما۔ تصویر: آئی این این

اداکار پرکاش راج ملک کی ان نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جو سیاسی اور سماجی معاملات پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ان کی ’جسٹ آسکنگ‘ پوسٹس اکثر خبروں کی زینت بنتی ہیں۔ تاہم ان کی اہلیہ پونی ورما نے انکشاف کیا ہے کہ ابتدا میں پرکاش راج کے بے باک بیانات پر انہیں ان کی سلامتی کی فکر لاحق رہتی تھی۔ یہ خوف صحافی گوری لنکیش کے قتل کے بعد مزید بڑھ گیا تھا۔ پریما دی جرنلسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے پونی نے بتایا کہ گوری لنکیش کی موت کی خبر سن کر پرکاش راج شدید صدمے سے دوچار ہوگئے تھے۔ ان کے مطابق گوری بھی پرکاش کے کھل کر بولنے کے انداز پر فکر مند رہتی تھیں، لیکن ان کی موت نے اداکار کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اس کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی بات ضرور کہیں گے۔

یہ بھی پڑھئے: سکیش چندر شیکھر کے ۲۰۰ ؍کروڑ روپے کے وصولی معاملے میں نورا فتحی کو سمن

پونی کے مطابق پرکاش راج اکثر سوال کرتے تھے کہ آخر کب تک خوف کے سائے میں زندگی گزاری جائے؟ انہوں نے کہا کہ ان کے شوہر اپنے نظریات پر مضبوطی سے قائم رہتے ہیں۔ انہیں تلگو فلم انڈسٹری میں کئی مرتبہ پابندیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔ پونی نے بتایا کہ پرکاش کے سیاسی خیالات کی وجہ سے فلمی صنعت میں ان کے تعلقات بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے بعض قریبی دوست پرکاش سے اچھے تعلقات نہیں رکھتے، تاہم وہ کسی پر اپنے شوہر کو پسند کرنے کے لیے دباؤ نہیں ڈالتیں۔ ان کے مطابق پرکاش کو اپنے خیالات کی وجہ سے کئی فلموں اور اشتہارات کے مواقع بھی گنوانے پڑے۔ بعض لوگوں نے ایڈوانس رقم دینے کے بعد بھی فلموں سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔

طلبہ کے احتجاج میں شرکت

پونی نے دہلی کے جنتر منتر پر نیٹ امتحان کے پیپر لیک معاملے کے خلاف طلبہ کے احتجاج میں پرکاش راج کی شرکت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کے لاٹھی چارج اور پیلٹ فائرنگ کے مناظر دیکھ کر وہ خوف زدہ ہوگئی تھیں، لیکن پرکاش کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ ملک کا مستقبل ہیں اور ان کے ساتھ کھڑا ہونا ضروری ہے۔ پونی کے مطابق پرکاش نے احتجاجی مقام پر ہی رات گزاری، حالانکہ انہوں نے انہیں ہوٹل میں ٹھہرنے کا مشورہ دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پرکاش یہ سب اپنے اور ملک کے بچوں کے مستقبل کے لیے کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’مرزا پور: دی مووی‘‘ میں موہت ملک نے بیرجو جیسے پیچیدہ کردار کو نبھانے کا تجربہ بیان کیا

گھر میں مختلف مذاہب کا احترام

پونی نے بتایا کہ وہ مذہبی عقائد رکھتی ہیں اور مندروں میں جانا پسند کرتی ہیں، جبکہ پرکاش راج ملحد ہیں۔ اس اختلاف کے باوجود پرکاش ان کے عقائد کا احترام کرتے ہیں اور انہیں مندروں میں درشن کے لیے بھی مدد فراہم کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پرکاش مذہب کو ذاتی معاملہ سمجھتے ہیں اور کسی پر اپنے عقائد مسلط کرنے کے خلاف ہیں۔ پونی نے بتایا کہ ان کے گھر میں مختلف مذاہب کا ہمیشہ احترام کیا گیا ہے۔ پرکاش کی والدہ عیسائیت پر یقین رکھتی تھیں، جبکہ وہ خود بھگوان گنیش کی پوجا کرتی ہیں۔ ان کے گھر میں دیوالی اور کرسمس دونوں تہوار یکساں جوش و خروش سے منائے جاتے ہیں۔ پونی کے مطابق پرکاش کے نظریات کا مقصد لوگوں کو مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر تقسیم کرنے کے بجائے انہیں متحد دیکھنا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK