Updated: April 15, 2026, 12:32 PM IST
|
Agency
| Mumbai
آئی پی ایل کے اپنے ڈیبیو میچ میںسب کی توجہ حاصل کرنے والے ثاقب حسین کی متاثر کن داستان۔
سن رائزرز حیدرآباد کے کھلاڑی ثاقب حسین-تصویر:آئی این این
سن رائزرز حیدرآباد نے راجستھان رائلز کو ۵۷؍رنوں سے شکست دی، لیکن آئی پی ایل کی طرح اس بار بھی اصل کہانی اسکور بورڈ سے آگے تھی۔ یہ لیگ اکثر ایسی کہانیاں سامنے لاتی ہے جو کسی فلم کی طرح محسوس ہوتی ہیں جہاں ۲۱؍سالہ ثاقب حسین کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ تیز گیند باز نے اپنے ڈیبیو میچ میں ۴؍ اوور میں ۲۴؍رن دے کر ۴؍ وکٹ لے کر یادگار کارکردگی دکھائی۔ثاقب کا تعلق بہار کے گوپال گنج سے ہے، جہاں وہ ایک سادہ گھرانے میں پلے بڑھے۔ ان کے والد علی احمد حسین کسان اور یومیہ مزدور تھے۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب ثاقب نے خاندان کی مدد کے لئے ہندوستانی فوج میں شامل ہونے کا خواب دیکھا تھا۔
کرکٹ ابتدا میں ان کا منصوبہ نہیں تھا۔ یہ کھیل انہوں نے گلیوں میں دوستوں کے ساتھ ٹینس بال سے کھیلتے ہوئے سیکھا، بغیر کسی باقاعدہ کوچنگ یا سہولیات کے۔ لیکن ان کے پاس رفتار تھی اور خود پر یقین بھی۔
گھر کے حالات آسان نہیں تھے۔ والد کو گھٹنے کی شدید تکلیف کے باعث کھیتی چھوڑنی پڑی، جس سے مالی مشکلات بڑھ گئیں۔ ایسے میں ثاقب نے مقامی ٹینس بال ٹورنامنٹ کھیلنا شروع کیے، جہاں سے وہ تھوڑی بہت رقم کما کر گھر کا بوجھ کم کرنے لگے۔
مشکل وقت میں بھی ان کے والدین ان کے ساتھ ڈٹے رہے۔ ایک یادگار لمحہ یہ تھا جب ان کی والدہ نے ان کیلئے پہلی بار کرکٹ کے جوتے خریدنے کیلئے اپنے زیورات فروخت کر د دئیے - ایک قربانی جس نے ان کے پروفیشنل کرکٹ کے سفر کی بنیاد رکھی۔بہتر مواقع کی تلاش میں ثاقب پٹنہ منتقل ہوئے، جہاں ابتدائی دن سخت تھے ،لمبے سفر، کم سہولیات اور غیر یقینی صورتحال کے باوجود وہ مسلسل محنت کرتے رہے۔
۲۰۲۱ء میں بہار کرکٹ لیگ میں انہیں پہلا بڑا موقع ملا، جہاں ان کی رفتار نے سب کی توجہ حاصل کی۔ اس کے بعد انہیں بی سی سی آئی کے ہائی پرفارمنس کیمپ کیلئے منتخب کیا گیا، جو ان کیلئے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔
انہوں نے ۲۳۔۳۰۲۲ءکے سید مشتاق علی ٹرافی سے ڈومیسٹک کرکٹ میں قدم رکھا۔ پہلا میچ خاموشی سے گزر گیا، مگر اگلے ہی میچ میں گجرات کے خلاف ۴؍ وکٹ لے کر انہوں نے سب کو متاثر کر دیا۔
آئی پی ایل ٹیموں نے بھی ان پر نظر رکھنا شروع کی اور ۲۰۲۴ء میں کولکاتا نائٹ رائیڈرز نے انہیں اپنی ٹیم میں شامل کر لیا۔ اگرچہ انہیں زیادہ مواقع نہیں ملے اور وہ زیادہ تر بینچ پر رہے مگر اس تجربے نے انہیں اعلیٰ سطح کے کھیل کو سمجھنے میں مدد دی۔بہت سے لوگوں کیلئے یہ سفر کا اختتام ہو سکتا تھا، لیکن ثاقب کیلئے یہ آگے بڑھنے کا ایندھن بن گیا۔ انہوں نے اپنی گیند بازی پر محنت کی، خود کو بہتر بنایا اور دوسرے موقع کا انتظار کیا۔ سن رائزرز حیدرآباد نے ان کی اس ترقی کو دیکھا اور ۲۰۲۶ء کے سیزن کیلئے ان پر بھروسہ کیا۔اپنے پہلے ہی میچ میں انہوں نے اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ ۴؍وکٹیں حاصل کیں، جو آئی پی ایل کے پہلے میچ میں کسی بھی ہندوستانی کھلاڑی کی بہترین کارکردگی میں سے ایک ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ہر کوئی ان کے نام سے واقف ہو گیا۔