پاکستان نے ون ڈے سہ فریقی سیریز کے چوتھے مقابلے میں سنسنی خیز کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے انگلینڈ کو ایک وکٹ سے شکست دے دی اور فائنل میں اپنی جگہ پکی کرلی۔ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے اس مقابلے میں پاکستان کی جیت کے سب سے بڑے ہیرو شاداب خان رہے۔
EPAPER
Updated: October 26, 2026, 4:05 PM IST | Lahore
پاکستان نے ون ڈے سہ فریقی سیریز کے چوتھے مقابلے میں سنسنی خیز کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے انگلینڈ کو ایک وکٹ سے شکست دے دی اور فائنل میں اپنی جگہ پکی کرلی۔ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے اس مقابلے میں پاکستان کی جیت کے سب سے بڑے ہیرو شاداب خان رہے۔
پاکستان نے ون ڈے سہ فریقی سیریز کے چوتھے مقابلے میں سنسنی خیز کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے انگلینڈ کو ایک وکٹ سے شکست دے دی اور فائنل میں اپنی جگہ پکی کرلی۔ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے اس مقابلے میں پاکستان کی جیت کے سب سے بڑے ہیرو شاداب خان رہے، جنہوں نے آٹھویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے ناٹ آؤٹ ۱۱۳؍رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ انہوں نے حارث رؤف کے ساتھ آخری یعنی دسویں وکٹ کے لیے اہم شراکت قائم کرکے پاکستان کو شکست کے دہانے سے نکالا اور فتح سے ہمکنار کیا۔شاداب خان نے ۹۶؍ گیندوں پر ۱۳؍ چوکے اور۵؍ چھکے لگائے، جبکہ حارث رؤف نے ناٹ آؤٹ ۷؍ رنز بناکر ان کا ساتھ دیا۔ دونوں بلے بازوں نے ۸۰؍ گیندوں میں ۸۹؍ رنز کی ناقابلِ شکست شراکت قائم کی۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق، یہ ون ڈے کرکٹ میں کامیاب ہدف کے تعاقب کے دوران دسویں وکٹ کے لیے سب سے بڑی شراکت کا ریکارڈ ہے۔ پاکستان نے اس غیر معمولی کامیابی کے ساتھ سیریز میں مسلسل تیسری جیت حاصل کی اور فائنل کا ٹکٹ بھی کٹالیا۔
Shadab Khan plays an innings of his lifetime to fire Pakistan to an improbable victory over England in the ODI tri-series 👊 📝: https://t.co/XQSIKimJLn https://t.co/jd4iktXlZD
— ICC (@ICC) October 25, 2026
یہ بھی پڑھئے:آئی آئی ٹی طالبعلم کیلئے کینڈل مارچ، مظاہرین پر پولیس کی سختی
مقابلے میں ٹاس ہارنے کے بعد پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے انگلینڈ کی ٹیم۴ء۴۶؍ اوورز میں ۲۴۱؍ رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔ انگلینڈ کی شروعات انتہائی خراب رہی اور محض ۱۹؍ رنز کے مجموعی اسکور پر اس کے تین اہم کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے۔ اس مشکل صورتِ حال میں بین ڈکٹ نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کو سنبھالا اور اہم رنز جوڑے۔ بین ڈکٹ نے ۱۱۱؍ گیندوں پر ۱۰۵؍ رنز کی شاندار سنچری بنائی، جس میں ۱۰؍چوکے اور ۲؍ چھکے شامل تھے۔ انہوں نے سیم کرن کے ساتھ پانچویں وکٹ کے لیے ۹۳؍ رنز کی اہم شراکت قائم کی۔ سیم کرن نے ۵۲؍ گیندوں پر۴۲؍ رنز بنائے، جن میں ۵؍ چوکے شامل تھے۔ ول جیکس نے ۱۳؍ رنز بنائے، جبکہ گس اٹکنسن نے ناٹ آؤٹ ۳۶؍ رنز کی اننگز کھیل کر انگلینڈ کو ۲۴۱؍ رنز تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ہنری کروکوم نے ۸؍رنز بنائے۔ پاکستان کی جانب سے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے ۴۶؍ رنز دے کر ۴؍ وکٹیں حاصل کیں۔ رضا اللہ اور عرفات منہاس نے۲۔۲؍ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، جبکہ حارث رؤف نے ایک وکٹ حاصل کی۔
۲۴۲؍ رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی ٹیم کی شروعات بھی مایوس کن رہی۔ میزبان ٹیم نے محض ۳۱؍ رنز پر اپنے تین وکٹیں گنوادیں، جس کے بعد اس پر شکست کے بادل منڈلانے لگے۔ سلمان علی آغا نے ۲۶؍ رنز بناکر اننگز کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ انہوں نے سعد بیگ کے ساتھ چوتھی وکٹ کے لیے۴۳؍ رنز کی شراکت قائم کی۔ سعد بیگ نے ۳۲؍ رنز بنائے، جبکہ حسن نواز نے ۱۵؍ رنز کا تعاون دیا۔ اس کے باوجود پاکستان کی وکٹیں مسلسل گرتی رہیں اور ٹیم نے ۱۵۴؍ رنز تک پہنچتے پہنچتے نو وکٹیں گنوادیں۔ اس مرحلے پر انگلینڈ کی جیت تقریباً یقینی دکھائی دے رہی تھی، لیکن شاداب خان نے اپنی جارحانہ اور سمجھ دارانہ بیٹنگ سے میچ کا رخ ہی بدل دیا۔
یہ بھی پڑھئے:’’جولی ایل ایل بی ۴‘‘ میں اکشے کمار نہیں ہوں گے؟ ارشد وارثی مرکزی کردار میں
آٹھویں نمبر پر بیٹنگ کے لیے آنے والے شاداب خان نے دباؤ میں غیر معمولی حوصلے کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے انگلینڈ کے بولروں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور حارث رؤف کے ساتھ آخری وکٹ کے لیے ۸۹؍ رنز کی ناقابلِ شکست شراکت قائم کرکے پاکستان کو تاریخی فتح دلادی۔ شاداب خان نے ۹۶؍ گیندوں پر ناٹ آؤٹ ۱۱۳؍رنز بنائے۔ ان کی اننگز میں۱۳؍ چوکے اور ۵؍ چھکے شامل تھے۔ دوسری جانب حارث رؤف نے ناٹ آؤٹ ۷؍رنز بناکر ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ دونوں بلے بازوں نے اس وقت پاکستان کو جیت دلائی جب ٹیم کے پاس صرف ایک وکٹ باقی تھی اور شکست کا خطرہ منڈلا رہا تھا۔ انگلینڈ کی جانب سے جیمی اوورٹن نے سب سے زیادہ ۳؍ وکٹیں حاصل کیں۔ گس اٹکنسن اور لیام ڈاسن نے ۲۔۲؍ وکٹیں حاصل کیں، جبکہ ہنری کروکوم اور ول جیکس کو ایک، ایک وکٹ ملی۔ اس فتح کے ساتھ پاکستان نے سہ فریقی سیریز کے ابتدائی تینوں مقابلوں میں کامیابی حاصل کرکے فائنل میں اپنی جگہ یقینی بنالی ہے۔ پوائنٹس ٹیبل پر سری لنکا دوسرے نمبر پر ہے، جس نے اپنے دو میں سے ایک میچ جیتا ہے، جبکہ انگلینڈ مسلسل تین شکستوں کے بعد تیسرے مقام پر ہے۔