Inquilab Logo Happiest Places to Work

شاہ رخ خان نے خواب کو حقیقت میں بدل دیا ، اولمپکس کیلئے نیا کرکٹ گراؤنڈ

Updated: July 02, 2026, 5:08 PM IST | Los Angeles

۱۲۸؍ سال بعد کرکٹ ایک بار پھر اولمپکس میں واپس آ رہا ہے۔ اس سے پہلے کرکٹ صرف ایک ہی مرتبہ ۱۹۰۰ء کے پیرس اولمپکس میں کھیلاگیا تھا۔

Los Angeles Team ka Ground.Photo:X
لاس اینجلس ٹیم کا میدان۔۔ تصویر:ایکس

بالی ووڈ کے سپر اسٹار اورکولکاتا نائٹ رائیڈرز (کے کے آر)  کے شریک مالک شاہ رخ خان  نے اس اسٹیڈیم کی نقاب کشائی کی جہاں ۲۰۲۸ء کے لاس اینجلس اولمپکس میں کرکٹ کے مقابلے منعقد ہوں گے۔ کرکٹ ۱۲۸؍ سال بعد دوبارہ اولمپکس کا حصہ بن رہا ہے، کیونکہ اس سے پہلے یہ کھیل صرف ۱۹۰۰ء کے پیرس اولمپکس میں شامل تھا۔
شاہ رخ خان نے نائٹ رائیڈرز کرکٹ گراؤنڈ کی نقاب کشائی کی
سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک ویڈیو میں شاہ رخ خان نے آئی سی سی کے چیئرمین جے شاہ اور سی ای او سنجوگ گپتا کا ان کی بھرپور حمایت پر شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا’’جو ایک خواب کے طور پر شروع ہوا تھا، وہ آج حقیقت بن چکا ہے۔ آپ سب کو نائٹ رائیڈرز کرکٹ گراؤنڈ، لاس اینجلس میں خوش آمدید۔‘‘
انہوں نے مزید کہا’’یہ جگہ صرف کھیلوں کے لیے نہیں بلکہ تفریح، خاندانوں کے خوشگوار لمحات اور ہمیشہ یاد رہنے والی یادوں کے لیے بھی بنائی گئی ہے۔ اس سفر کے دوران جے بھائی کی مہربانیوں کا خصوصی شکریہ   اور   سنجوگ گپتا کا بھی بے حد شکریہ جنہوں نے ہر قدم پر ہمارا ساتھ دیا۔‘‘ویڈیو میں نائٹ رائیڈرز کی مختلف سسٹر فرنچائزز کے کھلاڑیوں، جن میں علی خان، سنیل نارائن  اور دیگر شامل تھے، کی اسی گراؤنڈ پر موجود تصاویر بھی دکھائی گئیں۔آخر میں شاہ رخ خان نے شائقین سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’یہ لاس اینجلس کے لیے، دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کے لیے اور نائٹ رائیڈرز خاندان کے لیے ہے۔ جامنی اور سنہری رنگ پر یقین رکھیں۔ لاس اینجلس نائٹ رائیڈرز کے گھر میں خوش آمدید۔‘‘
 کیلیفورنیا میں کے کے آر اسٹیڈیم کی لاگت کتنی ہے؟
 کرک بَز کی رپورٹ کے مطابق نائٹ رائیڈرز گروپ  نے کیلیفورنیا کے شہر پومونا  میں واقع  فیئر پلیکس  کے مقام پر ۲۱؍ ملین امریکی ڈالر مالیت کے اس کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کا آغاز کیا ہے۔ یہ میدان لاس اینجلس نائٹ رائیڈرزکی میجر لیگ کرکٹ (MLC) میں ہوم گراؤنڈ کے طور پر استعمال ہوگا، جبکہ ۲۰۲۸ء کے لاس اینجلس اولمپکس میں بھی کرکٹ کے مقابلوں کی میزبانی کرے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK