Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان کا پہلا نجی راکٹ ’’وکرم وَن‘‘ ۱۲؍ جولائی کو خلاء میں لانچ کیا جا سکتا ہے

Updated: July 02, 2026, 6:04 PM IST | Hyderabad

’اسکائی روٹ ایرو اسپیس‘ نے تصدیق کی کہ سات منزلہ راکٹ ’وکرم-ون‘ آندھرا پردیش کے شری ہری کوٹا میں واقع ستیش دھون اسپیس سینٹر میں مکمل طور پر اسمبل اور نصب کر دیا گیا ہے۔ اسے ۱۲ جولائی سے ۴ اگست کے درمیان لانچ کیا جا سکتا ہے۔ حتمی تاریخ کا انحصار مشن کی تیاری، موسم، سیکوریٹی اور رینج کلیئرنس پر ہوگا۔

Vikram-1. Photo: X
وکرم-ون۔ تصویر: ایکس

ہندوستان کا پہلا نجی طور پر ڈیزائن کردہ خلائی راکٹ، وکرم-ون (Vikram-1)، ۱۲ جولائی کو لانچ کیا جا سکتا ہے۔ حیدرآباد میں قائم ’اسکائی روٹ ایرو اسپیس‘ (Skyroot Aerospace) نے تصدیق کی کہ سات منزلہ راکٹ وکرم-ون آندھرا پردیش کے شری ہری کوٹا میں واقع ستیش دھون اسپیس سینٹر میں مکمل طور پر اسمبل اور نصب کر دیا گیا ہے۔ اسے ۱۲ جولائی سے ۴ اگست کے درمیان لانچ کیا جا سکتا ہے۔ حتمی تاریخ کا انحصار مشن کی تیاری، موسم، سیکوریٹی اور رینج کلیئرنس پر ہوگا۔

یہ مشن، جسے ”مشن آگمن“ (Mission Aagaman) کا نام دیا گیا ہے، ہندوستان اور دیگر ممالک کے سیٹلائٹس کو مدار میں لے جائے گا، اس طرح یہ ایک جزوی طور پر تجارتی پرواز بن جائے گی۔ اسکائی روٹ کے سی ای او اور شریک بانی پون کمار چندنا نے کہا کہ اس کا بنیادی مقصد پرواز کے دوران وکرم-ون کے ہر سسٹم کی کارکردگی کا حقیقی ڈیٹا جمع کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”اس ڈیٹا کو زمین پر کی جانے والی ٹیسٹنگ کے ذریعے مکمل طور پر تیار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ہمارے تیار کردہ ڈیزائن کی توثیق کرنے اور مستقبل میں راکیٹس کی تیاری میں مددگار ثابت ہوگا، کیونکہ ہم ایک قابلِ اعتماد اور تیز رفتار کمرشل لانچ پروگرام بنا رہے ہیں۔“

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان میں انڈیگو نے مسافروں کے لیے سستے ٹکٹ متعارف کروا دیئے

’وکرم-ون‘ کے بارے میں

وکرم-ون، ملٹی اسٹیج اوربیٹل لانچ وہیکل ہے جسے مکمل طور پر کاربن کمپوزٹ اسٹرکچر سے بنایا گیا ہے۔ یہ اندرونی طور پر تیار کردہ پروپلشن سسٹمز سے چلتا ہے، جس میں تھری ڈی پرنٹڈ انجن اور ہائی تھرسٹ ٹھوس ایندھن والے راکٹ بوسٹرز شامل ہیں۔ اسے ۳۵۰ کلوگرام تک وزنی سیٹلائٹس کو زمین کے نچلے مدار (Low Earth Orbit) میں لے جانے کیلئے بنایا گیا ہے۔ یہ مشن سطح زمین سے ۴۵۰ کلومیٹر کی بلندی پر ۶۰ ڈگری کے مداروی جھکاؤ (orbital inclination) کے ساتھ ایک مدار میں رہے گا، جس سے زمین کے ۶۰ ڈگری شمالی اور ۶۰ ڈگری جنوبی عرض بلد کے درمیان تقریباً تمام آباد علاقے کور ہوں گے۔

مشن آگمن نومبر ۲۰۲۲ء میں اسکائی روٹ کے کامیاب سب اوربیٹل راکٹ ’وکرم-ایس‘ (Vikram-S) کی لانچ کے بعد سامنے آیا ہے، جو کسی بھی ہندوستانی نجی کمپنی کی طرف سے راکٹ لانچ کرنے کی پہلی کوشش تھی۔ کمپنی کے شریک بانی اور سی او او ناگا بھرت ڈاکا نے موجودہ مشن کو ”ہندوستان میں، ہندوستان اور دنیا کیلئے بنائے جانے والے قابلِ اعتماد اور تیز رفتار لانچ پروگرام کی طرف ہمارا اب تک کا سب سے بڑا قدم“ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان میں جون میں روزانہ ۶؍ہزارسے زائد الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں کی خریداری

اسکائی روٹ عام طور پر کسی بھی راکٹ کے پہلے تین لانچوں کو نمائشی پروازیں (ڈیمونسٹریشن فلائٹس) مانتا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ایک یا دو کامیاب اوربیٹل ڈیمونسٹریشن مشنز کے بعد مکمل تجارتی لانچوں کا آغاز کرے گی۔ اس مشن کو حکومتِ ہند، ان-اسپیس (IN-SPACe)، اسرو (ISRO) اور ایک ہزار سے زائد افراد پر مشتمل ٹیم کا تعاون حاصل ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK