Updated: March 04, 2026, 12:02 PM IST
|
Mohammed Habeeb
| Mysore
انگریزوں کا مقابلہ کرنے والےٹیپو سلطان جیسے بہادر اور مہاراجہ کرشن راجہ واڈیار جیسے فنون کےماہرین کی سرزمین میسور ہر سیاح کیلئے جنت ہے۔
ٹیپوسلطان کا مقبرہ دیکھا جاسکتا ہے- تصویر:آئی این این
میسورہندوستان کی ریاست کرناٹک کاثقافتی دارالحکومت ہے جواپنے سنہری محلات، ریشم کی ساڑیوں، پہاڑیوں اور شاہی روایات کی وجہ سے دنیا بھرمیں مشہور ہے۔ بنگلور سے صرف ۱۴۰؍کلومیٹر دور واقع یہ شہر واڈیار خاندان کی ۶۰۰؍سالہ سلطنت کا مرکز رہا ہے، جس نےہندوستانی فنون، موسیقی، رقص اور شاہی شان کو نئی بلندیوں پر پہنچایا۔ ٹیپو سلطان جیسے بہادر اور مہاراجہ کرشن راجہ واڈیار جیسے فنون کےپالن ہاروں کی سرزمین میسور ہر سیاح کیلئے جنت ہے۔
تاریخ
میسور کی تاریخ ۱۴؍ ویں صدی سے شروع ہوتی ہے جب واڈیار خاندان نے ۱۳۹۰ءمیں اس پر قبضہ کیا۔ ۱۸؍ویں صدی میں حیدر علی اور ان کے بیٹے ٹیپو سلطان نے انگریزوں کے خلاف جنگیں لڑیں۔ شیرِ میسور ٹیپو نے راکٹ ٹیکنالوجی ایجاد کی اور سرسَرِنگا پٹنم میں شاہی محل بنایا۔
۱۷۹۹ءمیں ٹیپو کی شہادت کے بعد واڈیار بحال ہوئے۔ مہاراجہ کرشن راجہ واڈیارنے میسور کو جدید بنایابجلی، پانی، تعلیم، صحت کا نظام بہتر کیا۔۱۸۹۷ءمیں آگ سے تباہ ہونے والے پرانے محل کی جگہ موجودہ شاندار محل تعمیر کیا گیا۔ ۱۹۵۰ءمیں یہ ریاست ہندوستان میں ضم ہوگئی مگر مہاراجہ آج بھی شہر کے علامتی سربراہ ہیں۔
جیا لکشمی ولاس پیلس
۱۹۰۵ءمیں مہاراجہ چاماراجا وڈیار کی سب سے بڑی بیٹی کے لیے تعمیر کیا گیا جیا لکشمی ولاس پیلس پہلے ’فرسٹ راجکماری مینشن‘کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ میسور کے خوبصورت ترین محلات میں شمار ہونے والی اس عمارت کو حکومتِ کرناٹک نے ثقافتی ورثہ (ہیریٹیج) قرار دیا ہے۔اس محل میں ۳؍عجائب گھر قائم ہیں جن میں فوک لور میوزیم، آثارِ قدیمہ میوزیم اور جنرل میوزیم شامل ہیں۔ تقریباً۶؍ ایکڑ اراضی پرپھیلا یہ کشادہ محل لگ بھگ ۱۲۵؍کمروںپرمشتمل ہے اور اس میں ۲۵۰؍سےزائد نقش و نگار سے مزین دروازے اور کھڑکیاں موجود ہیں۔ یہ محل میسور کی ایک اور معروف سیاحتی جگہ ککراہلی جھیل کے قریب واقع ہے۔
میسور پیلیس
یہ محل صرف ایک عمارت نہیں بلکہ تاریخ کی زندہ تصویر ہے۔ موجودہ محل ۱۹۱۲ءمیں تعمیر ہوا، جبکہ پرانا محل آگ کی نذر ہوگیا تھا۔ اس محل میں اسلامی، راجپوت اور گوتھک اثرات واضح نظر آتے ہیں۔ اندر داخل ہوں تو سنگِ مرمر کے ستون، رنگین شیشوں کی چھتیں، سنہری دروازے اور دربار ہال کی عظمت دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں کبھی کس شان سے فیصلے ہوتے ہوں گے۔دسہرہ کے موقع پر جب پورا محل تقریباً ایک لاکھ بلبوں سے روشن ہوتا ہے تو یہ منظر دیکھنے کے لیے ہزاروں سیاح جمع ہوتے ہیں۔ شاہی جلوس، ہاتھیوں کی قطاریں، اور ثقافتی پروگرام اس تہوار کو ناقابلِ فراموش بنا دیتے ہیں۔
ٹیپو سلطان کا مقبرہ(گنبد)
گنبد میں حیدر علی اور ان کے بیٹے ٹیپو سلطان کے مقبرے واقع ہیں۔یہ مقام سری رنگاپٹنا میں ہے جو میسورسےتقریباً ۱۵؍کلومیٹر دور ہے۔۱۷۸۴ءمیںٹیپو سلطان نے اسے اپنے والد حیدر علی اور والدہ کےمقبروں کے طور پر تعمیر کروایا۔ بعد میں۱۷۹۹ءمیںٹیپو سلطان کو بھی یہیں سپردِ خاک کیا گیا۔لال باغ گارڈنز کے درمیان واقع یہ مقبرے اپنی تاریخی اہمیت اور دلکش طرزِ تعمیر کے باعث ہر آنے والے کو متاثر کرتے ہیں۔ ان کا طرزِ تعمیر گولکنڈہ کے مقبروں سے مشابہ قرار دیا جاتا ہے۔ تقریباً ۲۰؍ میٹر بلند یہ مقبرے فارسی طرزِ تعمیر کا نمونہ ہیں۔
کرشنا راجا ساگر ڈیم
عام طور پرکرشنا راجا ساگرڈیم کے نام سے مشہور یہ بند ۱۹۳۲ء میں وڈیار حکمرانوں کے دور میں تعمیر کیاگیا۔ اس کا نام کرشناراجا وڈیار چہارم کے نام پر رکھا گیا۔اسے سر ایم وشویشوریا نے ڈیزائن کیا، جو ہندوستان کے عظیم ترین انجینئروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔کاویری ندی پر تعمیر کیا گیا یہ ڈیم ملک کا پہلا آبپاشی بندبھی سمجھا جاتا ہے۔ اس کی بلندی تقریباً ۱۳۰؍فٹ ہے اور اس میں ۱۵۲؍سلُوئس گیٹس (پانی کے دروازے) موجود ہیں۔ تقریباً۳؍کلومیٹر طویل یہ ڈیم میسور شہر سےقریباً ۲۰؍کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کے اردگرد روشن باغات اور سرسبز مناظر علاقے کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔ ڈیم کے بیک واٹرز بھی نہایت دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔ اس کے قریب واقع برنداون گارڈنز ایک اور مشہور سیاحتی مقام ہے۔