Inquilab Logo Happiest Places to Work

آبنائے ہرمز: ۸۰؍ فیصد بحری ٹریفک غائب، امریکہ نے ایران کی حکمتِ عملی الٹ دی

Updated: August 23, 2026, 10:26 PM IST | Tehran

آبنائے ہرمز میں ان دنوں ایک غیر معمولی صورتحال دیکھنے میں آرہی ہے۔ خلیج سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل لے جانے والے آئل ٹینکر دنیا کے اہم ترین تیل کے راستے کے قریب پہنچتے ہی عوامی شپنگ ٹریکنگ سسٹم سے تقریباً غائب ہوجاتے ہیں اور چند گھنٹوں بعد آبنائے کے دوسری جانب دوبارہ نظر آتے ہیں۔

Strait Of Hormuz.Photo:INN
آبنائے ہرمز۔ تصویر:آئی این این

آبنائے ہرمز میں ان دنوں ایک غیر معمولی صورتحال دیکھنے میں آرہی ہے۔ خلیج سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل لے جانے والے آئل ٹینکر دنیا کے اہم ترین تیل کے راستے کے قریب پہنچتے ہی عوامی شپنگ ٹریکنگ سسٹم سے تقریباً غائب ہوجاتے ہیں اور چند گھنٹوں بعد آبنائے کے دوسری جانب دوبارہ نظر آتے ہیں۔یہ جہاز لاپتہ نہیں ہوتے بلکہ جان بوجھ کر ’’ڈارک‘‘ یعنی اپنے ٹریکنگ سگنل بند کرکے سفر کرتے ہیں۔
 شپنگ اینالیٹکس کمپنی  Kpler  کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تقریباً ۸۰؍ فیصد بحری ٹریفک  اسی طریقے سے سفر کرتی رہی ہے۔آئل ٹینکر اپنے  Automatic Identification System (AIS)  ٹرانسپونڈر بند کردیتے ہیں اور آبنائے کے جنوبی حصے میں عمان کے ساحل کے قریب سے گزرتے ہیں تاکہ ایران سے زیادہ سے زیادہ فاصلہ برقرار رکھا جاسکے۔ رپورٹ کے مطابق ان میں سے کئی بحری سفر کو امریکی فوجی مدد اور سیکوریٹی حاصل ہے۔ امریکہ جہازوں کو آبنائے کے ایک نسبتاً محفوظ جنوبی راستے سے گزرنے میں مدد فراہم کررہا ہے۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد خلیجی تیل کی سپلائی کو جاری رکھنا اور توانائی کے بحران کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں مزید بڑے اضافے کو روکنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:کنگنانے تاپسی کو ’پرورش‘ والے بیان پر آڑے ہاتھوں لیا، کہا: سستی کاپی سامنے آ گئی

یونان کی ملکیت والے ایک بڑے سپر ٹینکر  Kiku  کا سفر اس نئے نظام کی ایک مثال پیش کرتا ہے۔ کیکو نے قطر کے مسیعید ٹرمینل  سے خام تیل لوڈ کیا اور آبنائے ہرمز عبور کرنے کے بعد ۳۱؍ جولائی کو دبئی کے قریب سفر کررہا تھا۔ اسی دوران اس کا AIS سگنل اچانک غائب ہوگیا۔ اگلے روز صبح تقریباً ۱۰؍ بجے ٹینکر دوبارہ ٹریکنگ سسٹم پر نظر آیا، لیکن اب وہ آبنائے ہرمز کے دوسری جانب پہنچ چکا تھا۔اس طرح کے سفر کو ’’ڈارک ٹرانزٹ‘‘ کہا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ رات کے وقت کیے جانے والے ایسے بحری سفر کا حصہ ہے جنہیں امریکی فوجی تعاون حاصل ہے اور جن کا مقصد ایرانی ڈرون حملوں کے خطرے کو کم کرنا ہے۔
 حکمتِ عملی صرف ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزارنے تک محدود نہیں ہے۔ خلیجی تیل کمپنیوں نے ایسے جہاز بھی کرائے پر لیے ہیں جو خام تیل کو آبنائے کے ذریعے آگے لے جاتے ہیں۔ اس کے بعد خلیجِ عمان میں موجود دوسرے ٹینکروں میں تیل منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ دوسرے جہاز بعد میں خام تیل کو دنیا کے مختلف خریداروں تک پہنچاتے ہیں۔ ٹینکروں کے AIS سگنل بند کرنے کا ایک اہم اثر یہ ہے کہ روایتی شپ ٹریکنگ سسٹمز آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل کی اصل مقدار کا درست اندازہ نہیں لگا پاتے۔امریکی محکمہ توانائی کے اندازے کے مطابق اس راستے سے روزانہ اوسطاً ۸۰؍ لاکھ سے ۹۰؍ لاکھ بیرل تیل  گزر رہا ہے۔ یہ مقدار بعض وال اسٹریٹ تجزیہ کاروں اور صرف ٹرانسپونڈر ڈیٹا پر انحصار کرنے والی ٹریکنگ سروسز کے اندازوں سے تقریباً دوگنی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:الیکس لینیئر نے تاریخ رقم کردی، فرانس کے پہلے مینز سنگلز عالمی چیمپئن بن گئے

سیٹیلائٹ اور رڈار تصاویر ایسے جہازوں کی موجودگی کے بارے میں اضافی معلومات فراہم کررہی ہیں جو عوامی ٹریکنگ سسٹمز پر دکھائی نہیں دیتے۔  جنگ سے قبل آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً ۵ء۱؍ کروڑ بیرل خام تیل گزرتا تھا۔ جولائی میں صرف امریکی تحفظ حاصل کرنے والے راستوں کے ذریعے ہی خلیج سے تقریباً  ۵۰؍لاکھ بیرل تیل روزانہ  باہر منتقل کیا گیا، جس کا حوالہ دی نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں دیے گئے تجزیہ کاروں کے اعداد و شمار سے دیا گیا ہے۔ عالمی تیل مارکیٹ کے لیے یہ اضافی سپلائی انتہائی اہم ہے۔ اگر آبنائے ہرمز میں ٹینکرز کی نقل و حرکت بڑے پیمانے پر رک جاتی، تو عالمی مارکیٹ میں تیل کی دستیابی کم ہوسکتی تھی اور اس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ممکن تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK