Inquilab Logo Happiest Places to Work

امیتابھ بچن نے’’کے بی سی‘‘ کے امیدواروں کی زندگی بدلتے دیکھنے کا تجربہ بیان کیا

Updated: August 24, 2026, 6:02 PM IST | Mumbai

بالی ووڈ کے لیجنڈری اداکار امیتابھ بچن نے مشہور کوئز شو ’’کون بنے گا کروڑ پتی‘‘ (کے بی سی) سیزن ۱۸؍ کی میزبانی کے دوران امیدواروں کی زندگیوں میں آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شو میں بعض لوگوں کی زندگی گھنٹوں نہیں بلکہ چند منٹوں میں بھی بدل جاتی ہے۔

Amitabh Bacchan.Photo:INN
امیتابھ بچن۔ تصویر:آئی این این

بالی ووڈ کے لیجنڈری اداکار  امیتابھ بچن  نے مشہور کوئز شو  ’’کون بنے گا کروڑ پتی‘‘ (کے بی سی) سیزن ۱۸؍ کی میزبانی کے دوران امیدواروں کی زندگیوں میں آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شو میں بعض لوگوں کی زندگی  گھنٹوں نہیں بلکہ چند منٹوں میں بھی بدل جاتی ہے۔  امیتابھ بچن کے مطابق کے بی سی کی اصل خوبصورتی صرف سوالات، جوابات یا انعامی رقم میں نہیں بلکہ ان لوگوں کی کہانیوں میں ہے جو اس پروگرام میں اپنے خواب لے کر آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:کوکو گاف نے جیسیکا پیگولا کو ہرا کر اپنا دوسرا سنسناٹی خطاب جیت لیا

انہوں نے خاص طور پر ان امیدواروں کا ذکر کیا جو محدود مالی وسائل کے باوجود اپنی زندگی بہتر بنانے کی امید کے ساتھ شو کا حصہ بنتے ہیں۔ ان کے لیے کے بی سی  میں حاصل ہونے والی رقم محض انعام نہیں بلکہ  نئی زندگی شروع کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔  امیتابھ نے بتایا کہ جب کوئی امیدوار اپنی منزل کے قریب پہنچتا ہے یا اپنی جیت سے اپنے خاندان کی زندگی بدلنے کی امید حاصل کرتا ہے تو اس کے چہرے پر خوشی اور آنکھوں میں آنسو دیکھنا ان کے لیے انتہائی جذباتی تجربہ ہوتا ہے۔
ان کے مطابق امیدواروں کی خوشی، امید، جدوجہد اور جذبات کے بی سی  کو ایک خاص پروگرام بناتے ہیں۔ کئی مرتبہ ایک درست جواب یا چند مسلسل کامیابیاں کسی شخص کی مالی صورتحال پر فوری اثر ڈال سکتی ہیں۔  امیتابھ بچن نے اپنے تجربے کا خلاصہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ انسان کی زندگی ہمیشہ ایک ہی رفتار سے آگے نہیں بڑھتی۔ بعض اوقات ایک موقع، ایک فیصلہ یا ایک کامیابی مستقبل کا پورا رخ بدل دیتی ہے۔
’’کے بی سی‘‘  میں وہ خود ایسے کئی مواقع کے گواہ رہے ہیں جہاں امیدوار معمولی مالی پس منظر سے آکر بڑی رقم جیتتے ہیں اور پھر اپنے خاندان، تعلیم، گھر یا مستقبل کے منصوبوں کو بہتر بنانے کے قابل ہوتے ہیں۔کے بی سی سیزن ۱۸؍ میں ممبئی سے تعلق رکھنے والی روچیتا ادھل راؤ  نے  ۵۰؍ لاکھ روپے  جیتے۔ ان کی کہانی بھی شو کے اس پہلو کو نمایاں کرتی ہے کہ انعامی رقم کسی شخص کے لیے کتنی اہم ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:کیزیا لِز میجو نے مس یونیورس انڈیا ۲۰۲۶ء کا تاج اپنے نام کرلیا

روچیتا نے اپنی مالی مشکلات کے بارے میں بتایا تھا اور یہ بھی ذکر کیا تھا کہ وہ عوامی وائی فائی سے ڈاؤن لوڈ کیے گئے اسباق کے ذریعے تعلیم حاصل کرتی رہی ہیں۔ ان کے مطابق جیتی ہوئی رقم سے ان کے خاندان کو اپنے مستقل گھر کا خواب پورا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔  ’’کے بی سی ‘‘  سیزن ۱۸؍ کا آغاز ۱۰؍ اگست ۲۰۲۶ء کو ہوا اور امیتابھ بچن ایک بار پھر میزبان کی حیثیت سے واپس آئے ہیں۔ وہ تیسرے سیزن کے علاوہ تقریباً تمام سیزنز کی میزبانی کرچکے ہیں، جبکہ تیسرے سیزن میں  شاہ رخ خان  نے شو کی میزبانی کی تھی۔ 
امیتابھ بچن کے لیے کے بی سی  کی سب سے بڑی کامیابی شاید یہ ہے کہ وہ برسوں سے ایسے عام لوگوں کی کہانیوں کا حصہ بنتے آئے ہیں جو علم، محنت اور امید کے ذریعے اپنی زندگی بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے حالیہ خیالات ایک بار پھر یہی پیغام دیتے ہیں کہ  کبھی کبھی ایک موقع انسان کی پوری زندگی کا رخ بدل سکتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK