Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: ۷۴؍ فیصد انڈرگریجویٹ طلبہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نسل کشی کر رہا ہے: سروے

Updated: August 31, 2026, 10:27 AM IST | Washington

برینڈیس یونیورسٹی کے سروے میں۷۴؍ فیصد امریکی انڈرگریجویٹ طلبہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نسل کشی کر رہا ہے، امریکن انڈرگریجویٹس اینڈ دی اسرائیلی-فلسطینی تنازع کے عنوان سے اس مطالعے میں ۳۰۳؍امریکی کالجوں اور یونیورسٹیوں کے۳۹۸۹؍ انڈرگریجویٹ طلبہ کا آن لائن سروے شامل ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

برینڈیس یونیورسٹی کے مورس اور مارلن کوہن سینٹر فار ماڈرن جیوش اسٹڈیز کی اگست ۲۰۲۶ءمیں جاری کردہ نئی تحقیق کے مطابق،۷۴؍ فیصد امریکی انڈرگریجویٹ طلبہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کر رہا ہے۔ ’’امریکن انڈرگریجویٹس اینڈ دی اسرائیلی-فلسطینی تنازع‘‘ کے عنوان سے اس مطالعے میں۳۰۳؍ امریکی کالجوں اور یونیورسٹیوں کے۳۹۸۹؍ انڈرگریجویٹ طلبہ کا آن لائن سروے شامل تھا، جو اکتوبر۲۰۲۵ء سے جنوری۲۰۲۶ء کے دوران پولنگ فرم جنریشن لیب نے کروایا۔سروے میں بتایا گیا کہ۸۲؍ فیصد طلبہ فلسطینیوں کے حق خودارادیت اور ریاست کے قیام کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ صرف۲۵؍ فیصد اس بات سے متفق نہیں کہ اسرائیل کے اقدامات نسل کشی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: وائٹ ہاؤس کے ٹیلی پرامپٹر آپریٹر پر ٹرمپ کی تقاریر پر سٹہ لگانے پر جرمانہ

واضح رہے کہ طلبہ کے خیالات اس بنیاد پر بھی نمایاں طور پر مختلف ہیں کہ ان سے کس فریق کے بارے میں پوچھا جاتا ہے۔۷۷؍ فیصد طلبہ فلسطینی عوام کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں، جبکہ۵۲؍ فیصد اسرائیلی عوام کو مثبت نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ فرق حکومتی سطح پر مزید بڑھ جاتا ہے، ۴۱؍ فیصد فلسطینی اتھارٹی کو مثبت خیال کرتے ہیں، جبکہ صرف۱۵؍ فیصد اسرائیلی حکومت کو مثبت جانتے ہیں۔۴۶؍ فیصد اسرائیلی حکومت کو ’’انتہائی غیر مثبت‘‘ قرار دیتے ہیں اور مزید ۳۹؍ فیصد اسے ’’غیر مثبت‘‘ کہتے ہیں۔ بعد ازاں محققین نے خبردار کیا کہ نسل کشی کے بیان سے اتفاق کا مطلب تنازع پر یکساں متحد موقف نہیں ہے۔ جہاں۹۸؍ فیصد طلبہ جو سختی سے فلسطین حامی اور اسرائیل مخالف ہیں اس بیان کی تائید کرتے ہیں، وہیں۸۴؍ فیصد وہ طلبہ بھی اس سے متفق ہیں جو خود کو تنازع کے بارے میں کم علم رکھنے والا بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ان کی ذاتی ترجیحات میں اہمیت نہیں رکھتا۔
مزید برآں مطالعہ میں پایا گیا کہ سیاسی وابستگی، نہ کہ طالب علم کا تنازع کی طرف عمومی رجحان، نسل کشی کے دعوے سے اتفاق کی بہترین وضاحت کرتی ہے۹۴؍ فیصد طلبہ جو خود کو انتہائی لبرل بتاتے ہیں متفق ہیں، جبکہ صرف۴۵؍ فیصد قدامت پسند ایسا کرتے ہیں۔تحقیق کے مطابق، ایک چوتھائی سے بھی کم طلبہ اسرائیل (حکومت اور عوام دونوں) کے خلاف گہری دشمنی رکھتے ہیں، اور اس گروہ کا تقریباً نصف حصہ حماس کے لیے ہمدردی ظاہر کرتا ہے۔اس کے برعکس، نصف سے زیادہ طلبہ کے تنازع پر غیر واضح خیالات ہیں، جن میں سے اکثر تنازع کے بارے میں محدود علم کا اعتراف کرتے ہیں اور اسے امریکی داخلی مسائل (جیسے نسل پرستی اور امیگریشن) کے مقابلے میں کم ذاتی ترجیح قرار دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مشہور سنیما شخصیات کا وینس فلم فیسٹیول میں فلسطینی جھنڈا لہرانے کا مطالبہ

ذہن نشین رہے کہ یہ نتائج اس وقت سامنے آئے ہیں جب مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی چھاپے اور گرفتاریاں جاری ہیں، ساتھ ہی فلسطینیوں اور ان کی املاک پر یہودی آباد کاروں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ غزہ میں۱۰؍ اکتوبر۲۰۲۵ء سے جاری جنگ بندی کی اسرائیلی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر ۲۰۲۳ءمیں اسرائیل کی غزہ پر نسل کشی کی جنگ شروع کرنے کے بعد سے اب تک ۷۳؍ ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید اور ایک لاکھ ۷۴؍ ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK