ٹی ۲۰؍ سیریز میں ٹیم انڈیا کا نیوزی لینڈ پر برتری کاارادہ

Updated: January 26, 2020, 12:31 PM IST | Agency | Auckland

آج ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دوسرا ٹی ۲۰؍مقابلہ۔ ہندوستانی گیندبازوں سے بہتری کی امید

ٹیم انڈیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان دوسرا ٹی ۲۰ میچ آج ۔ تصویر : آئی این این
ٹیم انڈیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان دوسرا ٹی ۲۰ میچ آج ۔ تصویر : آئی این این

  آکلینڈ : ہندوستانی ٹیم نے نیوزی لینڈ کے دورے میں کامیاب آغاز سے اپنا حوصلہ مضبوط کر لیا ہے اور ٹیم انڈیا  اتوار کو یوم جمہوریہ کے موقع پر دوسرے ٹی ۲۰؍ میچ میں کامیابی  حاصل کرنے اور۵؍ میچوں کی سیریز میں اپنی برتری صفر۔۲؍کرنے کے ارادے سے اترے گی۔
 ہندوستانی کپتان وراٹ کوہلی نے ٹیم انڈیا کے مصروف شیڈول پر فکر ظاہر کی تھی لیکن پہلا ٹی ۲۰؍ مقابلہ جیتنے کے بعد انہوں نے کہا کہ یہ دیکھنا زیاد ہ اہم ہے کہ ٹیم نے نیوزی لینڈ میں پہنچنے کے ۴۸؍گھنٹے بعد ہی کامیابی حاصل کی۔ ہندوستان کی آسٹریلیا کے خلاف ۳؍ میچوں کی ون ڈے سیریز۱۹؍ جنوری کو ختم ہوئی تھی اور اب اسے نیوزی لینڈ کے خلاف ۵؍ مسلسل ٹی ۲۰؍ میچ کھیلنے ہیں۔
 ہندوستان نے آکلینڈ کے اسی میدان میں پہلے مقابلے میں ہر لحاظ سے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیاتھا اور اپنی ٹی ۲۰؍ تاریخ میں ریکارڈ چوتھی بار ۲۰۰؍رن سے زیادہ ہدف کا کامیابی سے تعاقب کر کے کامیابی حاصل کی۔ نیوزی لینڈ نے اگرچہ۲۰۳؍ رن کا مضبوط اسکور بنایا لیکن ہندوستان نے۱۹؍ اوور ہی میں میچ ختم کر دیا۔ 
 اس جیت میں ٹیم انڈیا کیلئے سب سے زیادہ مثبت بات یہی رہی کہ اس نے ۲۳۰؍رن  کے اسکور کی طرف بڑھ رہی کیوی ٹیم کو ۲۰۳؍ رن تک محدود کر دیا اور ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے اس نے میچ کو آخری اوور تک نہیں جانے دیا۔ ہندوستان  نے ۶؍ گیند پہلے ہی میچ ختم کر دیا۔
 ایّر نے پہلی بار غیرملکی سر زمین پر کوئی ٹی  ۲۰؍مقابلہ کھیلا۔ وہ جب کریز پر اترے تو ان کے کپتان وراٹ آؤٹ ہو چکے تھے۔ یہ حالت کسی بھی کھلاڑی کو دباؤ میں لا سکتی تھی لیکن  ایّر نے تحمل اور حملے کا بہترین تال میل پیش کیا اور میزبان ٹیم کو غلبہ حاصل کرنے کا کوئی موقع نہیں دیا۔ ایّرکی یہ اننگز ہندوستانی ٹیم مینجمنٹ کو یقین دلا سکتی ہے کہ اس کے پاس ایسا بلے باز ہے جو سب سے اوپر اور نچلے آرڈر کے درمیان محور کا کام کر سکتا ہے اور ٹیم کو سنبھال سکتا ہے۔ٹیم کے اوپنر لوکیش راہل وکٹ کیپر بلے باز کا مسئلہ بھی حل کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ راہل کی بہترین بلے بازی اور وکٹ کے پیچھے ان کی ٹھیک ٹھاک کارکردگی ٹیم کو ایک توازن دے رہی  ہے جو رشبھ پنت کے رہتے نہیں مل پا رہا تھا۔ راہل کی یہ افادیت نے پنت کو فی الحال الیون سے باہر کر دیا ہے۔
 پہلے میچ کی جیت میں ہندوستان کی اگر کوئی فکر رہی تو وہ بولنگ ہو سکتی ہے جس نے میچ میں ۲۰۰؍سے زیادہ رن دے دیئے لیکن نیوزی لینڈ کے میدان چھوٹے ہیں جہاں بڑے اسکور کی توقع کی جا سکتی ہے۔ ہندوستانی گیند بازوں نے ڈیتھ اوورس میں اگرچہ اچھی بولنگ کی اور میزبان ٹیم کو۲۲۰۔۲۳۰؍رن  کے اسکور تک پہنچنے  سے روک دیا۔ وراٹ نے بھی پہلے میچ کے بعد گیند بازوں کی تعریف کی کہ انہوں نے کیوی ٹیم کو ۲۳۰؍رن  تک نہیں جانے دیا۔دوسرا میچ بھی اسی میدان پر ہے اور ہندوستانی ٹیم فتح کے رتھ کو دوسرے مقابلے میں بھی دوڑانے کی کوشش کرے گی جبکہ میزبان ٹیم کی کوشش سیریز میں لوٹ کر اسے برابر کرنے کی ہوگی۔ نیوزی لینڈ کے لئے اس ہار میں بھی اچھی بات یہی رہی کہ اس کے کپتان کین ولیمسن فارم میںلوٹ آئے  ہیں اور کین کے ساتھ  اس کے ۳؍بلے بازوں نے نصف سنچری بنائی۔ لیکن میزبان کو اپنی بولنگ کو درست کرنا پڑے گا تاکہ وہ ہندوستانی بلے بازوں پر روک سکیں۔ اس  کے ساتھ ساتھ اس کے بلے بازوں کو ڈیتھ اوورس میں ہندوستانی گیند باز  جسپريت بمراه کی گیند بازی سے بھی نمٹنا ہوگا۔یہ طے ہے کہ اس سیریز میں بڑے اسکور والے میچ ہوں گے اور ٹیموں کو اس کیلئے تیار رہنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK