یکروزہ سیریز میں برقرار رہنے کیلئے ٹیم انڈیا کو سینئر کھلاڑیوں سے اچھے کھیل کی اُمید

Updated: December 07, 2022, 10:49 AM IST | Mirapur

آج دوسرے یکروزہ میچ میں بنگلہ دیش کی ٹیم کامیابی کے ساتھ سیریز پر قبضہ کرنا چاہے گی۔ ٹیم انڈیا کووراٹ ، راہل ، شکھر اور روہت سے زیادہ امیدیں

Team India players busy practicing
ٹیم انڈیا کے کھلاڑی مشق کرنے میں مصروف

 جب ہندوستانی ٹیم بدھ کو یہاں ۳؍ میچوں کی سیریز کے دوسرے ون ڈے میں بنگلہ دیش کا مقابلہ کرے گی تو وہ اس کرو یا مرو کے میچ میں بڑے کھلاڑیوں سے بہتر کارکردگی کی امید کرے گی۔ ہدف کے تعاقب میں بنگلہ دیش نے سیریز کے پہلے میچ میں آخری وکٹ کیلئے ۵۰؍سے زائد رن کی ناقابل شکست شراکت  کے ساتھ شاندار کامیابی حاصل کرلی۔ ہندوستانی گیند باز ٹیل اینڈ بلے بازوں کو آؤٹ کرنے میں ناکام رہے لیکن ٹاپ آرڈر بلے بازوں نے ان سے زیادہ ٹیم کو مایوس کیا۔
 ہندوستانی ٹیم نے آخری بار بنگلہ دیش میں ۲۰۱۵ء میں دو طرفہ سیریز کھیلی تھی جب مہندر سنگھ دھونی کی قیادت والی ٹیم تیسرے میچ میں واحد جیت کے ساتھ ۳؍ میچوں کی سیریز۱۔۲؍ سے ہار گئی تھی۔ اگر اسپنرس شکیب الحسن اور مہدی حسن معراج ایک بار پھر۱۱؍ سے۴۰؍ اوورس کے درمیان ہندوستانی بلے بازوں کو تنگ کرتے ہیں تو شیر بنگلہ اسٹیڈیم میں تاریخ خود کو دُہرا سکتی ہے۔ اس دوران لوکیش راہل کے علاوہ تمام ہندوستانی بلے بازوں نے جدوجہد کی۔ راہل نے۷۰؍ گیندوں پر۷۳؍ رن کی اننگز کھیلی۔ون ڈے ورلڈ کپ میں ابھی۱۰؍ ماہ باقی ہیں اس کے باوجود  ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ہندوستانی ٹیم کا اپروچ کیا ہوگا۔ ہندوستانی ٹیم گزشتہ کچھ عرصے سے بے خوف بلے بازی کی بات کر رہی ہے لیکن یہ منصوبہ کم ہی میچوں میں آزمایا گیا ہے۔ میرپور کی پچ بیٹنگ کیلئے اچھی نہیں تھی اس کے باوجود اتنی خراب بھی نہیں تھی کہ اس پر صرف۱۸۶؍ رن نہ بنائے جاسکیں۔ اس سیریز کیلئے شبھمن گل اور سنجو سیمسن جیسے نوجوانوں کو آرام دینے کا اس وقت کی سلیکشن کمیٹی کا فیصلہ حیران کن تھا۔
 سلیکٹرس کے سابق چیئرمین چیتن شرما کی جانب سے دی گئی دلیل یہ تھی کہ ان کھلاڑیوں کو دورۂ نیوزی لینڈ کے بعد آرام دیا گیا ہے۔ ہندوستانی ٹاپ آرڈر کھلاڑیوں کے ساتھ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ وہ شروع میں بہت زیادہ ڈاٹ بولز کھیل رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں ہندوستانی ٹیم نے بیٹنگ کے۴۲؍ اوورس میں تقریباً۲۵؍ اوور ڈاٹ بالز کھیلے۔ اگر باقی ۸؍ اوورس کا اضافہ کریں تو ٹیم نے تقریباً۲۰۰؍ گیندوں پر ایک بھی رن نہیں بنایا۔ جدید دورکے  کرکٹ میں جب انگلینڈ تمام فارمیٹس میں جارحانہ انداز میں آل آؤٹ ہو رہا ہے، ہندوستانی ٹیم ایک قدم آگے اور۴؍ پیچھے ہے۔
 راہل کو وکٹ کیپنگ کی ذمہ داری دے کر لچکدار انداز اپنانے کے بجائے، ٹیم نے یہ یقینی بنانے کی کوشش کی کہ راہل  اور شکھر دھون دونوں کو ورلڈ کپ کی پلیئنگ الیون میں کیسے فٹ کیا جائے۔ ہندوستان کے شاندار کھلاڑیوں میں سے ایک سنجو سیمسن کو بھی اس سیریز کیلئے منتخب نہیں کیا گیا تھا اور اپنے آخری ون ڈے میں۹۳؍رن  بنانے والے ایشان کشن ماہر کیپر بلے باز ہونے کے باوجود بینچ پر تھے۔ رجت پاٹیدار اور راہل ترپاٹھی کو اسکواڈ میں منتخب کیا گیا ہے لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ٹیم مینجمنٹ ان نوجوانوں کو کس طرح استعمال کرے گی۔ اگر کوچ راہل دراوڑ اور کپتان روہت شرما نے کوئی سخت قدم نہیں اٹھایا تو ٹیم کو دوبارہ جدوجہد کرنا پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK