محمدسراج اور پنت کےمستقبل پر نگاہیں مرکوز، سرفراز خان اور دیودت پڈیکل بھی دعویدار۔
EPAPER
Updated: January 03, 2026, 11:14 AM IST | New Delhi
محمدسراج اور پنت کےمستقبل پر نگاہیں مرکوز، سرفراز خان اور دیودت پڈیکل بھی دعویدار۔
نیوزی لینڈ کے خلاف یک روزہ سیریز کیلئے ٹیم منتخب کرنا سلیکٹروں کیلئے درد سر بن سکتا ہے۔ کیویز کے خلاف۱۱؍ جنوری سے شروع ہونے والی ۳؍ میچوں کی ون ڈے سیریز کیلئے جب سنیچر کو سلیکٹرز ٹیم انڈیاکے انتخاب کیلئے بیٹھیں گے تو جن ۲؍ کھلاڑیوں پر سب سے زیادہ بحث ہوگی وہ وکٹ کیپر بلے باز رشبھ پنت اور تیز گیند باز محمد سراج ہوں گے۔
جنوبی افریقہ کے خلاف حال ہی میں ون ڈے سیریز جیتنے والی ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کا امکان نہیں ہے، تاہم اجیت آگرکر کی سربراہی میں سلیکشن کمیٹی ۲؍ اہم نکات پر توجہ دے سکتی ہے۔ پہلا نکتہ دوسرے وکٹ کیپر کے طور پر رشبھ پنت کی پوزیشن ہو سکتی ہے کیونکہ ایشان کشن جھارکھنڈ کیلئے مڈل آرڈر میں شاندار کارکردگی دکھا رہے ہیں جبکہ دھرو جریل نے بھی گھریلو کرکٹ میں اتر پردیش کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک بڑی سنچری اسکور کی ہے۔ آگرکر اور ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر کی پہچان ٹیم کمبی نیشن کی بنیاد پر کھلاڑیوں کے انتخاب سے جڑی ہے۔ اسی ٹیم کمبی نیشن کے تحت انہوں نے ٹی۔ ۲۰؍ میچوں کیلئے سنجو سیمسن اور ایشان کشن جیسے اوپننگ بلے بازوں کو منتخب کیا تھا۔
دوسرا اہم پہلو ۳؍ میچوں کی سیریز کیلئےتیز گیند بازوں کا انتخاب ہے۔ ٹی۔ ۲۰؍عالمی کپ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہاردک پانڈیا اور جسپریت بمراہ کو آرام دئیے جانے کا امکان ہے، لیکن یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا سلیکٹرز دیگر ۲؍ تیز گیند بازوں، ہرشت رانا اور عرشدیپ سنگھ کو بھی آرام دیتے ہیں یا نہیں۔ ان دونوں نے حال ہی میں جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں شرکت کی تھی۔
محمد سراج کو حالات کے باعث چمپئنٹرافی کے اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ وہ آسٹریلیا کے خلاف غیر ملکی سیریز میں ٹیم کا حصہ تھے، لیکن جنوبی افریقہ کے خلاف گھریلو سیریز کیلئے انہیں نظرانداز کر دیا گیا۔ انہوں نے موجودہ وجے ہزارے ٹرافی کے ابتدائی ۴؍ مراحل میں بھی شرکت نہیں کی، تاہم امکان ہے کہ وہ حیدرآباد کیلئے آخری ۳؍ مراحل میں سے ۲؍ میچ کھیلیں۔ ۲۰۲۳ء کے ون ڈے ورلڈ کپ تک باقاعدگی سے ٹیم کا حصہ رہنے کے بعد انہیں ۵۰؍ اوور کے فارمیٹ سے باہر رکھنا سمجھ سے بالاتر ہے۔
وہیں وجے ہزارے ٹرافی میں شاندار کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں میں ۲؍ بڑے دعویدار سرفراز خان اور دیودت پڈیکل ہیں۔ تاہم شبھ من گل، روہت شرما اور یشسوی جیسوال کی ٹیم میں جگہ تقریباً یقینی ہونے کے باعث پڈیکل کو موقع دینا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ سرفراز خان نے گھریلو کرکٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن جنوبی افریقہ کے خلاف سنچری اسکور کر کے رتوراج گائیکواڈ پہلے ہی دعویداروں کی فہرست میں ان سے آگے نکل چکے ہیں۔ اگر پانچوں سلیکٹرز موجودہ صورتحال برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ٹیم کے انتخاب سے متعلق ساری بحث بے معنی ثابت ہو سکتی ہے۔