Updated: January 03, 2026, 5:06 PM IST
| Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے وینزویلا میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کرتے ہوئے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس آپریشن میں امریکی فوج کی ایلیٹ یونٹ ڈیلٹا فورس نے مرکزی کردار ادا کیا۔
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آج دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے وینزویلا کے اندر بڑے پیمانے پر فوجی حملے کئے جن کے نتیجے میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورز کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’’امریکہ نے وینزویلا اور اس کے لیڈر صدر نکولس مادورو کے خلاف کامیابی کے ساتھ بڑے پیمانے پر حملے کئے ہیں جنہیں ان کی اہلیہ کے ساتھ نافذ العمل کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا۔‘‘
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، امریکی فوج کی ایک ایلیٹ یونٹ ڈیلٹا فورس نے وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں ایک کارروائی کے دوران مادورو کی گرفتاری میں مرکزی کردار ادا کیا، جس کے بعد انہیں ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا۔ ڈیلٹا فورس، جسے باضابطہ طور پر فرسٹ اسپیشل فورسیز آپریشنل ڈیٹچمنٹ (ڈیلٹا) کہا جاتا ہے، امریکی فوج کی سب سے خفیہ اور تربیت یافتہ یونٹس میں شمار ہوتی ہے۔ اس کا قیام ۱۹۷۷ء میں کرنل چارلس بیک ود نے اس مقصد کے تحت کیا تھا کہ امریکہ کو انسدادِ دہشت گردی اور یرغمالوں کے ریسکیو کی خصوصی صلاحیت حاصل ہو کیونکہ اس وقت واشنگٹن نے عالمی دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے میں اپنی کمزوریوں کو تسلیم کیا تھا۔امریکی اسپیشل آپریشنز کمانڈ کے تحت کام کرنے والی ڈیلٹا فورس ایسے مشن انجام دیتی ہے جن کی تفصیلات اکثر برسوں تک خفیہ رہتی ہیں۔ یہ یونٹ براہِ راست امریکی حکومت کی اعلیٰ سطحوں کے تحت کام کرتی ہے اور انتہائی حساس کارروائیوں کی ذمہ دار ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: وینزویلا: کراکس میں امریکی حملوں کےبعد مادورو نے ہنگامی حالات کا اعلان کیا
ایران سے موغادیشو تک: ابتدائی کارروائیاں
ڈیلٹا فورس پہلی بار ۱۹۸۰ء میں ایران میں امریکی یرغمالیوں کو بچانے کیلئے کئے گئے آپریشن ایگل کلاؤ کے بعد عالمی توجہ کا مرکز بنی۔ اگرچہ یہ مشن ناکام رہا، لیکن اس کے نتیجے میں امریکی خصوصی فوجی منصوبہ بندی میں بڑی اصلاحات کی گئیں۔ ۱۹۸۹ء میں پناما پر امریکی حملے کے دوران، ڈیلٹا فورس نے فوجی حکمراں مینول نوریگیا کی گرفتاری میں اہم کردار ادا کیا۔ ۱۹۹۳ء میں صومالیہ کے شہر موغادیشو میں ہونے والی شدید شہری لڑائی کے دوران بھی ڈیلٹا فورس نے ملیشیا لیڈروں کے خلاف کارروائیاں کیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران میں احتجاج شدید: نیم فوجی اہلکار ہلاک، تہران کا امریکہ پر اشتعال انگیزی کا الزام، موساد سرگرم
۱۱؍ ستمبر کے بعد انسدادِ دہشت گردی میں کلیدی کردار
۱۱؍ ستمبر ۲۰۰۱ء کے حملوں کے بعد، ڈیلٹا فورس امریکہ کی عالمی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کا ایک مرکزی ستون بن گئی۔ اس یونٹ نے افغانستان، عراق، شام اور دیگر خطوں میں نہایت خطرناک مشن انجام دیئے، جن میں شدت پسند نیٹ ورکس کو توڑنا، اعلیٰ عسکریت پسند لیڈروں کو نشانہ بنانا اور یرغمالبں کو بازیاب کرانا شامل ہے۔ ۲۰۱۹ء میں ڈیلٹا فورس نے ایک خفیہ آپریشن میں او بکر البغدادی کی ہلاکت پر منتج ہونے والی کارروائی میں بھی کردار ادا کیا۔
آج، ڈیلٹا فورس امریکی فوج کے سب سے زیادہ خفیہ اور مؤثر ہتھیاروں میں شمار کی جاتی ہے، جسے ایسے مشنز سونپے جاتے ہیں جو روایتی افواج کیلئے حد درجہ حساس یا خطرناک تصور کئےجاتے ہیں۔ یہ یونٹ درستگی، تیز رفتاری اور انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کے ذریعے امریکی انسدادِ دہشت گردی نظریے کو مسلسل شکل دے رہی ہے۔