فلمی دنیا میں سسپنس اور سنسنی سے بھرپور فلموں کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ فلم ’’دِرِیشیم: دی کنکلوژن‘‘ نے عالمی باکس آفس پر ۵۰۰؍کروڑ روپے کی کمائی کا اہم سنگ میل عبور کرلیا ہے۔
EPAPER
Updated: October 14, 2026, 4:02 PM IST | Mumbai
فلمی دنیا میں سسپنس اور سنسنی سے بھرپور فلموں کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ فلم ’’دِرِیشیم: دی کنکلوژن‘‘ نے عالمی باکس آفس پر ۵۰۰؍کروڑ روپے کی کمائی کا اہم سنگ میل عبور کرلیا ہے۔
فلمی دنیا میں سسپنس اور سنسنی سے بھرپور فلموں کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ فلم ’’دِرِیشیم: دی کنکلوژن‘‘ نے عالمی باکس آفس پر ۵۰۰؍کروڑ روپے کی کمائی کا اہم سنگ میل عبور کرلیا ہے۔ فلم کی اس شاندار کامیابی کے درمیان ہدایت کار نے کہانی کے چوتھے حصے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ فی الحال ’’دِرِیشیم ۴‘‘ بنانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ اس اعلان نے فلم کے مداحوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے، کیونکہ اس مقبول سلسلے کی کہانی، پراسرار واقعات، غیر متوقع موڑ اور مرکزی کردار کی ذہانت نے ناظرین کو ہمیشہ اپنی گرفت میں رکھا ہے۔
تجارتی اعداد و شمار کے مطابق اجے دیوگن کی اداکاری سے سجی اس فلم نے ریلیز کے صرف ۱۲؍ دنوں میں دنیا بھر سے تقریباً۸۰ء۵۰۱؍ کروڑ روپے کا مجموعی کاروبار کیا۔ فلم نے ہندوستان میں۵۰ء۵۲۳؍ کروڑ روپے کی خالص کمائی کی جبکہ ہندوستان میں اس کا مجموعی کاروبار ۳۰ء۳۷۸؍ کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ بیرون ملک بھی فلم کو اچھا ردعمل ملا اور وہاں سے تقریباً ۱۱۴؍کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی۔
فلم نے ۲؍ اکتوبر کو سنیما گھروں میں دستک دی تھی اور پہلے ہی دن ۶۲؍ کروڑ روپے کی خالص کمائی کے ساتھ اپنی مضبوط شروعات کی۔ پہلے ہفتے میں فلم کا کاروبار ۵۰ء۲۴۵؍ کروڑ روپے تک پہنچ گیا جبکہ دوسرے ہفتے میں بھی ناظرین کی دلچسپی برقرار رہی۔ خاص طور پر دوسرے ہفتے کے منگل کو فلم نے ہندوستان میں ۵۰ء۸؍کروڑ روپے کی خالص کمائی کی، جو پیر کے مقابلے میں تقریباً ۷ء۴۱؍ فیصد زیادہ تھی۔
فلم کے ہدایت کار ابھیشیک پاٹھک نے واضح کیا ہے کہ ’’دریشیم: دی کنکلوژن‘‘ ہندی سلسلے کی آخری فلم ہے اور فی الحال چوتھے حصے کی کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے۔ ان کے مطابق، کسی کامیاب فلم کے مزید حصے بنانا محض کاروباری کامیابی کی بنیاد پر درست نہیں، بلکہ اس کے لیے کہانی کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔ابھیشیک پاٹھک نے ایک انٹرویو میں کہا کہ فلم کی کہانی اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے اور اسے ایک خوب صورت اور بامعنی انجام دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، اگرچہ کئی لوگ چوتھے حصے کی بات کررہے ہیں اور کہانی کو آگے بڑھانے کے امکانات بھی ہوسکتے ہیں، لیکن ہر سلسلے کو کسی نہ کسی مرحلے پر ختم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ محض مقبولیت کی خاطر کہانی کو غیر ضروری طور پر آگے بڑھایا جائے۔
یہ بھی پڑھئے:رادھیکا آپٹے نے مشہور شخصیت کا مقام برقرار رکھنے کے دباؤ پر سوال اٹھا دیا
’’دریشیم: دی کنکلوژن‘‘ میں اجے دیوگن ایک بار پھر وجے سلگاؤںکر کے کردار میں نظر آرہے ہیں، جو اپنے خاندان کو بچانے اور ماضی کے رازوں کو پوشیدہ رکھنے کے لیے غیر معمولی حکمت عملی اختیار کرتا ہے۔ فلم میں تبو، شریا سرن، رجت کپور، ایشیتا دتہ، مرونال جادھو، جے دیپ اہلاوت اور پرکاش راج بھی اہم کرداروں میں شامل ہیں۔جرائم، تفتیش، خاندانی جذبات اور مسلسل بدلتے حالات پر مبنی اس فلم میں کہانی کو اس انداز میں آگے بڑھایا گیا ہے کہ ناظرین آخری مرحلے تک یہ جاننے کے لیے متجسس رہتے ہیں کہ وجے سالگاؤںکر اپنے خاندان کو مشکلات سے کیسے بچائے گا۔ جے دیپ اہلاوت نے بھی اس فلم کے ذریعے سلسلے میں شمولیت اختیار کی ہے اور ان کا کردار کہانی میں اہم موڑ پیدا کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:آذربائیجان: اسکولوں میں حجاب پر پابندی کیخلاف مظاہرے، ۳۷؍ افراد گرفتار
ہدایت کار کے بیان کے مطابق، ہندی فلمی سلسلے کی کہانی کو تیسرے حصے کے ساتھ مکمل کردیا گیا ہے۔ فلم کی زبردست کمائی کے باوجود بنانے والوں کا زور اس بات پر ہے کہ ناظرین کو ایک مکمل اور اطمینان بخش اختتام دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ فی الحال ’’دِرِیشیم۴‘‘ کے امکانات کو خارج کردیا گیا ہے۔ تاہم، ملیالم زبان کی اصل ’دریشیم‘ سیریز اور اس کے ہندی روپ کی کہانیوں کی سمت الگ ہے، اس لیے دونوں سلسلوں کے مستقبل کو ایک جیسا نہیں سمجھنا چاہیے۔ ہندی فلم کے ہدایت کار کا موجودہ مؤقف واضح ہے کہ’’دِرِیشیم: دی کنکلوژن‘‘ وجے سلگاؤںکر کی کہانی کا اختتام ہے۔
مجموعی طور پر، ’’دِرِیشیم: دی کنکلوژن‘‘ کا دنیا بھر میں۵۰۰؍کروڑ روپے سے زیادہ کا کاروبار اجے دیوگن کے فلمی سفر کی ایک اہم کامیابی ہے۔ لیکن اس کامیابی کے باوجود ہدایت کار ابھیشیک پاٹھک نے واضح کردیا ہے کہ ان کے لیے کہانی کو مناسب انجام دینا، اس کے مزید حصے بنانے سے زیادہ اہم ہے۔