Inquilab Logo Happiest Places to Work

سلیکٹر نے اپنے بیٹے کے لئے میرا کریئر برباد کر دیا

Updated: June 16, 2023, 3:45 PM IST | Hyderabad

کرکٹ سے ریٹائرہونے والے امباتی رائیڈو نے سنسنی خیز الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ سلیکشن کمیٹی کے سابق چیئر مین شیو لال یادو نے ان کا کریئر تباہ کردیا

photo;INN
تصویر :آئی این این

امباتی رائیڈو کرکٹ سے ریٹائر ہو چکے ہیں۔ آئی پی ایل ۲۰۲۳ءمیں انہوں  نے چنئی سپر کنگز کیلئے اپنے کریئر کا آخری میچ کھیلا اور چمپئن بن کر وداعی لی۔ اب ان کے سیاست میں آنے کے خبریں ہیں۔ اس دوران ان کے ان بیان نے سنسنی پیدا کر دی ہے۔ رائیڈو نے الزام لگایا ہے کہ بی سی سی آئی سلیکشن کمیٹی کے   سابق چیئر مین   نے اپنے بیٹے کا کریئر بنانے کیلئے  ان کا کریئر برباد کر دیا۔ انہوں نے سابق چیف سلیکٹر ایم ایس کے پرساد کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔  
 ٹی وی ۔۹(تیلگو )سے بات چیت کرتے ہوئے امباتی رائیڈو نے کہا کہ سابق کرکٹر اور بی سی سی آئی کے سلیکشن کمیٹی کے چیئر مین شیو لال یادو کی وجہ سے میں ٹیم انڈیا کے لئے زیادہ  عرصہ تک نہیں کھیل سکا۔ شیو لال یادو نے اپنے بیٹے کا کریئر بنانے کیلئے مجھے برباد کر دیا۔ 
 امباتی رائیڈو نے مزید کہا کہ’’ جب میں چھوٹا تھا تو تبھی سے حیدرآباد کرکٹ اسوسی ایشن میں سیاست شروع ہوگئی تھی۔ شیو لال یادو کے بیٹے ارجن یادو کو ٹیم انڈیا میں کھلانے کیلئےمجھے پریشان کیا گیا۔ میں ارجن یادو سے بہتر کھیل رہا تھا، اسی لئے انہوں نے مجھے ہٹانے کی کوشش کی۔
 آئی پی ایل ٹیم ممبئی انڈینس کیلئے بھی کھیل چکے امباتی رائیڈو نے کہا کہ’’ میں نے ۰۴۔۲۰۰۳ء میں انڈیا’اے‘ کیلئے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا لیکن ۲۰۰۴ء میں سلیکشن کمیٹی بدل گئی اور شیو لال یادو کے قریبی لوگ اس میں شامل ہو گئے۔ اس لئے مجھے موقع نہیں مل سکا۔ انہوں نے ۴؍سال تک کسی کو مجھ سے بات تک نہیں کرنے دی۔ شیو لال یادو کے چھوٹے بھائی نے بھی مجھے گالیاں تک دیں۔ انہوں نے مجھے ذہنی طور پر ہراساں کرنے کی بھی کوشش کی۔ ‘‘امباتی رائیڈو نے بتایا کہ’’ ٹیم کے دیگر کھلاڑی مجھ سے بات نہیں کرتے تھے۔ بولنے والوں کو ٹیم سے باہر کر دیا گیا۔ اُس وقت میرے ساتھ بہت امتیازی سلوک کیا گیا۔ اچھی کارکردگی کے لئے کرکٹر کو کھیل کے ساتھ ذہنی طور پر بھی صحت مند ہونا چاہیے۔ اس وقت میں بہت دباؤ میں تھا۔ اس لئے مجھے حیدرآباد چھوڑ کر آندھرا پردیش جانا پڑا۔ ‘‘
  امباتی رائیڈو نے آندھرا کرکٹ ٹیم کے لئے کھیلنا شروع کر دیا۔ وہاں بھی انہیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس وقت ایم ایس کے پرساد سے ان کے اختلافات ہو گئے اور وہ دوبارہ حیدرآباد آگئے۔ دریں اثنا، ۲۰۱۰ءمیں آئی پی ایل ٹیم ممبئی انڈینس میں شامل ہونے کے بعد امباتی رائیڈو کے کرکٹ کا کریئر کا گراف بڑھتا ہی چلا گیا۔ 
  واضح رہے کہ ۲۰۱۹ء میں ورلڈ کپ ٹیم  سےامباتی رائیڈو کو آخری وقت میں باہر کر دیا گیا تھا۔  رائیڈو  نےاس پر بھی بہت کچھ کہا۔ بی سی سی آئی حکام نے ان سے ورلڈ کپ کی تیاری کے لئے کہا تھا لیکن اس وقت چیف سلیکٹر ایم ایس کے پرساد نے رائیڈو کے بجائے وجے شنکر کو ترجیح دی تھی۔ اس کے بعد رائیڈو نے 3D ٹویٹ کیا تھا جو موضوع بحث تھا۔امباتی رائیڈو نے سلیکشن نہیں ہونے پر کہا تھا کہ’’ مجھے نمبر ۴؍پر بلے بازی کے لئے تیار کیا گیا تھا۔ اگر میری جگہ اجنکیا رہانے جیسے بلے باز کو موقع دیا جاتا تو میں ناراض نہیں ہوتا لیکن میری جگہ آل راؤنڈر کا انتخاب کیا گیا۔ اس کی وجہ سے مجھے بہت غصہ آیا تھا۔ میں نیوزی لینڈ کے حالات سے اچھی طرح واقف تھا اور مجھے لگا تھا کہ میں وہاں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرسکوںگا لیکن مجھے نظر انداز کیا گیا۔میں کسی پر ذاتی طور پر الزام نہیں عائد کررہا ہوں بلکہ مھے لگتا ہے کہ میرے ساتھ نان انصافی کی گئی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK