انگلینڈ میں پاکستانی اوپنر کی جانب سے سنچری نہیں بنانے کا سلسلہ ختم

Updated: August 08, 2020, 3:10 AM IST | Manchester

مانچسٹر میں انگلینڈ کے خلاف شان مسعود نے سنچری بناکراس قحط کو ختم کیا۔ ان سے پہلے سعید انور نے ۱۹۹۶ء میں سنچری بنائی تھی۔

Shan Masood Photo: INN
شان مسعود۔ تصویر: آئی این این

 انگلینڈ میں پاکستانی اوپنر کی سنچری کا قحط ختم ہوگیا۔شان مسعود ۲۴؍ سال بعدیہ کارنامہ انجام دینے والے کھلاڑی بن گئے۔ انہوں نے مسلسل ۳؍فیگر اننگز کھیلنے والے پاکستانی بلے بازوں کی فہرست میں بھی اپنا نام درج کروالیاہے۔انہیں اولڈ ٹریفورڈ میں سنچری بنانے والے پاکستان کے دوسرے افتتاحی بلے باز کااعزاز بھی حاصل ہوگیا۔ اولڈ ٹریفورڈ ٹیسٹ میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مہمان ٹیم کو بحران سے نکالنے والے شان مسعود نے کئی ریکارڈ اپنے نام کئے ہیں ۔۲۴؍سال بعد کسی پاکستانی اوپنر نے انگلینڈ میں سنچری بنائی ہے۔اس سے قبل سعید انور نے۱۹۹۶ء میں اوول کے میدان میں ۱۷۶؍رن کی اننگز کھیلی تھی۔کسی پاکستانی اوپنر کی جانب سے ۲۰۰؍سے زائد گیندیں کھیلنے کا موقع بھی ۲۴؍سال بعد آیا۔ اس سے قبل سعید انور نے مذکورہ بالا اننگز میں ۲۶۴؍گیندکھیلی تھیں ۔
 شان مسعود نے مسلسل ۳؍ٹیسٹ سنچریاں بنانے والے پاکستانی بلے بازوں کی فہرست میں بھی اپنا نام درج کروا لیاہے۔اوپنر نے سری لنکا اور بنگلہ دیش کیخلاف ہوم سیریز میں تھری فیگر اننگز کھیلنے کے بعد اب اولڈ ٹریفورڈ میں یہ سنگ میل عبور کیا۔اس سے قبل ظہیر عباس نے۱۹۸۲ءمیں ہندوستان،مدثر نذر نے اگلے سال اسی حریف، محمد یوسف نے۲۰۰۶ء میں ویسٹ انڈیز کیخلاف مسلسل ۳؍سنچریاں اسکور کی تھیں ۔ پاکستانی ٹیم کے بیٹنگ کوچ یونس خان نے ۲۰۱۴ءمیں آسٹریلیا اور ہیڈ کوچ و چیف سلیکٹر مصباح الحق نے بھی اسی سال آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کیخلاف تھری فیگر اننگز کھیلی تھیں ۔
  شان مسعود یہ اعزاز حاصل کرنے والے چھٹے پاکستانی بلے باز ہیں ۔وہ اولڈ ٹریفورڈ میں سنچری بنانے والے تیسرے پاکستانی اور دوسرے افتتاحی بلے باز ہیں ۔اس سے قبل انضمام الحق نے۲۰۰۱ءاور بطور اوپنر عامر سہیل نے۱۹۹۲ءمیں وہاں تھری فیگر اننگز کھیلی تھیں ۔ یاد رہے کہ پاکستان انگلینڈ میں کوئی ایسا ٹیسٹ نہیں ہارا جس میں کسی اوپنر نے سنچری بنائی ہو۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK