Inquilab Logo Happiest Places to Work

آج ہندوستان اور انگلینڈ کے درمیان تیسرا اور فیصلہ کن مقابلہ

Updated: July 19, 2026, 12:59 PM IST | London

ٹیم انڈیا لارڈز میں ۲۲؍برس بعد ون ڈے فتح اور سیریز جیتنے کے ارادے سے میدان میں اترے گی۔

India and England will clash at Lord`s in the decider of the One-Day International series. Photo: INN
یکروزہ سیریز کے فیصلہ کن مقابلے میں لارڈز کے میدان پر ہندوستان اور انگلینڈ ٹکرائیں گے۔ تصویر: آئی این این

ہندوستان اتوار کو تاریخی لارڈز میدان میں انگلینڈ کے خلاف تیسرے اور فیصلہ کن یک روزہ بین الاقوامی میچ میں ۲۲؍برس بعد فتح حاصل کرنے اور سیریز اپنے نام کرنے کے مقصد سے میدان میں اترے گا۔ کارڈف میں انگلینڈ کی شاندار واپسی کے بعد ۳؍ میچوں کی سیریز ایک ایک سے برابر ہے اور اب فیصلہ کن مقابلہ لارڈز میں کھیلا جائے گا۔ اگرچہ لارڈز ہندوستان کو ۱۹۸۳ء کے عالمی کپ میں کپل دیو کی قیادت میں فتح اور ۲۰۰۲ء کی نیٹ ویسٹ ٹرافی جیتنے کے بعد سورو گانگولی کی شرٹ لہرانے جیسے ناقابل فراموش لمحات دے چکا ہے، لیکن ٹیم انڈیا نے ۲۰۰۴ء کے بعد اس میدان پر کوئی ون ڈے میچ نہیں جیتا۔ 
ہندوستان کو امید ہوگی کہ اس کے تجربہ کار بلے باز اہم موقع پر ذمہ داری نبھائیں گے۔ روہت شرما کا اس سیریز میں اب تک مظاہرہ توقعات کے مطابق نہیں رہا، تاہم دباؤ والے مقابلوں میں ان کی صلاحیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ دوسری جانب وراٹ کوہلی نے کارڈف میں نصف سنچری بنا کر فارم میں واپسی کے آثار دکھائے ہیں۔ اگر وہ ایک اور ۵۰؍ سے زائد رنوں کی اننگز کھیلتے ہیں تو انگلینڈ کے خلاف ون ڈے میں سب سے زیادہ مرتبہ ۵۰؍سے زائد رن بنانے والے ہندوستانی بلے باز کے طور پر روہت شرما کی برابری کر لیں گے۔

یہ بھی پڑھئے: کیا لارڈز روہت شرما کے ون ڈے کریئر کا آخری باب ثابت ہوگا؟

ادھر انگلینڈ کی امیدیں جو روٹ سے وابستہ ہوں گی، جنہوں نے مسلسل ۵؍ ون ڈے اننگز میں ۵۰؍یا اس سے زیادہ رن بنائے ہیں۔ کارڈف میں ان کی ناٹ آؤٹ ۹۹؍ رنوں کی اننگز نے انگلینڈ کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ 
فیصلہ کن مقابلے میں جو روٹ اور جسپریت بمراہ کے درمیان مقابلہ بھی خاص توجہ کا مرکز ہوگا۔ اس سیریز میں روٹ نے ہندوستانی تیز گیندباز کا کامیابی سے سامنا کیا ہے، تاہم بمراہ اس بار حالات بدلنے کی کوشش کریں گے۔ ہندوستانی ٹیم کو پلیئنگ الیون کے انتخاب میں بھی مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ کے ایل راہل کی فٹنس پر تاحال سوالیہ نشان برقرار ہے۔ گزشتہ ایک برس کے دوران ون ڈے کرکٹ میں ان کی عمدہ کارکردگی انہیں اہم کھلاڑی بناتی ہے، بشرطیکہ وہ مکمل فٹ قرار پائیں۔ دوسری جانب آل راؤنڈر واشنگٹن سندر کی عدم موجودگی میں ٹیم کو توازن برقرار رکھنے کے لئے حکمت عملی مرتب کرنا ہوگی۔ انگلینڈ کارڈف کی فتح اور ہوم کنڈیشنز کے اعتماد کے ساتھ میدان میں اترے گا جبکہ ہندوستان حالیہ برسوں میں انگلینڈ کے خلاف اپنی بہتر دوطرفہ کارکردگی سے حوصلہ حاصل کرے گا۔ ہندوستان کے لئے یہ کامیابی صرف ایک اور غیرملکی سیریز جیتنے تک محدود نہیں ہوگی بلکہ لارڈز میں ۲؍ دہائیوں سے جاری ناکامیوں کا سلسلہ بھی ختم ہو جائے گا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK