ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نےامریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دستخط کو بے وقعت قرار دیا، ساتھ ہی امریکہ پر ایم او یو کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا، ساتھ ہی کہا کہ جبر، آمریت اور سفاکی امریکی عقیدے اور نظریے کے لازم و ملزوم اجزاء ہیں۔
EPAPER
Updated: July 19, 2026, 9:06 PM IST | Tehran
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نےامریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دستخط کو بے وقعت قرار دیا، ساتھ ہی امریکہ پر ایم او یو کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا، ساتھ ہی کہا کہ جبر، آمریت اور سفاکی امریکی عقیدے اور نظریے کے لازم و ملزوم اجزاء ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے سنیچر کو امریکہ پر الزام لگایا کہ اس نے دونوں ممالک کے صدور کی جانب سے دستخط کردہ مفاہمت کی یادداشت کی بار بار خلاف ورزی کی ہے، اور کہا کہ ان مبینہ خلاف ورزیوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دستخط مکمل طور پر بے کار اور بے وقعت ہیں۔خامنہ ای نے امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس (X) پر ایک بیان میں کہا،’’ شیطان اعظم (امریکہ) کی طرف سے ایران اور امریکہ کے صدور کے درمیان دستخط شدہ ایم او یو کی بار بار کی جانے والی خلاف ورزیوں نے ایک بنیادی حقیقت کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے،امریکی صدر کے دستخط مکمل طور پر بے وقعت اور اعتبار سے عاری ہیں۔‘‘
انھوں نے مزید کہا، ’’جبر، آمریت اور سفاکی امریکی عقیدے اور نظریے کے لازم و ملزوم اجزاء ہیں۔خامنہ ای نے خبردار کیا کہ چونکہ ’’ دشمن امریکہ تنازع کو بڑھاوا دینے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ایران کو مزید بھاری اخراجات اور ذلت کا سامنا کرنا پڑے، تاہم اسے یہ جان لینا چاہیے کہ ایرانی عوام اور ’’مزاحمتی محاذ‘‘ نے اس کے لیے ’’ناقابلِ فراموش سبق‘‘ تیار رکھے ہیں۔مزید برآں انھوں نے کہا، ’’اس موقع پر بنیادی ترین لازمی امور میں سے ایک عوام کے تمام طبقات اور حکام کے درمیان مقدس اتحاد کو برقرار رکھنا اور ہمارے پیارے ایران کے وقار اور خودمختاری کا تحفظ کرنا ہے، خاص طور پر مجرم اور مکار دشمن امریکہ کے مقابلے میں۔‘‘
اس کے علاوہ سپریم لیڈر نے مزید کہا، ’’حالیہ دنوں میں جنوبی علاقوں میں اسلامی جنگجوؤں کی بہادری اور عوام کی ہمت ایرانی قوم کی جانب سے دشمن امریکہکے لیے ناقابلِ فراموش اسباق کی مثالیں ہیں۔‘‘ علاوہ ازیں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی قومی اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے ایکس پر لکھا، ’’اس تاریخی موقع پر کامیابی کی کنجی مقدس اتحاد کے تقاضوں پر عمل پیرا ہونا اور اختلاف اور تقسیم سے گریز کرنا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: مستقبل کی فلسطینی ریاست خطرہ میں، ۲؍ ممالک کی سابق سربراہوں کا انتباہ
واضح رہے کہ اس سے قبل، ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا تھا کہ تہران نے ’’امریکہ کی جانب سے اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی‘‘کے بعد ایم او یو کے تحت اپنی وابستگی معطل کر دی ہے۔ دریں اثناء مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے، جہاں امریکہ اور ایران ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر حملوں کا تبادلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ذہن نشین رہے کہ یہ فوجی کشیدگی پاکستان کی ثالثی میں جون میں دستخط شدہ مفاہمت کی یادداشت پر دونوں ممالک کے صدور کے متفق ہونے کے باوجود آئی ہے، جبکہ اس یادداشت کا مقصد جنگ ختم کرنا اور دیرپا امن معاہدہ تک پہنچنا تھا۔