شدید گرمی سے۱۵؍فیصد مرغیوں کے مرنے سے انڈوں کی پیداوار میں کمی آئی ہے، تھوک بازار میں ۱۰۰؍انڈا ۷۸۰؍روپےمیں اور خردہ بازار میں ۸؍سے ۱۰؍روپےمیں فی انڈا فروخت ہورہاہے،پیداوار میں اوسطاً ۱۵؍ فیصد کی کمی۔
امسال موسم گرما میں اوسط درجۂ حرارت میں تقریباً ۱۵؍ڈگری کا اضافہ ہونے سے بڑی تعدادمیں مرغیوں کے مرنے کی اطلاع آئی ہےجس کی وجہ سے انڈے کی پیداوار میں کمی آئی ہےاور انڈےکی قیمت میں اضافہ ہو ا ہے۔ جوانڈا ایک سے ڈیڑھ مہینے پہلے ۶؍ سے ساڑھے ۶؍روپے میں فروخت ہو رہا تھا وہ اب۸ ؍ سے ۱۰؍روپے میں مل رہا ہے جس سے عام صارف کے متاثر ہونے کے علاوہ انڈے کےکاروباری بھی پریشان ہیں ۔ پیداوار کے کم ہونےکے علاوہ چکن فیڈ مثلاً سویابین اور مکئی وغیرہ کے مہنگے ہونے سے بھی انڈے کی قیمت بڑھی ہے ۔
شدید گرمی میں مرغیوں کے مرنے سے، انڈے دینے کیلئے موزوں مرغیوں کی کمی ہوگئی ہے ۔ اس کے نتیجے میں ریاست میں انڈوں کی پیداوار میں اوسطاً ۱۵؍ فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس لئے ممبئی اور پونے وغیرہ میں انڈوں کی خردہ قیمت ۸؍ سے ۱۰؍روپے تک پہنچ گئی ہے ۔ چکن فیڈ جو ۲۴؍ سے ۲۶؍روپے فی کلو دستیاب تھی وہ فی الحال ۳۱؍ سے ۳۲؍ روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے ۔ سویابین کی قیمت ۶۵؍ہزار روپے فی ٹن اور مکئی کی قیمت ۲۷؍روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے ۔ پیداواری لاگت میں یہ اضافہ چکن فیڈ کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے ہوا ہے ۔
ناگپاڑہ پر واقع ایگز کارنر کے مالک مصطفیٰ کھیر والا نے انقلاب کو بتایا کہ ’’ایک توگرمی کی وجہ سے پیداوار میں ہونےوالی کمی سے انڈوںکی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ دوسرے مرغیوں کے چارے سویابین اور مکئی وغیرہ کی قیمتوں کے آسمان چھو نے سے بھی قیمتیں بڑھی ہیں ۔‘‘
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’ ایک ڈیڑھ ماہ قبل ۱۰۰؍انڈے کی تھوک بازار میں ۶۰۰؍ سے ساڑھے ۶؍سوروپے قیمت تھی جبکہ آج اس کی قیمت ۷۸۰؍ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ جس کی وجہ سے خردہ بازار میں انڈے کی قیمت ۹؍سے ۱۰؍روپے تک پہنچ گئی ہے ۔‘‘
چرنی روڈ پر واقع وائس آف انڈیا ریسٹورنٹ کے مالک معظم دبیر نے بتایا کہ ’’ ہمارے ہوٹل میں یومیہ ۷۰۰؍ سے ۸۰۰؍ انڈوںکی ضرورت ہوتی ہے ۔ آج کی تاریخ میں ۹۰۰؍روپے سیکڑہ کے حساب سے انڈے مل رہے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں انڈے سے تیا رکئے جانے والے پکوان کی قیمتوں میں ۱۰؍فیصد کا اضافہ کرنا پڑا۔ ‘‘
مورلینڈروڈ ،نیانگر میں واقع حسینہ ملک سینٹر کے مالک شوکت ناگوری نے بتایا کہ ’’ انڈوں کی قیمتوںمیں اضافہ ہونے سے گاہکوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے ۔فی الحال میں ۸؍روپے میں انڈا فروخت کر رہا ہوں لیکن اس میں مجھے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ہے کیونکہ تھوک میں اسی قیمت پر انڈا مل رہا ہے لیکن گاہکوں کی سہولت کیلئے میں نے قیمت نہیں بڑھائی ہے ۔‘‘
پولٹری پروڈیوسر شتروگھن جادھو کے مطابق ’’مہاراشٹر اور دیگر ریاستوں میں ایک ہی وقت میں مرغیوں کی زیادہ اموات کی وجہ سے چوزوں کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے ۔ اس سے پہلے ہمیں تقریباً دو سے تین ماہ میں چوزے مل جاتے تھے اب چوزوں کیلئے تقریبا چار سے پانچ ماہ انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک چوزے کی اوسط قیمت ۵۱؍ روپے ہے۔ پولٹری ہاؤس میں لانے کے بعد، مسلسل ٹیکہ کاری اور اچھی دیکھ بھال کے بعد، یہ پانچ ماہ کے بعد انڈے دینا شروع کر دیتا ہے۔جس کی وجہ سے انڈوں کی شدید قلت ہے۔ مرغیوں کی تعداد میں ۱۵؍ فیصد کمی کے ساتھ انڈوں کی پیداوار میں بھی ۱۵؍ فیصد کمی آئی ہے ۔اس وجہ سے اگلے چند ماہ تک انڈوں کی قیمتیں بلند رہنے کا امکان ہے ۔‘‘
اس سلسلےمیںنیشنل ایگز کوآرڈینیشن کمیٹی پونے ڈویژن کے صدر شیام بھگت نے کہاکہ ’’ بیرونی ریاستوں سے آنے والے انڈوں کی مقدار بھی کم ہوئی ہے ۔ فی الحال کسانوں کو ۷؍ سے ۷؍روپے ۱۰؍پیسے میں فی انڈا مل رہا ہے ۔ ممبئی اور پونے میں صارفین کو خردہ بھائو میں ۸؍ سے ۱۰؍روپےمیں انڈا مل رہا ہے۔‘‘