• Thu, 29 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اوما کاشوی ڈبلیو پی ایل کی نیلامی میں فروخت ہونے والی سب سے کم عمر کھلاڑی

Updated: October 29, 2026, 8:09 PM IST | Mumbai

ہندوستانی خواتین کرکٹ میں ۱۵؍ سالہ اوما کاشوی نے تاریخ رقم کردی ہے۔ کرناٹک سے تعلق رکھنے والی اس نوجوان آل راؤنڈر کو ویمنز پریمیئر لیگ (ڈبلیو پی ایل) ۲۰۲۷ءکی نیلامی میں دہلی کیپیٹلز نے ۱۰؍ لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر خرید لیا۔

Uma Kashvi.Photo;X
اوما کاشوی۔ تصویر:ایکس

ہندوستانی خواتین کرکٹ میں ۱۵؍ سالہ اوما کاشوی نے تاریخ رقم کردی ہے۔ کرناٹک سے تعلق رکھنے والی اس نوجوان آل راؤنڈر کو ویمنز پریمیئر لیگ (ڈبلیو پی ایل)  ۲۰۲۷ءکی نیلامی میں دہلی کیپیٹلز نے ۱۰؍ لاکھ روپے کی بنیادی قیمت پر خرید لیا۔ اس طرح وہ ڈبلیو پی ایل کی تاریخ میں نیلامی کے ذریعے منتخب ہونے والی سب سے کم عمر کھلاڑی بن گئیں۔ ۲۸؍ اکتوبر کو کوچی میں ہونے والی نیلامی کے وقت اوما کی عمر ۱۵؍ سال اور ۲۰۲؍ دن تھی۔ انہوں نے دِیا یادو کا سابقہ ریکارڈ توڑا، جو ۱۶؍ سال کی عمر میں نیلامی کے ذریعے ڈبلیو پی ایل ٹیم کا حصہ بنی تھیں۔ اوما کی یہ کامیابی ان کی مسلسل محنت، جونیئر کرکٹ میں شاندار کارکردگی اور مستقبل کی صلاحیتوں کا اعتراف ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:تمنا بھاٹیہ نے انو کپور کے’’دودھیا بدن‘‘ والے تبصرے پر خاموشی توڑی

اوماکاشوی اپریل ۲۰۱۱ء کو پیدا ہوئیں اور کرناٹک کے علاقے بیلندور سے ان کا تعلق ہے۔ انہوں نے تقریباً ساڑھے سات سال کی عمر میں اپنے گھر کے قریب ایک کرکٹ اکیڈمی میں تربیت شروع کی۔ بچپن ہی سے ان کی بیٹنگ میں غیر معمولی صلاحیت دکھائی دینے لگی تھی۔ محض ۱۲؍سال کی عمر میں انہوں نے بنگلورو کے ایک جونیئر کلب سطح کے بین المدارس ٹورنامنٹ میں ناقابلِ شکست۲۱۷؍ رنز بنائے، جس کے بعد ان کی صلاحیتوں پر توجہ بڑھنے لگی۔ نو سال کی عمر میں انہیں انڈیا نیپون کپ میں ینگ ٹیلنٹ ایوارڈ بھی ملا۔ اس موقع پر انہیں ویدا کرشن مورتی، جمائمہ روڈریگز، دیپتی شرما اور شرینکا پاٹل جیسی بھارتی کرکٹرز کے ساتھ ڈریسنگ روم شیئر کرنے کا موقع ملا۔ اس تجربے نے کم عمری میں انہیں اعلیٰ سطح کی خواتین کرکٹ کو قریب سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔ 
اوما کاشوی کی بیٹنگ کا سب سے نمایاں مظاہرہ  ۲۶۔۲۰۲۵ءکے خواتین کے انڈر۱۵؍ایک روزہ ٹورنامنٹ میں سامنے آیا، جہاں وہ سب سے زیادہ رنز بنانے والی کھلاڑی رہیں۔ انہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں ۵۱۶؍ رنز، ۱۷۲؍ کی اوسط سے بنائے، جس میں تین سنچریاں اور ایک نصف سنچری شامل تھیں۔ ان کی ایک یادگار اننگز ۱۰؍ جنوری ۲۰۲۶ء کو منی پور کے خلاف سامنے آئی، جب انہوں نے صرف ۶۶؍گیندوں پر ناٹ آؤٹ ۱۵۸؍ رنز بنائے۔ اس اننگز میں ۲۳؍ چوکے اور سات چھکے شامل تھے۔ ان کی جارحانہ بیٹنگ کی بدولت کرناٹک نے ۳۵؍ اوورز میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر ۳۲۱؍ رنز بنائے اور مقابلہ  ۲۷۵؍ رنز سے جیت لیا۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُما محض دفاعی انداز میں کھیلنے والی بیٹر نہیں، بلکہ ضرورت پڑنے پر تیزی سے رنز بنانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:نوواک جوکووچ کی باسل میں واپسی، مشکل حالات کا سامنا کرتے ہوئے کورٹ پر اترے

اوما دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرتی ہیں اور دائیں ہاتھ سے آف اسپن بولنگ بھی کرتی ہیں۔ ان کی آل راؤنڈ صلاحیت انہیں ٹیم کے لیے مزید کارآمد بناتی ہے۔ انہوں نے کرناٹک کی انڈر۱۵؍ ٹیم کی کپتانی کی اور ریاستی خواتین کی ٹی ۲۰؍ لیگ مہارانی ٹرافی میں بنگلورو بلاسٹرز کی قیادت بھی کی۔ سینئر کھلاڑیوں کے خلاف کھیلنے سے انہیں زیادہ تجربہ حاصل ہوا اور کھیل کے مختلف حالات میں فیصلے کرنے کا موقع ملا۔جون اور جولائی  ۲۰۲۶ء میں سری لنکا کی انڈر ۱۹؍ ٹیم کے خلاف ہندوستان کی انڈر ۱۹؍ ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے اُما نے تین ٹی ۲۰؍مقابلوں میں چار وکٹیں حاصل کیں، جبکہ دو ایک روزہ میچوں میں مزید دو وکٹیں لیں۔ اکتوبر  ۲۰۲۶ء میں کرناٹک کی انڈر ۱۹؍ ٹی ۲۰؍ ٹرافی کے کوارٹر فائنل میں ودربھ کے خلاف انہوں نے چار اوورز میں ۱۸؍ رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں۔ اس میچ میں کرناٹک نے چھ رنز سے کامیابی حاصل کی اور اُما کو ان کی کارکردگی پر بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ 
ڈبلیو پی ایل ۲۰۲۷ء کی نیلامی میں دہلی کیپیٹلز نے اُما کاشوی کو ان کی بنیادی قیمت ۱۰؍ لاکھ روپے میں خریدا۔ ان کے لیے کسی دوسری فرنچائز نے بولی نہیں لگائی، لیکن اس انتخاب نے انہیں لیگ کی تاریخ میں سب سے کم عمر کھلاڑی کے طور پر نمایاں کردیا۔دہلی کیپیٹلز کی جانب سے انہیں منتخب کرنا اس بات کی علامت ہے کہ فرنچائز ان کی موجودہ کارکردگی کے ساتھ مستقبل میں ترقی کے امکانات کو بھی اہمیت دے رہی ہے۔ ڈبلیو پی ایل میں تجربہ کار ملکی اور غیر ملکی کھلاڑیوں کے ساتھ تربیت اور کھیلنے کا موقع نوجوان کرکٹرز کے لیے اپنی صلاحیتیں نکھارنے میں مددگار ہوسکتا ہے۔ تاہم، اتنی کم عمر میں لیگ میں جگہ ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ فوری طور پر حتمی الیون میں کھیلنے کا موقع بھی مل جائے گا۔  اوما کے لیے ایک اہم سوال ان کی دستیابی کا بھی ہے۔ اطلاعات کے مطابق وہ  ہندوستان کے انڈر ۱۹؍ ورلڈ کپ کے منصوبوں کا حصہ ہیں، جبکہ مجوزہ ٹورنامنٹ کا وقت ڈبلیو پی ایل کے شیڈول سے متصادم ہوسکتا ہے۔ اسی وجہ سے ان کا ڈبلیو پی ایل میں فوری طور پر کھیلنا یقینی نہیں ہے۔ اگر ان کی انڈر ۱۹؍ ذمہ داریاں لیگ کے ساتھ ایک ہی عرصے میں آتی ہیں تو ممکن ہے کہ وہ دہلی کیپیٹلز کے لیے ابتدائی مقابلوں میں دستیاب نہ ہوں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK