دھون کی کپتانی میں ٹیم انڈیا شکھر پر پہنچنے کی کوشش کرےگی

Updated: November 25, 2022, 1:01 PM IST | Agency | Auckland

آج سے نیوزی لینڈ کیخلاف یکروزہ سیریز کا آغاز،ہندوستان عالمی کپ۲۰۲۳ء کی تیاری شروع کرےگی،میزبان ٹیم بھی ٹی۔۲۰؍سیریز کی شکست کا بدلہ لینے کیلئے بے قرارہوگی

Team India captain Shikhar Dhawan and New Zealand captain Kane Williamson spotted with the Cruze trophy..Picture:PTI
ٹیم انڈیا کےکپتان شکھر دھون اور نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن کو یکروزہ ٹرافی کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویر :پی ٹی آئی

شکھر دھون کی کپتانی میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم جمعہ کو نیوزی لینڈ کے خلاف ۳؍ میچوں کی یکروزہ سیریز کے پہلے میچ سے ون ڈے ورلڈ کپ ۲۰۲۳ءکی تیاریوں کا آغاز کرےگی۔ہندوستان میں منعقد ہونے والے ورلڈ کپ میں ایک سال سے بھی کم وقت رہ گیا ہے اور ہندوستانی ٹیم، جس نے میزبان کے طور پر ٹورنامنٹ کیلئے کوالیفائی کیا ہے، اس سیریز کے ساتھ اپنی  ٹیم کو حتمی شکل  دینے  میں مصروف ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ ٹی ۔۲۰؍ اور ٹیسٹ اسکواڈ سے باہر ہونے والے ۳۶؍سالہ دھون کو سیریز  کیلئے کپتانی سونپی گئی ہے۔ تجربہ کار بائیں ہاتھ کے بلے باز نے ورلڈ کپ کے ۱۰؍میچوں میں ۵۳ء۷؍کے اوسط سے ۵۳۷؍رن بنائے ہیں اور وہ اگلے ٹورنامنٹ کیلئے بھی ہندوستان کے پہلی پسندیدہ اوپنر ہوں گے۔ دھون نے تاہم پچھلے چند ون ڈے سیریز میں جدوجہد کی ہے اور اگر وہ نیوزی لینڈ کے خلاف اچھی کارکردگی نہیں دکھاتے ہیں تو ٹیم انتظامیہ نوجوان کھلاڑی شبھمن گل کو اوپنر کے طور پر موقع دے سکتی ہے۔ شبھمن گل نے اس سال ۵۰؍ اوور کے کرکٹ میں ۷۵ء۷۱؍ کے اوسط  سے ۵۳۰؍رن بنائے ہیں۔ اس سیریز میں اسی طرح کی کارکردگی انہیں ورلڈ کپ میں بطور سلامی بلے بازدعویدار بنا سکتی ہے۔ روہت شرما، وراٹ کوہلی، لوکیش راہل، رویندرا جڈیجا اور جسپریت بمراہ جیسے بڑے کھلاڑیوں کو بھلے ہی اس سیریز میں آرام دیا گیا ہو لیکن ہندوستان کے پاس ان کھلاڑیوں  کے متبادل کو موقع دینے کا سنہری موقع ہے۔ جہاں شریس ائیر، رشبھ پنت اور سنجو سیمسن ٹیم کے مڈل آرڈر کو مضبوطی فراہم کریں گے وہیں دیپک ہڈا بلے بازی میں  تعاون دینے  کے ساتھ ساتھ ٹیم کے چھٹے  متبادل گیندباز ثابت ہوسکتےہیں۔ ہندوستان کے پاس واشنگٹن سندر، شاردول ٹھاکر اور دیپک چاہر کی شکل میں گیند باز موجود ہیں جو بلے بازی  میں بھی  مضبوطی  فراہم کرتے ہیں۔ اس سیریز میں تیز گیندباز عمران ملک کے بھی یکروزہ کریئر کے آغاز  کا  امکان ہے۔دوسری جانب آئی سی سی کی ٹاپ ون ڈے ٹیم نیوزی لینڈ نے بھی مارٹن گپٹل کی جگہ فن ایلن کو اپنا ون ڈے اوپنر بنا کر ورلڈ کپ کی تیاریوں کا اشارہ  دے دیا ہے۔ ٹی۔۲۰؍ سیریز ایک۔صفر سے ہارنے والی نیوزی لینڈ کی ٹیم ۵۰؍ اوور والی سیریز جیت کر دوبارہ فارم حاصل کرنے کی ہرممکن کوشش کرے گی۔کپتان کین ولیمسن بھی ٹیم میں واپس آگئے ہیں اور نیوزی لینڈ کے مڈل آرڈر کو مضبوط کرنے کیلئے وکٹ کیپر ٹام لاتھم کے ساتھ شامل ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی تیزگیندباز میٹ ہنری کو بھی ون ڈے ٹیم میں بلایا گیا ہے۔  آکلینڈ کے ایڈن پارک کی چھوٹی باؤنڈری کی وجہ سے پہلے ون ڈے میں بڑے اسکور کا امکان ہے۔ واشنگٹن سندر اور ہڈا کی اسپن جوڑی نیوزی لینڈ کے ۴؍ بائیں ہاتھ کے  بلے بازوں کو چیلنج کر سکتی ہے اور ہندوستانی بلے بازی کو مضبوطی بھی مل سکتی ہے۔  ہندوستان نے اپنے آخری ۵؍ ون ڈے میں سے ۴؍ جیتے ہیںجبکہ نیوزی لینڈ نے اپنے آخری ۵؍ میں سے ۳؍ میں شکست کھائی ہے۔ جب ہندوستان نے ۲۰۲۰ءمیں نیوزی لینڈ کا دورہ کیا تو میزبان ٹیم نے سیریز  تین۔صفر سے جیتی تھی۔ شکھر دھون کی قیادت میں نوجوان کھلاڑی اس نتیجے کو اپنے حق میں کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK